عمران خان اور سمیع الحق کا غیر فطری اتحاد

December 7, 2017

۔۔۔۔۔**  تحریر : نوید نسیم  **۔۔۔۔۔

عام انتخابات جوں جوں قریب آرہے ہیں، سیاسی جماعتوں کے اتحاد اور سیاسی رہنماؤں کی جماعتیں بدلنے کا موسم شروع ہوگیا ہے، سردیاں آتے ساتھ ہی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نیازی نے بھی انتخابی محرکات کو بھانپتے ہوئے خیبرپختونخوا میں جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق سے انتخابی الحاق کرلیا۔

مولانا سمیع الحق کے ساتھ اتحاد پر عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور لبرل و پروگریسیو سوچ رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ عمران خان نے دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک کے مولانا سمیع الحق سے اتحاد کرکے ثابت کردیا کہ عمران خان طالبان کے حامی ہیں، جن کی پرورش اور جن کے کئی اہم لیڈروں کا تعلق مولانا سمیع الحق کے مدرسے سے تھا، جہاں سے انہوں نے انتہاء پسندی کی تربیت حاصل کی۔

بانی طالبان امیر ملا محمد عمر اور جلال الدین حقانی سمیت متعدد رہنماؤں کا تعلق پشاور کے قریب واقع مدرسہ دارالعلوم حقانیہ سے تھا اور اس بارے میں آج تک مولانا سمیع الحق کی طرف سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ عمران خان کو ایسی کیا ضرورت محسوس ہوئی کہ انہوں نے سخت گیر مولانا سمیع الحق کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا؟۔ ایسے وقت میں جبکہ ملکی سیاست میں پانامہ لیکس کے بعد حکومت ہچکولے کھارہی ہے اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے اگلے انتخابات کیلئے جوڑ توڑ شروع ہوچکا ہے، عمران خان کا مولانا سمیع الحق سے انتخابی الحاق یقینی طور پر اگلے انتخابات کی پیش بندی کے طور پر کیا گیا ہوگا۔

آئندہ عام انتخابات کیلئے ہی جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے متحدہ مجلس عمل کو ایک بار پھر سے فعال کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں، جس کا ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق مولانا سمیع الحق حصّہ نہیں ہوں گے۔

ایسے میں عمران خان کا یہ اقدام یقینی طور پر متوقع طور پر خیبرپختونخوا میں ایم ایم اے سے تگڑا انتخابی مقابلہ ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے، عمران خان یقیناً جانتے ہیں کہ مولانا سمیع الحق ماضی میں ایم ایم اے کا اہم حصّہ تھے اور اگر وہ جے یو آئی ایس سے اتحاد کرلیتے ہیں تو اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ مولانا سمیع الحق ایم ایم اے کا حصّہ نہیں بنیں گے اور دوسرا کے پی کے میں تحریک انصاف کو ان کی جماعت کی حمایت حاصل ہوجائے گی، جو کہ انتخابات میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ عمران خان کیلئے انتہاء پسندی اور دہشتگردی کو ختم کرنے سے زیادہ ائندہ انتخابات اہمیت رکھتے ہیں، جن کیلئے وہ کسی بھی ایسے شخص یا سیاسی جماعت سے الحاق کرلیں گے، جن پر طالبان کو سپورٹ کرنے اور طالبان کو پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام ہو۔

ٹھیک ہے کہ انتخابات میں حریفوں کو مات دینے کیلئے سیاسی جماعتوں سے الحاق کئے جاتے ہیں مگر کسی ایسی سیاسی جماعت یا شخصیت سے الحاق جس کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی ہلاک اور لاکھوں زخمی ہوئے، اربوں روپے کا نقصان ہوا، جس پر امریکا سمیت ہمسایہ ممالک سے دہشتگردوں کو پناہ دینے اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات لگے ہوں، انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کی خاطر ایسی سیاسی جماعت سے الحاق سمجھ سے باہر ہے۔

عمران خان کو آئندہ عام انتخابات میں وفاق میں حکومت ملے یا نہ ملے، عمران خان اس اتحاد کے ذریعے خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت دوبارہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، چاہے اس کیلئے انہیں کسی سے بھی اتحاد کرنا پڑے۔

Email This Post
 

:ٹیگز


 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.