سرسوں کا ساگ

December 7, 2017

سرسوں کے ساگ کی فصل زرعی طور پر اگائے جانے والے پودے کا نام ہے اسکے پھول چھوٹے اور پیلے رنگ کےخوبصورت ہوتے ہیں ۔ بلوچستان میں سرسوں کے پتوں اور گندلوں سے ساگ پکایا جاتا ہے جبکہ سرسوں کے بیجوں سے تیل بھی نکالا جاتا ہے جو پکانے کے ساتھ ساتھ جسم پر لگانے کے کام آتا ہے اور مشینوں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ سرسوں کا ساگ بلوچستان میں قدیم زمانے سے جدید دور میں بھی چلا آرہا ہے بلوچستان میں پائے جانے والا سرسوں کا ساگ انتہائی میٹھا اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔ سرسوں کا ساگ اور چاول کی روٹی کا اپنا مزا ہوتا ہے۔

سرسوں کا ساگ بلوچستان میں صرف تین ماہ تک بہت شوق سے کھایا جاتا ہے، نومبر دسمبر اور جنوری میں سرسوں کا ساگ کھانے کا بہترین سیزن ہوتا ہے جبکہ سرسوں کی کاشت بلوچستان میں اکتوبر میں شروع ہو جاتی ہے سرسوں کا ساگ بہار کے موسم میں پورے بلوچستان میں شوق سے کھایا جاتا ہے۔ یہ سوغات بلوچستان کے شہری علاقوں سمیت دیہاتی علاقوں میں بھی ایک پسندیدہ پکوان کے طور پہ کھائی جاتی ہے سرسوں کے ساگ اور دیسی گھی ، مکھن کا تڑکا اور چاول کی روٹی بلوچستان کے ہر فرد اور ہر محنت کش کے لئے غذائیت سے بھرپور ترین بہترین کھانے کے طور پہ کھائی جاتی ہے حتیٰ کہ ساگ میں موجود کیلشیم، سوڈیم ،کلورین، فاسفورس، فولاد، پروٹین جسم کو نشوونما دینے میں مدد کرتا ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ساگ میں وٹامن اے اور بی بھی کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

سرسوں کا ساگ پکاتے وقت اسے ایک سے دو گھنٹوں تک ایک چمچہ کے ساتھ ہاتھ سے چلایا جاتا ہے تاکہ سبز رنگ ختم ہوجائے۔ سرسوں کے ساگ کے پتوں میں بہت زیادہ توانائی چھپی ہوتی ہے ،سرسوں کے ساگ میں زیادہ مصالحہ جات نہیں ڈالے جاتے ہیں بس تیار ہونے کے بعد ساگ میں ٹماٹر، ہری مرچیں اور نمک ملا کر ایک الگ دیگچی میں پکایا جاتا ہے۔ مزیدار ساگ کو ہلکی آنچ پر پانی میں پانچ سے چھ گھنٹوں تک پکایاجاتا ہے۔ میری نانی کوئی ستر سالوں سے ہمارے خاندان کے لئے سرسوں کا ساگ بناتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ساگ میں اجزاء جتنے کم ہونگے وہ اتنا ہی مزیدار ہوگا دادی نے ساگ کا ذائقہ مزید بڑھانے کے لئے ایک بہترین جزو بتایا ہے کہ ساگ کو دھیمی آنچ پر پکانے سے کڑوا پن بھی دورہوجاتا ہے جبکہ جبکہ ساگ کا پانی خراب گلے اور نزلہ زکام کیلئے بھی بہترین سمجھا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سرسوں کے ساگ میں قوت اور صحت کا ایک خزانہ چھپا ہوا ہے قدرت نے ساگ میں ذائقے کے ساتھ ساتھ شفاء بھی رکھی ہوئی ہے سرسوں کا ساگ خون بنانے کے ساتھ ساتھ بھوک میں بھی اضافہ کرتا ہیں۔

بلوچستان میں ساگ کو بناتے ہوئے قریب بیٹھے شخص کے منہ میں پانی بھر آتا ہے۔سرسوں کے ساگ کو دھو کر پریشر ککر میں ڈال دیں گےتو اس کا ذائقہ اچھا نہیں ہوگا، گیس پہ بنانے کے بجائے دھیمی آگ پہ تیار ہونے والے ساگ کا ذائقہ بہت اعلی ہوتا ہے۔ ساگ جب تیار ہو جاتا ہے تو ایک برتن میں تیل گرم کرکے تیز پات ڈالا جاتا ہے اور پھر گرم مصالحہ اور زیرہ بھی شامل کر لیے جاتے ہیں۔ زیرے کا رنگ تبدیل ہونے لگتا ہے تو پھر اس میں پیاز ڈال دیے جاتے ہیں اور پھر ہلکی سنہری ہونے پر چوپ کیا ہوا لہسن ڈال دیا جاتا ہے اس عمل کو بلوچی میں "ساگ کا داگ"بھی کہا جاتا ہےجبکہ کچھ بلوچ خاندان ساگ کو پہلے ہلکا سا توے پہ بھی تلتے ہیں پھر اس میں ٹماٹر اور دہی ڈال کر ایک دیگچی میں پکاتے ہیں تاکہ اس کے تیز چٹپٹے اور تلخ ذائقے کو خوب انجوائے کیا جائے۔سرسوں کے ساگ کا ذائقہ بلوچستان میں خاصا تیکھا بھی ہوتا ہے، اس ساگ کو کھانے کے بعد آپ نیند کی وادی میں بھی ضرور گُم ہو سکتے ہیں۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.