دوہرا معیار اور دوہری شہریت

December 7, 2017

تحریر: سید شرجیل احمد قریشی

گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں ایک موضوع ہمیشہ زیر بحث رہا۔ چاہے وہ الیکٹرانک میڈیا ہو، پرنٹ میڈیا یا سوشل میڈیا۔ الغرض اپنی اپنی حیثیت کے مطابق سب نے اس موضوع کو جگہ ضرور دی۔ آج صبح کی سیر کے بعد جب گھر واپس آ رہا تھا تو راستے میں ایک اسکول کے پاس سے گزر ہوا۔ بچے وہاں پر بہت خوشی اور گرم جوشی سے قومی ترانہ پڑھ رہے تھے قومی ترانہ سننے کے ساتھ اس بات کا احساس ہوا کہ اللہ کا شکر ہے ہم ایک آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ اس اسکول کے قریب تھوڑا فاصلے پر ایک بہت بڑی سرکاری یونیورسٹی موجود ہے مگر آج ہفتے کا دن ہونے کی وجہ سے اس سرکاری یونیورسٹی میں چھٹی ہے۔ کتنی عجیب سی بات ہے ایک ملک اس کے چار صوبے، چاروں صوبوں میں موجود سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی درسگاہوں کا اپنا معیار اور صوبوں کے ساتھ وفاق کا اپنا۔

بظاہر غور کیا جائے تو پاکستان میں اس وقت ہر چیز کا معیار دہرا ہے۔ سیاست، رشتے، تعلیم، صحت، وفاقی و صوبائی پالیسیاں اور سب سے بڑھ کر شہریت۔ کتنی عجیب اور حیران کن بات ہے کہ حکومت ایک، ریاست ایک اور اس ایک ریاست میں دوہری نہیں بلکہ متعدد پالیسیاں۔ کسی شہر اور کسی تعلیمی ادارے میں ہفتے کو چھٹی اور کسی جگہ پر ہفتہ اتوار دو روز کی چھٹی۔ سرکاری دفاتر میں جائے تو وہاں پر کام کرنے والا جمعۃ المبارک کو آدھا دن تصور کر کے دفتر سے غائب اور کبھی اگر کسی روز کام کرنا پڑے تو نماز ظہر اور نماز عصر کی پابندی دفتری اوقات میں لازم سمجھی جاتی ہے۔ پرائیوٹ دفاتر تو بظاہر ایسے لگتے ہیں جیسے ان پر اس ملک کا قانون نافذ نہیں ہوتا۔ عجیب بات ہے کہ پالیسیوں کے ساتھ لوگوں کے رویے بھی دوہرے ہوگئے۔ نماز پڑھنے والا بے نمازی کو، کار والا موٹر سائیکل والے کو، امیر غریب کو، طاقتور کمزور کو، جیتنے والا ہارنے والے کو، اور حکمران غریب اور محکوم قوم کو ووٹ لینے کے بعد اس دوہری کیفیت اور اذیت سے دوچار کرتی ہے جس کا شاید کبھی انھوں نے گمان بھی نہ کیا ہو۔ اس پاکستان میں آنے والے ہر دور میں ہر حکومت نے چاہے وہ جمہوری حکومت ہے یا مارشل لاء انہوں نے عوام کو ہر بار کسی ایسی  دوہری اذیت میں مبتلا کیا جس سے نکلنا شاید آج کے دور میں بہت مشکل ہوگیا۔ انگلش میڈیم اسکول اردو میڈیم اسکولوں سے، پرائیویٹ اسکولز سرکاری اسکولوں سے، بہتر تصور کیے جاتے ہیں۔ اس ملک میں جہاں انگلش اخبار اور اردو اخباروں کی ردی کا بھاؤ الگ ہو وہاں پر ایک نظام کیسے چل سکتا ہے؟۔

اس ملک میں حکمران حکومت یہاں کرتے ہیں حلف تاج برطانیہ کا اٹھاتے ہیں پھر کہتے ہیں جینا ہوگا مرنا ہوگا صرف پاکستان میں ہوگا۔ اس ملک میں جن لوگوں نے دوہری شہریت ہونے کے باوجود حکومت کی وہ اس ملک میں آئے، حکومت کی اور چلے گئے۔ اور وہ لوگ جن کے پاس اس پیارے ملک پاکستان کی شہریت ہے ان کو تو بیرون ملک ہوائی اڈوں پر گھنٹوں اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے آخر یہ دوہرا معیار کب ختم ہوگا؟۔ ہمارے ملک میں حکمرانوں کی ایک کلاس ایسی بھی ہے جو حکومت میں ہونے کے باوجود ڈبل گیم کا سہارا لیتے ہیں اور ان کے دوہرے معیار کی بہت ساری مثالیں ہمیں ان کے طرزِ حکمرانی میں نظر آتی ہے۔ دوہری خارجہ پالیسی، ووٹ لینے سے پہلے اور ووٹ لینے کے بعد دوہرہ انداز گفتگو، اور اب تو ایک نئی روش سامنے آگئی کہ اسمبلی میں بہت سارے ممبران ہونے کے باوجود بھی وزارتوں کے قلم دان بھی دوہرے۔ 1947ء سے لے کر آج تک کیا کبھی کوئی دن ہماری زندگیوں میں ایسا بھی ہوگا جس میں یہ دوہرا معیار ختم ہوگا۔ ہم اپنے غموں کو بھول کر اپنی خوشیوں کو زیادہ محفوظ اور پائیدار زندگی گزارنے کی نوید اپنے آنے والی نسلوں کو دے سکیں۔ میں خدا تعالیٰ کے حضور اس دعا کی التجا کرتا ہوں کہ باری تعالیٰ اور کچھ نہ سہی کم سے کم ہماری خوشیوں کو دوہرہ کردے۔ آمین!

خدا کرے کے میری ارض پاک پراترے

وہ فصلِ گُل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.