چھٹی کا دن

December 7, 2017

پوراہفتے ہرکوئی مصروف رہتا ہے، کسی کو کالج، اسکول ، یونیورسٹی جانا ہوتا ہےتوکسی کو گھر کے کام سے فرصت نہیں ملتی، کسی کو کاروبار توکسی کو نوکری کے جوکھم اٹھانے پڑتےہیں، غرض یہ کہ چھ دن بڑی مارا ماری کی صورتحال ہوتی ہے جس سے ہم میں سے بیشتر افراد نبرد آزما رہتے ہیں ، یوں چھ دن تک جان جنجال میں مبتلارہتی ہےجس کےبعد ایک دن ایسا آتاہے جس کا سب کو انتظار ہوتا ہے، اور وہ ہوتا ہے چھٹی کا دن ، اُس دن کو کس طرح انجوائے کیا جاتا ہے، معاشرے کےافراد کی اس دن کیامصروفیات رہتی ہیں ، چھٹی کا دن کس طرح گذارا جاتا ہے ، اس کا ایک جائزہ لیتے ہیں

چھٹی سے پہلے کی رات سمجھ لیں ، جیسے چاند رات ہوتی ہے ، سارا شیڈول اور ٹائم ٹیبل پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ، بیشتر افراد من مانی کرتے ہیں ، کسی کو ٹی وی بھاتا ہے تو کسی کو فیس بک ، بہت سے افراد آؤٹنگ اور لانگ ڈرائیو کا شوق پورا کرنے گھر سے نکل پڑتے ہیں ، گھر کا کھانا چھوڑ کر کھابوں اور مختلف ریسٹورنٹس کا رخ کیا جاتا ہے۔۔وہاں لوگوں کو دیکھیں تو لگتا ہے جیسے دنیا میں کوئی غم ہی نہیں ہے ، سب ٹینشن فری ہیں ، زوردارقہقہےلگ رہے ہوتےہیں ، ایک دوسرے کا ریکارڈ لگایا جارہا ہوتا ہے، ماضی کے قصوں کو چھیڑ کربیٹھک کا لطف دوبالاکیا جاتا ہے، اس طرح اس نشست میں خوب انجوائے کیاجاتا ہے تاکہ اگلے ہفتے کی مزدوری کے لئےایک بار پھرسے تازہ دم ہوا جاسکے

بچوں کا تو نہ ہی پوچھیں ان کا بس چلے تو یہ دن بار بار آئے، بلکہ ہر دن چھٹی کا ہی ہو تاکہ نہ جلدی اٹھنا پڑے اور نہ ہی اسکول جانے کا عذاب بگھتنا پڑے ، اماں ، ابا سے ضد کرکے اپنی فرمائشیں پوری کروائی جاتی ہیں۔۔بیگم صاحبہ بھی صاحب کو پہلےسے ہی بتادیتی ہیں کہ کہ مجھ سے نہ ہوگاچھٹی کےدن اس لئےناشتےکاانتظام باہرسےہی کروالیجیے گا، اب باہر جاکر کھا آئیں یا گھر منگوائیں ، اس کے لئے گھر میں باقاعدہ رائے شماری ہوتی ہے جس میں زیادہ تر مواقع پر صاحب کو منہ کی کھانا پڑتی ہے اور جیب ڈھیلی کرنےاور خزانوں کےمنہ کھولنے کے بعد ہی ان کی جان چھوڑی جاتی ہے

ناشتہ چونکہ دیرسےکیاجاتا ہے اس لئےاکثریتی گھرانوں میں دوپہرکا کھانا گول کردیا جاتا ہے، پھر جوں جوں شام کے سائے بڑھنے لگتے ہیں ، ایک بار پھر گھر کے تمام افراد کا اجتماع ہوتا ہے، بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دیتی ہیں جس میں ہر کوئی اپنے دل کی بات کہتا ہے ،اب من کی براد پوری ہوتی ہے کہ نہیں یہ تو اپنے اپنے نصیب کی بات ہے ، اس گرما گرم سیشن میں یہ بھی فائنل ہوتا ہے کہ گھر کا کھانا یا ایک بار پھرچٹخارہ ہاؤسز میں پارٹی کی جائے، قریبی رشتے داروں کوبھی مدعو کرلیا جاتا ہے تاکہ اپنوں کے ساتھ فرصت کے کچھ لمحات گذارے جاسکیں ، کھانا تو اک بہانہ ہے ، دراصل اپنوں کومزید قریب لاناہے۔

یوں موج، مستی سے بھرپور یہ دن گذارکرجب سب بستر پر جاتے ہیں تو ایک لمحےکے لئےدل بوجھل ہوجاتا ہے یہ سوچ کر کہ کل سے وہی مارا ماری ہوگی ، پھر وہی ٹریفک جام ، افسروں کی ناز برداریاں ، کاروبار کی پریشانیاں ، کالج اسکول کی آنیاں ، جانیاں ، گھرکے کچن میں باورچی کارول پھر سےکرنا ہوگا ، سارےکے سارےدرد سر مول لینا پڑیں گے لیکن ایک خیال جو مصائب کےان اندھیروں میں روشی کا کام کرتا ہے وہ آئندہ آنے والا چھٹی کا دن ہوتا ہے ، مرد ، خواتین ، بچے ، سب یہ سوچ کر ایک بار پھر آہنی عزم سے ان تمام مشکلات کا سامنا کرنے کے لئےاپنے آپ کو تیار کرتے ہیں کہ چھ دن تویہ سارےعذاب بھگتنا ہیں لیکن ایک دن ہےجو اپنا ہے یعنی چھٹی کا دن

  Email This Post

 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.