احتجاج، دھرنا، ہڑتال

December 6, 2017

۔۔۔۔۔**  تحریر ؛ سید شاہد کاظمی  **۔۔۔۔۔

جمہوری معاشروں میں اختلاف بہتری کی نمایاں دلیل ہے، جہاں اختلاف نہیں ہوتا وہاں بناء سوچے سمجھے یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاملات جھیل کے ایسے ساقط پانی کی طرح ہورہے ہیں جہاں کائی جمتی جارہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اس جمی ہوئی کائی میں سے بدبو آنا شروع ہو جائے، اس لئے مہذب معاشروں میں اختلاف ترقی و بہتری کا زینہ ہے، کیونکہ جہاں مثبت اختلاف ہوگا وہاں مباحثہ ہوگا اور مباحثہ سوچ کی بہت سی نئی جہتیں متعارف کروا دیتا ہے، جس سے اختلافی مسئلے پر سیر حاصل بحث تو ہوتی ہی ہے، مزید کئی نئے راستے ایسے سامنے آنا شروع ہوجاتے ہیں جو معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جہاں اختلاف نہیں ہوتا وہاں حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ بہتری ابتری کی طرف سفر کرنا شروع کردیتی ہے، اختلاف ہمیشہ اپنی خوبصورتی اس وقت ہی رکھتا ہے جب اس کا مطمع نظر مثبت ہو اور اختلاف کا رخ بھی مثبت راستہ اختیار کرے، جہاں کسی بھی قسم کا اختلاف تخریب کا عنصر اپنے اندر جمع کرلے وہاں معاشرے تنزلی کا شکار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں احتجاج، دھرنا، ہڑتال کی تاریخ ویسے تو بہت پرانی ہے مگر پچھلی 2 دہائیوں سے اس نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے، اسکندر مرزا کے خلاف دبی چنگاریوں کے سلگتے ہوئے شعلہ بننے تک کا سفر ایسا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت پر پہلی ضرب ایوب خان نے لگائی، یہ پاکستان میں احتجاج کی پہلی صورت تھی کہ جو منفی تاثر چھوڑ گئی۔ احتجاج، دھرنے، یا ہڑتال کی دوسری اور سب سے مؤثر صورت نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی صورت میں سامنے آئی جس نے ایوب خان جیسے مضبوط حکمران کو ہلا کر رکھ دیا۔ 65ء کی فتح، دو ڈیم بنانا بھی ان کے اقتدار کو نہ بچاسکا، اسی سے اس احتجاج کی کامیابی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ طلبہ تحریک کو پھر بھٹو جیسے سیاستدانوں کا جب ساتھ ملا تو یہ پاکستان کی تاریخ کے کامیاب احتجاج میں شمار ہوا کہ جو من چاہی مراد پاگیا، انتخابات کے بعد اقتدار کی کشمکش کی خاطر شروع ہونیوالے احتجاج نے پاکستان کو اپنی تاریخ کے سیاہ ترین باب سے روشناس کروایا، یعنی مشرقی پاکستان سے شروع ہونیوالے احتجاج نے پاکستان کو 71، میں دو لخت کر دیا۔

احتجاج کی ایک اور منفی شکل 77ء میں سامنے آئی جب پاکستان نیشنل الائنس کی کوششوں سے برپا ہونے والا احتجاج نہ صرف بھٹو کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بناء بلکہ بعد ازاں بھٹو صاحب پھانسی پر جھول گئے، یہ 71ء کے بعد پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ثابت ہوا، 80ء کی دہائی میں ایم آر ڈی کا احتجاج کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ پاسکا، 90ء کی دہائی اور اس کے بعد سے پاکستان میں احتجاجی سیاست کا ایسا باب شروع ہوا جس میں مثبت اثرات نہ ہونے کے برابر رہے، ہڑتالوں سے ملکی معیشت پٹری سے اترتی چلی گئی، 92ء میں بی بی شہید کا لانگ مارچ اس وقت کی نواز حکومت کیخلاف، یا اس کے بعد نواز شریف کا احتجاج و ہڑتالی رویہ بی بی کیخلاف ہو دونوں صورتوں میں ملک میں جمہوری لاری کا ٹائر پنکچر ہوتا رہا، جسے مرمت کرنے میں کافی وقت صرف ہوا۔

یہ لاری ابھی تیار ہی ہوئی تھی کہ 99ء آگیا اور ایک بار پھر جمہوریت اپنی نادانیوں سے گم گشتہ خزانہ بن گئی، 99ء میں اقتدار سنبھالنے والے پرویز مشرف نے جب 2007ء میں عدلیہ پر وار کیا تو اس کے بعد سے عدلیہ بحالی کی ایسی تحریک شروع ہوئی جس نے معزول ججز صاحبان کو بحال کروانے میں اہم کردار ادا کیا، بے شک معزول چیف جسٹس کی بحالی سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بعد ہی ممکن ہوپائی مگر یہ کہنا بے جا نہیں کہ اس وقت نواز شریف کی قیادت میں لانگ مارچ نے ان کی بحالی میں اہم کردار ضرور ادا کیا۔ 2013ء کا افسوسناک دھرنا جو ہزارہ قوم نے دیا یہ شاید پاکستان کی تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر پہلا دھرنا تھا جو 80 سے زائد لاشوں کے ساتھ دیا گیا، دھرنے کے شرکاء نے ہزارہ نسل کشی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے دہشت گردی کا شکار ہونیوالے افراد کی لاشوں کی تدفین سے انکار کردیا تاوقتیکہ حکومت یقین دہانی نہ کراوئے، یہ دھرنا بھی بالآخر حکومتی یقین دہانی کے بعد ختم ہوا۔

اسلام آباد میں پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے اور تحریک انصاف کا آزادی مارچ بھی ملک میں احتجاج کی تاریخ کا حصہ ہیں، پیرا میڈیکل اسٹاف، ینگ ڈاکٹرز، صنعتی ملازمین، کلرکس ایسوسی ایشنز، میڈیا یونینز، مزدود یونینز، طلباء تنظیمیں غرضیکہ اداراتی سطح پر ہڑتالوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ صفحات کم ہو جائیں گے کہ جو ہڑتالیں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے کی جاتی رہی ہیں۔

پاکستان میں احتجاج، ہڑتال، دھرنا کی تاریخ اُٹھا کے دیکھ لیں ہمیشہ ارباب اختیار ان معاملات کو جمہوری طریقے سے حل کرنے میں ناصرف ناکام رہے بلکہ کسی نہ کسی حوالے سے لوگوں کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کیلئے احتجاج کا ایسا راستہ اپنائیں جو مثبت و منفی رویے اپنا لینے کے یکساں مواقع لئے ہوتا ہے اور بسا اوقات ایسا احتجاج، دھرنا یا ہڑتال وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ احتجاج کا کوئی بھی پہلو جمہوریت کا حسن ہوتا ہے لیکن جمہوری معاشروں میں صاحبان اقتدار کا فرض ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی احتجاج کو ایسی دانش سے سنبھالیں کہ لوگ احتجاج ریکارڈ بھی کروا پائیں مگر ترقی کا پہیہ نہ رکنے پائے۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.