کرپشن کا خاتمہ: امید سے یقین تک کا سفر

December 6, 2017

پاکستان کو درپیش مسائل سے تو آپ سب واقف ہی ہیں لیکن دیگر اہم مسئلوں کی طرح ایک اہم مسئلہ کرپشن بھی ہے یا یوں کہیں کہ دہشتگردی کے بعد دوسرا بڑا اور اہم ترین مسئلہ کرپشن ہے۔ کرپشن ایک ایسا مرض ہے جس کا علاج ممکن ہے مگر پاکستان میں اسے لاعلاج سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے کا ہر دوسرا شخص اس بیماری میں مبتلا ہے۔ سیاسی رہنما کرپشن کے خلاف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کرپشن کی وجوہات پر بات نہیں کرتے اور نا ہی اس کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں کرپٹ لوگ موجود ہیں اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اکثر کچھ حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کرپشن کے ذمہ دار صرف اور صرف سیاستدان ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ چند سیاسی رہنماؤں نے کرپشن کے ریکارڈ قائم کررکھے ہیں مگر صرف سیاستدانوں پر ملبہ ڈال کر ہم اس مرض سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔

اب تو ہر شعبے اور ادارے میں کرپشن اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ہر صحافی کرپٹ نہیں مگر اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ صحافی بھی کرپٹ ہوتے ہیں، جو اپنے ذاتی مفادات کے لئے کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو سپورٹ کرتے ہیں، ان کی طرف داری کرتے ہیں اور کچھ اینکرپرسن تو یوں گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان ہوں اس کے پیچھے بھی ان کے مفادات ہوتے ہیں اور ایسے اینکرز اور صحافیوں کو آپ بھی جانتے ہیں۔ ہم وزیروں مشیروں کو تو کرپٹ کہتے ہی ہیں مگر میرے نزدیک کرپشن کی جڑ بیوروکریسی ہے۔ ہر سرکاری ملازم کرپٹ نہیں مگر اکثریت کرپٹ ملازمین کی ہے۔ کسی بھی ادارے میں چلے جائیں خواہ وہ صوبائی حکومت کے ماتحت ہو یا وفاقی حکومت کے آپ اپنے جائز کام کے لئے اس وقت تک بھٹکتے رہیں گے جب تک آپ کسی سے جوڑ توڑ نا کرلیں۔ بڑے افسران کی بات تو اپنی جگہ اگر کسی نائب قاصد یا چپڑاسی سے بھی واسطہ پڑ جائے تو جب تک چائے پانی کے نام پر رشوت نہیں لے گا آپ کے معمولی مسئلے کو بھی کھینچتا رہے گا۔ یہ بھی سچ ہے کہ لوگ برتھ/ڈیتھ سرٹیفیکیٹ، نکاح نامہ وغیرہ بنوانے کے لئے بھی رشوت نا دیں تو یونین کونسل آفس میں بیٹھے ملازمین آپ کا جائز کام کرنے میں ٹال مٹول کرتے ہیں۔

بات پولیس کی ہو تو ان کے قصے تو مشہور ہیں اور بچہ بچہ ان کے کارناموں سے واقف ہے اور بچے اس لئے بھی واقف ہیں کہ کم عمر بچے جب گاڑیاں چلاتے ہوئے کرپٹ پولیس والوں کے ہاتھ آجائیں تو پھر چائے پانی کے بغیر نہیں چھوڑتے۔ صرف سرکاری ہی نہیں نجی اداروں میں بھی کرپشن کے بغیر کام کروانا ممکن نہیں رہا جیسا کہ میں نے پہلے نشاندہی کی کہ کرپشن وہ بیماری ہے جس کا شکار معاشرے کا ہر دوسرا شخص ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ (امید سے یقین تک کا سفر) کیسے ممکن ہے؟ مجھے صرف امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ ایک دن پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم کرپشن کرنے والوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنے گریبان میں بھی جھانکیں اور اپنے اردگرد ہونے والی کرپشن کو بھی روکنے کی کوشش کریں جس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم رشوت دینا بند کردیں۔ ہم اپنے جائز کاموں کے لئے بھی رشوت دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں تاکہ ہمارا کام بروقت، لائن میں لگے بغیر یا آسانی سے ہوجائے اور یوں ہم بھی اس کرپشن کا حصہ بن جاتے ہیں۔

رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں ہی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ جب ہم رشوت دینا چھوڑ دیں گے اور اپنے کاموں کے لئے قانونی طریقہ کار اختیار کریں گے تو بڑی حد تک کرپشن میں کمی ممکن ہے اور رہا سوال کرپٹ سیاسی رہنماؤں کا تو آئندہ آنے والے عام انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے ان تمام کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو رد کریں اور ملک و قوم کے لئے ایماندار اور بہتر نمائندوں کا انتخاب کریں۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.