خواب ادھورے سہی،خواب سہارے توہیں

December 6, 2017

****تحریر : افضال فاروقی****

جنید جمشید کوجداہوئے ایک سال کیسے گزرا،یہ انتہائی تکلیف کی بات ہے۔ سات دسمبر2016کوتبلیغی دورےکےبعدچترال سےاسلام آباد واپسی پرجنید جمشید کاطیارہ حادثےکا شکارہوا اورقوم کایہ عظیم سپوت رخصت ہوا۔ جنید جمشید کےساتھ ان کی دوسری اہلیہ نےبھی شہادت کا رتبہ پایا۔ جنید جمشید کامیڈیا میں سفراسی کی دہائی کے وسط سے شروع ہوا۔شعیب منصور کی ہیرا شناس آنکھ نے جنید کی صلاحیت کو پرکھ لیا۔ دل دل پاکستان گاکروہ کم عمری میں شہرت کی بلندی پرپہنچ گئے۔ سرکاری ٹی وی پراس گانے کی ویڈیو1987 میں بنائی گئی اور جس کےبعد جنید جمشید اوران کے بینڈ وائٹل سائنزکی دھوم مچ گئی۔جنید نےبہت کم عرصے میں وہ کچھ پایا جس کاایک نوجوان تصورہی کرسکتاتھا۔ پڑھے لکھے گھرانےسے تعلق رکھنےوالے اس نوجوان نے فن موسیقی میں اپنا نام خوب بنایا۔ نوے کے اوائل میں جنید کا جادوسرچڑھ کربولا۔ موسیقی سےشغف رکھنےوالوں کوجنید کی گلوکاری سے ایک مسحورکن احساس ہوتا۔ جنید نے دنیا بھر میں ہزاروں پرستاربنائے۔ ان کی ایک جھلک دیکھنے ہجوم امڈ آتا۔دنیاکےکسی بھی حصےمیں ہونےوالا جنید جمشیدکاکنسرٹ لوگوں سے ہمیشہ بھرا ہوا ہوتا۔ انھوں نے نہ صرف اپنی گلوکاری بلکہ اپنی شخصیت سے بھی چاہنے والوں کے دلوں پر راج کیا۔

کئی میوزک البمز کے بعد جنید نے خود کو پاکستانی پاپ موسیقی کے شہرت آفاق گلوکاروں کی فہرست میں شامل کرلیا۔ نوے کی دہائی کےآخری برسوں میں جنید کارجحان دین کی جانب ہوا۔ تبلیغی جماعت میں شمولیت کےبعدجنیدجمشیدایک مختلف انسان کےروپ میں ڈھل گئے۔اگرچہ یہ تبدیلی قطعی طورپرآسان نہیں تھی اور کچھ وقت کےلیے جنید کے قدم ڈگمگائے بھی مگر بزرگوں کی صحبت کےباعث جنید ثابت قدم ہوگئے اور موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کرنے پراٹل رہے۔ جنید کی زندگی کےتقریبا آخری 16 برس دین اور تبلیغی کی خدمت میں گزرے۔اس دوران انھوں نے اپنا کاروباری برانڈ جے ڈاٹ بھی متعارف کروایا۔ جنید ایک ہی وقت میں مبلغ،کاروباری شخصیت ، نعت خواں اور میزبان بھی رہے۔ ان کی پرسوز نعتیں ہمیشہ سننے والوں کے دلوں میں گھر کرلیتی تھیں۔ جنید کی نرم شخصیت اورلوگوں سے محبت کا انداز انھیں منفرد بناتاتھا۔وہ جہاں بھی ہوتے،محفل کی جان ہوتے۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ انھیں لوگوں کو سمجھانے اوران میں گھلنے ملنے کا ڈھنگ آتاتھا۔ ان کے قریبی احباب نےبھی کبھی جنید کے ماتھے پرشکن یا لہجےمیں تکبرنہیں دیکھا۔

جنید نے کئی حج اوردرجنوں عمرے کئے۔ عمر کےآخری حصےمیں وہ قرآن شریف بھی حفظ کررہے تھے۔جنید جمشید نے فلاحی کاموں کےلیے بھی خود کو وقف کیا۔ کئی تنظیموں کےساتھ مل کرانھوں نے بھلائی کےمتعدد منصوبےشروع کئے۔ ملک کےکئی شہروں میں جنید جمشید سے منسلک اداروں نےعوامی بہبود کےلیے فلاحی کام بغیرکسی غرض کےتکمیل تک پہنچائے۔ جنید جمشید نے جوکام کیا،ان میں کامیابی پائی۔ موسیقی میں تھے تو ان کے نام کاطوطی بولتاتھا۔ دین کی جانب آئے تواللہ نے ان کی زبان میں بات سمجھانےکی صلاحیت پیداکی۔ نعت پڑھناشروع کی تو ان کی آواز میں مٹھاس کانوں میں رس گھولتی تھی۔ ٹی وی پر مذہبی پروگراموں کی میزبانی کی تو اپنے منفرداندازمیں سب کواپنا گرویدہ بنالیا۔ جب آخری سفرپرروانہ ہوئےتوجنید جمشید کاجنازہ پاکستان کی تاریخ کےبڑےجنازوں میں سے ایک تھا۔لوگوں کاسمندرجنید کی نمازجنازہ میں شریک ہوا۔ مولانا طارق جمیل نے جنید جمشید کی نمازجنازہ سے قبل اصلاحی بیان دیا۔ جنید جمشید کے جنازے میں ہر آنکھ اشکبارتھی۔

 پاکستان سے متعلق جنید کے کئی خواب تھے۔ وہ اس ملک کی بہتری کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتےتھے۔ انھوں نے کبھی پاکستان کے لیے کسی بھی خدمت سے دریغ نہیں کیا۔ جنید کی موت سے ان کے کئی خواب اگرچہ ادھورے تو رہ گئے مگر یہ خواب اس بات کے سہارے تو ہیں کہ جنید کی زندگی ان کے چاہنےوالوں کےلئے مشعل راہ ہے اور وہ ہمیشہ اس بہترین انسان کےبارے میں پڑھ کرکچھ نہ کچھ ضرور صلاح لے سکتے ہیں۔ سماء

Twitter Handle : @afzaalfarooqui

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.