جمہوریت ۔۔۔دو آنے؟

November 29, 2017

جمہوریت کسی بھی معاشرے کا حُسن ہوتی ہے ۔ اس میں نہ تو کوئی شک ہے نا مبالغہ ۔ جمہوری معاشروں میں احساس، خلوص، خدمت جیسے جذبات بدرجہ اتم نہ صرف موجود ہوتے ہیں بلکہ ان کے فوائد عوام کو نچلی ترین سطح پر بھی ملتے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ترقی پذیر معاشروں میں جمہوریت کا ہما اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے اداروں کی مضبوطی کی طرف اہم پیش رفت ہونا ممکن ہو جاتی ہے۔ اور ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کا سفر طے کرنے کے لیے ایک تعمیر پسند معاشرے میں ادارے اسی طرح ضروری ہیں جس طرح ایک کیرئیر کی ابتدائی سیڑھی پر موجود نوجوان کے لیے اُس کی تنخواہ میں اضافے کی خبر، ایک پیاسے صحرا کے لیے بارش کی پہلی بوند یا پھر خشک سالی سے سوکھتے پتوں کو اچانک بارش کے قطرے مل جانا۔ ترقی پذیر معاشروں میں اداروں کا نظام جیسے جیسے مضبوط ہونا شروع ہوتا ہے ویسے ویسے جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کہنے کو تو اس وقت عمر کی ستر بہاریں دیکھ چکا ہے۔ لیکن ستر سالوں میں بھی یہ ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کا لاحقہ اپنے نام کے ساتھ نہ لگا سکا۔ اس کی وجوہات ہم بسا اوقات یہی سنتے آئے ہیں کہ جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا، جمہوریت پہ شب خون مارا جاتا رہا، جمہوریت کو موقع نہیں دیا گیا، مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ آج تک جمہوریت خود اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے کی سعی خود بھی نہیں کر پائی۔ جب بھی جمہوریت کو موقع ملا، وہ اشرافیہ کے محلات کی باندی بن کے رہ گئی، عوامی دہلیز کی خوشحالی نہ بن پائی۔ اور آج بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔ نعرہء جمہوریت ذاتی مفادات کے تحفظ کا نعرہ بن چکا ہے ، صاحبان اقتدار اس بات سے یکسر بے خبر ہیں کہ حقیقی جمہوریت پہ عوام کے چہروں پہ سکون و مسکراہٹ ہوتی ہے نہ کہ کرب و تکلیف۔ مگر ایوان اقتدار کے باسیوں کے لیے جمہوریت کی مضبوطی یہی ہے کہ وہ سیاہ و سفید کے مالک بن جائیں، اُن سے کسی قسم کی باز پرس نہ ہو، اُن کے مفادات پہ حملہ جمہوریت پہ حملہ قرار پائے، اُن کے بچوں کو بھی اقتدار کی کرسی سے دور نہ کیا جائے، شہنشائیت ہو مگر اُسے نام جمہوریت کا ہی دیا جاتا رہے۔ ان سب میں سے ایک مقصد بھی پورا نہ ہو تو یقیناًاشرافیہ کے نزدیک یہ جمہوریت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

باقاعدہ سر تال کے ساتھ جو مہانِ جمہور جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں۔ وہ خود جمہوریت کو سر بازار گھسیٹ رہے ہیں۔ ہم کچھ بھی کریں یہ جمہوریت کا حُسن کہلانا چاہیے، مگر اعلیٰ ترین ایوان انصاف میں ہمارے نام کی پکار بلند ہو تو یہ جمہوریت پہ حملہ قرار پاتا ہے۔ ہم اپنے رویوں میں فرعونیت کو لازمی جزو بنا لیں تو جمہوریت کی خدمت ہے، اگر اسی رویے کی وجہ سے ہم سے اقتدار کی کرسی چھن جائے تو یہ جمہوریت پہ شب خون تصور ہو گا۔ ہم معاشرے میں انصاف کی فراہمی کا نعرہ لگائیں گے، مگر اگر اُسی انصاف کا ترازو ہمارے خلاف ہو جائے تو ہمیں جمہوریت مرجھاتی ہوئی نظر آنے لگے گی۔ ہم اس گماں میں ہیں کہ جمہوریت شاید شخصیات کی محتاج ہے۔ اور ہم جمہوریت کو بازار میں بکتی کوئی جنس سمجھ لیتے ہیں کہ شخصیات کی خاطر اداروں کو مشق سخن بنا لیتے ہیں اور دعویٰ بھی ہمارا قائم رہتا ہے کہ ہم جمہوریت کے چیمپئین ہیں۔ ہم ایک دن پہلے جمہوریت کی مضبوطی کی تان لگا رہے ہیں، اور اگلے دن اگر اسی جمہوریت کی وجہ سے مضبوط ہونے والے ادارے کاروائی کرتے ہیں تو وزیر خزانہ کے کمر کے مہرے تک ہل جاتے ہیں، یعنی جمہوریت وہی ہے جوآپ کے گالوں کی لالی قائم رکھے، اگر آپ کی غلطی پہ بھی انگلی اُٹھے تو کوئی مہرہ سلامت نہیں، اور صدیوں کے بیمار۔ اگر تو دیار غیر میں چھپے اثاثے ظاہر نہ ہوں تو پھر جمہوریت گھر کی باندی اور اگر چھپے گوشوں میں پڑا زر سامنے لایا جائے تو جمہوریت ظالم جلاد۔ اگر بچے با آسانی اقتدار کی کرسی تک پہنچ جائیں تو یہ ہوئی جمہوریت کی خوبصورتی اور اگر سیاسی کارکنان آواز اختلاف بلند کر دیں کہ سیاست کسی کی میراث نہیں تو اس کے پیچھے یقیناًجمہوریت کی بساط لپیٹنے کی سازش کی بو واضح محسوس ہو گی۔ اگر جمہوریت حواریوں کو پابند سلاسل کرئے تو پھر یہ خفیہ ہاتھ ہو گا اور اگر نام نہاد جمہوریت کرپشن میں دبے چہروں کو سونے کے تاج پہنائے تو ایسی جمہوریت پہ بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں ۔

وطن عزیز میں جمہوریت کا حال کچھ ایسا ہی ہے جیسا حال میلے میں گم ہوجانے والے نونہال کا ہوتا ہے۔ جمہوریت کو خود سمجھ نہیں آ رہا کہ اُس کی اصل روح کیا ہے، اُس کی اساس کیا ہے۔ جمہوریت کو مفادات کی تکمیل کی سیڑھی سے زیادہ سمجھنا ناگوار سمجھا جانے لگا ہے۔ جمہوریت کو بازار میں بکنے والا وہ مال سمجھ لیا گیا ہے کہ جو اوپری سطح سے باکمال اور ہلکی سے جمی تہہ کے نیچے بدحال ہوتا ہے۔ جمہوریت کو انمول موتی سمجھ کر اپنے گلے میں سجایا جاتا ہے۔ مگر حقیقت میں جمہوریت کی اوقات ہمارے قلوب و اذہان میں دو کوڑی سے زیادہ نہیں ہے۔ یعنی جب اپنے حصے میں ہر ناجائز ذریعے سے دولت کے انبار لگ رہے ہوں تو پھر جمہوریت سے قیمتی شے کوئی نہیں، اور جیسے ہی کوئی پاگل ، اپنی جون میں رہنے والا آپ کو گریباں سے تھام کے تمام ناجائز دولت نکالنا شروع کر دے تو ، پھر کون سی جمہوریت کیسی جمہوریت، کیا اوقات ہے پھر اس دو کوڑی کی جمہوریت کی،،،،، دھت تیرے کی تو ہے کیا ، تیری قیمت کیا ہے ، تو جمہوریت وہ بھی دو آنے کی ؟

Email This Post
 
 

2 Comments

  1. ارتضٰی   November 29, 2017 6:15 pm/ Reply

    جمہوریت کی واقعی ہمارے ملک میں اوقات دو آنے کی نہیں۔ کیوں کہ ہم نعرہ تو لگاتے ہیں۔ مگر جمہوریت کو حقیقی معنوں میں قبول نہیں کرتے

  2. Shahla   November 29, 2017 11:49 pm/ Reply

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.