Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

اصل کو کھوجیں

SAMAA | - Posted: Nov 29, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 29, 2017 | Last Updated: 4 years ago

بچپن میں ابّاذرا سخت مزاج تھے ۔ دادی سے لے کے چاچوتک اور امّی سے لے کے پھپھو تک سب ابّا کی آواز سن کے ہی سناٹے میں آجاتے تھے ۔ گھر میں رات کے کھانے کا وقت مقرر تھا ۔ نو بجے کے خبر نامے سے پہلے کھانا لگا دیا جاتا اور سب کا دستر خوان پرہو نا لازم و ملزوم قرار پاتا۔ کھاناپلیٹوں میں نکالنے سے  لے کراختتام تک ہم بچوں کے ہر انداز پرابّا کی خاص نظر ہوتی۔ابّاحددرجہ ہم بہن بھائیوں سے پیار کرتے مگر الفاظ کے غلط استعمال ، اٹھنے بیٹھنے کے آداب اور تعلیم کے معاملے پرمعافی نہیں ملتی تھی۔ اچانک کھانا تناول فرماتے ہوئے ایک گرجدار آواز آتی “سیون ایٹ زا؟؟” یا ” نائن فور زا؟” اور اس کے بعد ہم سب بہن بھائی ایک اندر والے کمرے میں گتے کی کاپیاں جس کے پیچھے “پہاڑے” لکھے ہوتے تھے وہ یاد کرنے بیٹھ جاتے کیونکہ ابّا نے اگلے دن وہ سننےہوتے تھے۔دادا سے ہلکے پھلکے اختلافات کے باعث ابّا نے اپنی فیملی کو نئے گھر میں شفٹ کر لیا۔ اپنا آبائی گھر چھوڑنے کا ابّا اماں سمیت ہم سب کو بہت دکھ تھا۔ یہاں نا محلے میں جان پہچان اور نا ہی ابّا پسند کرتے کہ ہم گلیوں میں کھیلیں۔ لہذاٰ ہم سب بہن بھائی آپس میں خوب کھیلتے۔ نیا گھر تین منزلہ تھا اور آخر میں بڑی سی شاندار قسم کی ایک چھت تھی جس پرایک کمرہ تھا۔ آج بھی الحمداللہ یہ ہی گھر ہےتوہم سب بہن بھائی رات کو کھانے سے فارغ ہو کرچھت پربھاگ کرآجاتے اور خوب کھیلتے۔ ہمارے بہت سے کزنز بھی بڑے شوق سے ہمارے گھر چھٹیوں میں رکنے آتے جس سے گھر کی رونق دوبالا ہوجاتی۔ وقت گزرتا گیا۔ ہم سب کی پڑھائی مکمل ہوتی گئی اور اب شادی کی باری تھی۔ باجی کی شادی ہوئی  اور ایک پیارے سے بھانجے میاں نے ہم سب کے گھر میں خوشیاں دوڑا دیں ۔ پھر بڑے بھائی ، میری اور باقی بھائیوں کی بھی شادی ہو گئی۔ ہم سب اپنی فیملی  میں مصروف ہو گئے۔ ابّا کے مزاج میں وقت گزرنے کے ساتھ کافی تبدیلی آ چکی ہے۔ اب اگر ہم اپنے بچوں کو کچھ کہتے ہیں تو ابّا حمایتی بن کے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ بچّہ ہے کچھ نا کہو، رہنے دو۔  چھوٹے چچا جو ہم سب کے لاڈلے تھے ایک حادثے میں اچانک ان کا انتقال ہو گیا ۔ یہ صدمہ سب کے لئے نا قابلِ برداشت تھا۔ چچا، دادا کے بچوں میں سب سے چھوٹے تھے  اس لئے ابّا سمیت سب بہن بھائی شدید غم کی کیفیت سے دوچار ہوئے۔انتقال سے کچھ عرصہ پہلے تک ابّا سے خاص لگاؤ ہو گیا تھا، تقریباً روز گھر آنا ہوتا تھا اور گھنٹوں ابّا کے پاس بیٹھتے تھے ۔ بہت سے پلان بنائے جاتے  اور مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کی جاتی۔ مگر کس کو پتا تھا کہ اچانک اس دنیا سے جانا پڑ جائے گا۔چچا جیسے رشتے سے ہم سب کو بے انتہا پیار تھا۔ اب ہمارے کزنز مطلب چچا کے بچے  اور ہمارے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے، اور ہم ایک دوسرے کے دکھ اور خوشی میں لازمی شامل ہوتے ہیں ۔ یہ تعلق چچا کی بدولت ہی قائم رہا۔

ہم میں   سےبہت سے گھر ایسے ہیں جنہوں نے اپنا خاندان اپنے بیوی بچوں تک ہی محدود کر لیا ہے اور وہ ہی ان کی فیملی ہے  جب کہ سگے بہن بھائی ، اماں ابّا، کی دنوں مہینوں تک خبر نہیں ہوتی۔ بچپن میں ایک دوسرے کے  ہر راز سے واقف  رہنے والے  بہن بھائی شادیوں کے بعد مہینوں اور سالوں تک ایک دوسرے کے حال سے نا واقف رہتے ہیں ۔اس افرا تفری کے دور میں رشتوں کی اہمیت معدوم ہو گئی ہے، حالانکہ اب رابطے رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے، سیکنڈوں میں دور دراز بیٹھے رشتے دار کی خیریت دریافت کی جا سکتی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ  رشتے داروں کو اہمیت نہیں دیتے۔ اب لائف اسٹینڈرد پہ ساری توجہ ہے اور آگے نکل جانے کا ایک مقابلہ لگا ہوا ہے۔سوشل میڈیا پرانجان لوگوں پریقین کرلیتے ہیں  اور گھنٹوں ان سے باتوں میں سوائے وقت کے زیاں کے اور ایمان خراب کرنے کے کچھ نہیں کرتے لیکن اپنے سگوں کی کچھ خبر گیری نہیں۔ جب کہ یہ حقیقت ہے  کسی بھی مصیبت کے وقت میں اپنے ہی سب سے پہلے کام آتے ہیں ۔انسان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ دینا گول ہے کبھی نا کبھی اپنےپیاروں کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے۔ سب نے اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ اس لئے جو بھی وقت ہے ایک دوسرے کی خبر گیری رکھیں، زندگی کو ہنس کھیل کے گزاریں ، رشتے داروں کے ساتھ میل ملاپ رکھنے سے ایک توانائی برقرار رہتی ہے اور روایات زندہ رہتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube