Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > بلاگز

تمھاری مسکراہٹ، میرا سکون 

SAMAA | - Posted: Nov 25, 2017 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Nov 25, 2017 | Last Updated: 3 years ago

تحریر؛ سید امجد حسین بخاری 

دفتر میں پہنچ کر ابھی کرسی سنبھالی ہی تھی کہ دل چھلنی کرنے والی خبر موصول ہوئی، پاک فوج کے میجر اسحاق ارض وطن کی حفاظت میں اپنی جان فدا کرگئے، قوم کا ایک اور بہادر ثبوت مادر وطن کی حرمت پر قربان ہوگیا، چند ہی لمحات میں ان کی شہادت کی خبر پورے ملک میں پھیل گئی مگر شہید کا چہرہ بار بار میری آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگا، جی ہاں شہید کی ابدی مسکراہٹ میرے دل و دماغ میں پیوست ہوگئی، یہ وہ مسکراہٹ تھی جو شہید نے اس دیس کی ماؤں کے آنسو صاف کرکے اپنے چہرے پر سجائی تھی، یہ وہ مسکراہٹ تھی جو بہنوں کے سہاگ بچانے کے لئے اس چہرے سے عیاں تھی، یہ وہ مسکراہٹ تھی جس پر ہزاروں بار فدا ہونے کا جی کرتا ہے، اسی مسکراہٹ سے ارض پاک کے دشمن تھر تھر کانپ رہے ہیں۔ میجر اسحاق نے ہزاروں چہروں پر اطمینان کے رنگ بکھیر کر ایک حسین تبسم اپنے چہرے پر سجا لی اور ان کی یہ مسکراہٹ رہتی دنیا تک امر ہوگئی۔ شہید کی اسی مسکراہٹ پر احمد مشتاق کا ایک شعر ہے

جیسے پو پھوٹ رہی ہو جنگل میں

یوں کوئی مسکرائے جاتا ہے

میں ابھی شہید کی مسکراہٹ کے حصار سے باہر نکل نہیں پایا تھا کہ ان کی اہلیہ کی ایک تصویر میرے سامنے آئی، حوا کی بیٹی اپنے سہاگ سے راز و نیاز کے باتیں کر رہی تھی، شہید کے تابوت سے لپٹ کر یوں محسوس ہورہا تھا کہ وہ دل کی باتیں کر رہی ہیں، وہ شہید سے مخاطب ہیں کہ میرے سرتاج آپ اس وطن کی خاطر شہید ہوئے ہیں، شہید تو زندہ ہیں، میری بات تو سنیں میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں، 28 سالہ بیوہ کا اداس چہرہ اور تابوت پر ٹکی ہوئی نگاہیں پتھر دل انسانوں کو بھی چیخنے پر مجبور کر رہی تھیں، یہ تصویریں اس دیس کے دشمنوں کے لئے ایک بہادر بیٹی کی جانب سے پیغام تھیں کہ میرا سہاگ تو لٹ گیا، میرا گھر کا چراغ تو بجھ گیا مگر میرا سہاگ اس دیس کی ہزاروں بیٹیوں کے سہاگ بچا گیا اور اس نے کروڑوں گھروں میں روشنی و امید کے دئیے جلاد ئیے ہیں۔ دنیا بھر میں فوجی اپنے وطن پر قربان ہوتے ہیں لیکن جس طرح اس قوم کی بیٹیاں اپنے شہیدوں کا استقبال کرتی ہیں اور جس انداز سے انہیں ابدی منزل کی جانب رخصت کرتی ہیں اس کی مثال دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں ملتی۔ افغانستان، عراق اور دنیا کے دیگر ممالک میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی لاشیں جب ان کے وطن پہنچتی ہیں تو ان کی بیویوں اور اہل خانہ کی صورت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، اپنے پڑوسی ملک بھارت کے کسی سورما کا تابوت جب اس کے گھر پہنچتا ہے تو جو ان کے اہل خانہ پر بیتتی ہے وہ بیان نہیں کیا جاسکتا، جب ان کی بیواؤں کی حالت زار پر آئے روز خبریں بھی سننے کو ملتی ہیں۔ یہ پاکستانی ماؤں اور بیٹیوں کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ اس دیس پر قربان ہونے والے اپنے لخت جگر اور سہاگ شاندار طریقے سے رخصت کرتی ہیں۔

میجر اسحاق کی شہادت نے اس ملک کے دشمنوں کو پیغام دیا ہے کہ پاک دھرتی کی عفت مآب بیٹیاں، بہادر سپوت اور صابر وشاکر مائیں دشمن کے ہر وار کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ زندگی توخدا کی امانت ہے اور اپنی حیات مادر وطن پر قربان کرنے سے زیادہ ان کے لئے کوئی بھی چیز اہم نہیں ہے، ملک کے دشمن یاد رکھیں کہ ہزاروں میجر اسحاق اس قوم میں اب بھی موجود ہیں اور وہ اس دیس کی حفاظت کے لئے کٹ مرنے کو تیار ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube