ہوم   >  بلاگز

اقتدارکی محبت

2 years ago

     پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا مگر رقبے کے لحاظ سے سے سب بڑا صوبہ “بلوچستان” جہاں پر حالات کبھی بہت اچھے یا سازگار نہیں رہے ۔ یہ صوبہ اکثر جنگ کی کیفیت میں رہا ہے۔ بلوچستان نہ صرف اپنی معدنیات کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ بلوچستان کی دلچسپ بات اس کی سیاست بھی ہے۔ مجھے بہت حیرت ہوتی ہے جب اپنے گاؤں پنجگور جاتا ہوں۔ گاؤں میں جس بھی شخص سے بات کرو اسکی خیریت پوچھنے کے بعد اگلی بات سیاست پر ہی ہوتی ہے۔ ایسے ہی ابھی جب میں عید پر گیا اور کزن کے گھر جانا ہوا تو اس نے گرم جوشی سے استقبال کیا،میں نےپوچھاکہ خوش لگ رہے ہو تو فوراً بولا، ہاں کیوں کہ ہماری نیشنل پارٹی جو حکومت میں ہے۔ میں حیرت سے اسے تکتا ہی رہ گیا کہ پھر وہی سیاست۔ اسی طرح جب میں بازار میں کسی سے ملتا یا کسی کو دیکھتا ہوں کہیں بیٹھے دوستوں کو تو ہر ایک کی زبان پرایک ہی بحث ہوتی ہے کہ اگلی حکومت کس کی ہے اور یہ حکومت کیسی جارہی ہے؟ کوئی پچھلی حکومت کا دفاع کرتا نظر آتا ہے تو کوئی اس کے مخالف ۔ خیر یہ ساری باتیں اپنی جگہ “بلوچستان” کی سیاست میں ایک عجیب سی اور حیران کرنے والی ایک اور بات ہے وہ یہ کہ “بلوچستان” کی حکومت جو الیکشن کے بعد بنتی ہے وہ کبھی اپوزیشن میں رہنے کی ہمت نہیں کرتی بلکہ ہمیشہ وفاق کے ساتھ رہتی ہے اب اسے حسن اتفاق کہیں یا پھر مجبوری۔

سال 1999میں جب مسلم لیگ نواز کی حکومت بنی تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل صاحب تھے جو کہ حکومت کا حصہ رہے اس کے بعد مارشل لاء لگا ملک بھر میں تہلکا مچ گیا اس کے بعد پھر ریفرنڈم ہوا جو اس وقت کے آمر جنرل پرویز مشرف نے کروایا اور اس کے بعد2002 کے عام انتخابات ہوئے جس میں پاکستان مسلم لیگ ق نے ایک بڑی اکثریت سے حکومت بنائی جس میں جناب جمالی صاحب کچھ عرصہ کے لئے وزیر اعظم رہے اس وقت بھی جو بلوچستان میں حکومت بنی وہ پی ایم ایل ق کی ہی تھی ۔ جس کے وزیر اعلیٰ جام خان یوسف صاحب تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے ہٹنے کے بعد ملک میں ایک ہلچل اور بے چینی سی تھی اور اگر اس کی تفصیل میں جاؤنگا تو کافی وقت نکل جائے گا اس لئے تھوڑا مختصر رکھتے ہوئے اپنی بات کو آگئے لیکر چلتا ہوں 2008 جب عام انتخاب ہوئے تو اس وقت وفاق میں پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنی حکومت بنائی ۔ مجھے اس وقت بہت حیرت ہوئی جب یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ پی ایم ایل ق کی سیٹ پر لڑنے والے بہت سے ایم پی اے پی پی پی کی حمایت کررہے ہیں۔ اس وقت وزیراعلیٰ مشہور زمانہ سرداراسلم رئیسانی صاحب تھےجن کاڈگری کے حوالےسےچٹکلہ بہت مشہور ہے۔یہی نہیں بلکہ رئیسانی صاحب اپنے چٹکلوں کی وجہ سے ویسے ہی بہت مشہور رہے بہرحال اس صوبائی حکومت میں ایک اور دلچسپ بات یہ تھی کے65 کے ایوان میں صرف ایک ممبر اپوزیشن میں تھے جن کا نام سردار یار محمد رند ہے جو ابھی پی ٹی آئی کے بلوچستان کے صدر ہیں۔ خیر اس حکومت کو آخر کار یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پانچ سال پورے کیے۔ پھر 2013کے جنرل الیکشن ہوئے جس میں مسلم لیگ ن نے اپنی حکومت بنائی اور وفاق کا محاذ بھی سنبھال لیا مگر مخالفین کو یہ سب اچھا نہیں لگا جبھی پاکستان کی سیاست میں ایک بے چینی ہی رہی اور وہ بے چینی کبھی دھرنوں کی صورت تو کبھی ناقدین کی تنقید تھی وغیرہ وغیرہ۔

 2013کے الیکشن کے بعد بلوچستان کی نیشنل پارٹی نے 11 نشستیں حاصل کیں اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے اتحاد کے بعد انہوں نے صوبے میں حکومت بنائی اور اس دفہ پھر سے یہ پارٹیاں حکومت کا حصہ بن گئیں اور ان کی حکومت وفاق میں بھی اور صوبہ میں بھی پھر پروان چڑھ گئی۔ جب پی پی پی کی حکومت تھی تو پنجاب میں اپنی الگ صوبائی حکومت تھی۔اسی طرح حکومت میں کے پی کے میں پی ٹی آئی کی ایک الگ حکومت ہے جو کے وفاق میں بھی اپوزیشن میں ہے اس طرح سندھ میں پی پی پی وفاق میں اپوزیشن کا کردار ادا کررہی ہے اور صوبے میں ان کی الگ حکومت ہے۔ ان حکومتوں کے الگ ہونے سے کیا فائدہ ہوا یا کیا نہیں؟ اس پر میں اگلی دفعہ ضرور لکھوں گا مگر اس طرح بار بار بلوچستان کے ایم این ایر اور ایم پی ایز کا وفاق کی طرف اپنا قبلہ کردینا حیران کن اور سمجھ سے بالا تر ہے کہ کیا یہ اقتدار سے محبت ہے یا پھر اقتدار کو ان سے محبت ہے۔ایک اہم سوال چھوڑرہا ہوں آپ کے لئے کہ ان سب حکومتوں سے بلوچستان کو کیا ملا؟

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں