Wednesday, January 26, 2022  | 22 Jamadilakhir, 1443

اج آکھاں وارث شاہ نوں

SAMAA | - Posted: Nov 23, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 23, 2017 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: فاخرہ گل

روزانہ ہم بہت سی خبریں سُنتے ہیں کچھ کو سرسری انداز میں سُنا جاتا ہے کچھ خبریں ہماری مکمل توجہ کھینچ لیتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو ہمارے ذہن سے چپک کر رہ جاتی ہیں ۔ ایسی ہی ایک خبر چودہ سالہ شریفاں بی بی کی بھی تھی۔،وہی شریفاں بی بی جو دریائے سندھ سے ساٹھ کلومیٹر دور ایک گاؤں میں آباد ہے۔ وہ گاؤں جسے آج سے پانچ سو سال قبل سردار اسماعیل بلوچ نے آباد تو کیا لیکن وہاں کے باسی آج تک خود کو جاہلیت کی قید سے آزاد نہ کروا سکے۔ اور کرواتے بھی کیوں کہ پھر انکی حاکمیت اور راج خطرے میں پڑ سکتا تھا کیونکہ یہ جاہلیت ہی تو ہے جسکی مہربانی سے کم شعور رکھنے والے لوگ صرف انہیں کیا انکے پوسٹرز تک کے سامنے سجدہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اور ویسے بھی آخر ایسا ہوا ہی کیا ہے کہ جس پر بات کی جائے,لکھا جائے یا ذمہ داروں کی جلد اور عبرتناک سزا کے لیے قانون کے پہریداروں پر زور ڈالا جائے۔ صرف چودہ سالہ شریفاں بی بی کوبرہنہ حالت میں کئی گھنٹوں تک گاؤں میں گھُمایا ہی گیا ہے ناں، بے لباس شریفاں بی بی کو گاؤں کا ہر دروازہ بجا کر مدد مانگنے اور گاؤں والوں کیطرف سے اُسے گھر سے نکال کر دروازے بند کئیے جانے کی وڈیو ہی تو بنائی گئی ہے، اُس کے ماں باپ نے اپنی بیٹی کا جسم ڈھانپنے کی فریاد کرتے ہوئے شیطانی قہقہے لگاتے اس گروہ کے بس پاؤں ہی تو چھوئےتھے۔ ذرا وہ منظر ذہن میں لائیں کہ جب ماں اور سہیلیوں کیساتھ پانی بھرنے جاتی شریفاں بی بی کے سامنے اسلحہ تھامے کچھ شیطان صفت لوگ آئے اور اسکی چیخ و پکار اور اسکی ماں کی التجاؤں کی پروا کیے بغیر لوٹ کا مال سمجھ کر شریفہ بی بی کو اپنے گاؤں لے گئے، اُسے بے لباس کیا اور اُسے کہا گیا کہ اب گاؤں کی گلیوں میں گھومتی رہو۔ وہ چیختی رہی، لیکن نہ کوئی تب سُننے والا تھا اور نہ کوئی اب سننے والا ہے۔

ہم بھی نہیں اور آپ بھی نہیں۔۔۔۔ تو یہ کہتے ہوئے دل کس قدر بوجھل ہے کہ یعنی یہ کوئی ایسی بڑی بات تو نہیں کہ جس پر الیکٹرونک پرنٹ یا سوشل میڈیا پر بھونچال آ جاتا۔

اج آکھاں وارث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقا پھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی تو لِکھ لِکھ مارے وين
اج لکھاں دھياں روندياں تينوں وارث شاہ نوں کین

ذرا سوچیں تو سہی کہ وارث شاہ کا قلم سنبھالے ہم میں سے ایسا کون تھا جس نے شریفاں بی بی کو فوری انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کیا ہو۔ اگر حساب کے وقت ہم سے یہ پوچھ لیا گیا کہ جب ہمارے ہوتے ہوئے ظلم و بربریت کی یہ شیطانی داستان لکھی گئی تو ہم نے کیا کردار ادا کیا تو ہمارا جواب کیا ہو گا؟؟؟؟۔
ظلم کے خلاف خاموشی بھی تو ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے تو پھر بُرے صرف اہلِ کوفہ ہی کیوں؟۔
کیا اس جیسے تمام معاملات میں آنکھیں بند کر کے ہم بھی وہی کام نہیں کر رہے جو صدیوں پہلے کوفیوں نے کیا تھا ؟؟؟؟۔

وہ سوشل میڈیا جہاں صرف بارش برسنے پر ہر بندے کی وال جل تھل کا منظر پیش کرنے لگتی ہے وہاں کوئی اس اہم معاملے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا تو دور ایک مذمتی پوسٹ تک کیوں لگاتا؟ شرمین عبید کے ٹوئٹس کو کئی دن تک زیرِ بحث رکھنے اور پھر انکی ہمشیرہ کی سیلف رسپیکٹ کے حق میں لکھنے والے دانشور بھلا شریفاں کی بے حرمتی پر یک سطری پوسٹ بھی کیوں لکھتے؟۔سیاسی شطرنج پر بچھے عدالتی مُہرے آخر اس معمولی سے واقعے کا از خود نوٹس کیوں لیتے کہ جب وہ اپنی ناک کے نیچے موجود جج حضرات کیطرف سے دوسرے مجرموں کو سزا کے طور پر چھ ماہ نماز ادا کرنے کی سرکاری “سزا “سُنانے پر بھی دم سادھے ہوں، اور ویسے بھی ہماری بہنیں بیٹیاں الحمدللّٰہ محفوظ ہیں اس لیے ہم ایسا سوچنے یا تصور کرنے میں وقت ضائع ہی کیوں کریں کہ اگر یہ سب خدانخواستہ ہمارے کسی اپنے کے ساتھ ہوتا تو ہمارا کیا ردِ عمل ہوتا؟۔ اور پھر ایسے لوگوں پر حیرت کیوں نہ ہو جو اس معاملے میں نہ صرف حکومتِ خیبر پختونخواہ کی ناُاہلی بلکہ صوبے میں قانون کی گمشدگی ثابت ہونے پر تالیاں بجاتے نظر آئیں تو بے ساختہ عدالتی فیصلے سے اِن ہونے والا یہ شعر یاد آتا ہے کہ

تو اِ دھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا
مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری پہ سوال ہے

یعنی قانون تو ویسے بھی ہمارے مُلک میں امیر زادوں کی رکھیل سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اس لیے وہ ایک الگ معاملہ ہے، لیکن ایک لمحے کیلئیے اپنے گریبان میں جھانک کر سوچئیے کہ آپ نے بنتِ حوا کا تقدس شیطانی ہاتھوں میں پامال ہوتا دیکھ کر اپنی ذاتی حیثیت میں کیا کیا؟ کس حد تک اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی؟۔

اگر جواب میں خاموشی ہو تو۔۔۔
تو پھر چھوڑیں رہنے دیں ان باتوں میں کیا رکھا ہے اپنے اپنے سیاسی مُرشد کے نام کی تسبیح کیجیے، دسمبر آنے والا ہے ٹھنڈی عشقیہ شاعری سے سوشل میڈیا کی رونق بڑھائیے، چائے کے جنون کی باتیں کیجئے اور رہ گئی شریفاں بی بی تو اُسکا کیا ہے مُلک میں ویسے بھی تو سنا ہے کہ آجکل شریفوں پر بُرا وقت ہے۔ ایک یہ شریفاں بی بی بھی سہی!۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube