Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گرکھلا

SAMAA | - Posted: Nov 16, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 16, 2017 | Last Updated: 4 years ago

ہمیں اپنی زندگی میں کبھی نا کبھی کسی تلخ تجربے سے گزرنا ہی پڑتا ہے چاہے وہ بیماری کے وقت اسپتال میں کسی نا تجربے کار ڈاکٹر پہ پیسہ ضائع کرنے کا ہو یا آن لائن شاپنگ کے ذریعے منگوائے گئے برانڈڈ سوٹ کے آسرے میں گھٹیا کوالٹی وصول ہو جانا اور سوائے صبر کے کچھ نہ کرنا۔

اس طرح کے تجربات میں اصل افسوس پیسہ ضائع ہونے کا ہوتا ہے لیکن میں نے اپنی زندگی میں ایک تلخ حقیقت کو مانا کہ بعض دفعہ ایسے حالات بھی آتے ہیں جب پیسے سے زیادہ افسوس ہمیں اپنے وقت ضائع ہونے کا ہوتا ہے اور ایسا تجربہ مجھے بہت دفعہ آن لائن فری لانس کام کرتے ہوئے حاصل ہوا۔ میں نے فری لانس کام کرنے کے لئے انٹرنیٹ پہ بہت سے پلیٹ فارمز ڈوھونڈے، فیس بک پہ کافی گروپس جوائن کئے اور ایک عرصے سے انٹرنیٹ پہ آن لائن کام ڈھونڈنے کے چکر میں ایسے ایسے شاہکار کا دیدار ہوا کہ عقل ہی دنگ رہ گئی اور سوائے ہاتھ ملنے کے یا کوسنے دینے کے کیا کرتے۔ (یہ حقیقت ہے کہ کسی صنفِ نازک کا دل دکھے تو پیٹ بھر کے کوستی ہے)۔انٹرنیٹ پہ فراڈ کرنے والے کو اسکیمرز کہا جاتا ہے۔

پہلے زمانے میں تھوڑی تگ و ود کے بعد فراڈ کرنے والے کی پکڑہوہی جاتی تھی کیونکہ فراڈ بھی اکثر اس نوعیت کے ہوتے تھے جیسے کہ بیرونِ ملک نوکری کا جھانسا دے کے ایک اچھی خاصی رقم وصول کر لینا اور بعد میں منظرِ عام سے غائب ہو جانا یا اصل اشیاء کی رقم وصول کر کے نقل تھما دینا ۔لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے ، آئے دن نت نئی ٹیکنالوجیز متعارف کروائی جا رہی ہیں ۔ سوشل میڈیا نے ہلچل مچائی ہوئی ہے بلکہ یوں کہنا مناسب ہے کہ کہرام برپا کر دیا ہے کہ اس کے غلط استعمال سے منفی نقصانات ہی زیادہ ہوئے ہیں۔

اگر اپنے فری لانس تجربے کے دوران تلخ تجربے کی بات کروں تو لکھنا میرا شوق ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ شوق ضرورت میں بھی تبدیل ہو گیا۔ آن لائن کام کرتے ہوئے مختلف لوگ ملتے گئے اورلکھواتے رہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ لکھنے والے کو جتنی جان اپنے قلم میں ڈالنی پڑتی ہے اتنی وصول کئے گئے معاوضے میں نہیں ہوتی ۔ اس سلسلے میں کچھ دھوکے باز ایسے ملتے ہیں جو پورا اسائینمنٹ لکھوا لیتے ہیں اور ایک دن میں پیسوں کا کہہ کے اپنی پروفائل ہی ڈیلیٹ کر دیتے ہیں حتیٰ کہ جو فون نمبر دیا جاتا ہے وہ تک بند کر دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انٹرنیشنل کلائنٹس سے کام پکڑتے ہیں اور ہم جیسے لوگوں سے کام وصول کر کے غائب ہوجاتے ہیں بعد میں تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہمارا کام کسی انٹرنیشنل ویب سائٹ پہ کسی اور نام سے شائع ہوا ہے۔جب کہ ہمیں اس محنت کا کوئی صلہ نہیں ملا۔اب سوائے افسوس کے اور کریں بھی تو کیا؟۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے طریقوں سے انٹرنیٹ کی دنیا میں دھوکے بازوں نے ادھم ڈھایا ہوا ہےمثلاً آپ کو براؤزنگ کرتے ہوئے اچانک کونے میں ایک اشتہار جگمگاتا ہوا مسلسل نظر آئے گا جس میں آپ کو فری ڈالرز دینے کی پیشکش کی گئی ہوگی اب کون نا چاہے گا کہ اس کو ڈالرز ملیں وہ بھی بغیرکسی محنت کے تو نا چاہتے ہوئے بھی آپ اس کو کلک کر دیں گے ۔ آگے تفصیل میں جائیں گے تو پتا چلے گا کہ جب آپ مزید تیس لوگوں کو اپنا ریفرل لنک جو کہ اس ویب سائٹ نے آپ کو دیا ہے شئیرکریں گے اور وہ تیس لوگ اس لنک کے ذریعے اس ویب سائٹ پہ آجائیں گے تو آپ کو تین سو ڈالرز بطور ریوارڈ دیے جائیں گے۔ہوتا یوں ہے کہ جب آخری تیسواں بندہ ان کی ویب سائٹ کو آپ کے ذریعے جوائن کر لے گا تو ایک فارم کھلتا ہے یا ایک میسج باکس بس میں معذرت کے ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ یہ پروگرام آپ کے ملک کے لئے کارآمد نہیں ہے۔ اب سوائے سر پھوڑنے کے آپ کے پاس کوئی آپشن نہیں اور اس میں زیادہ افسوس وقت ضائع ہونے کا ہوتا ہے۔

ایک بہت سنگین طریقہ واردات یہ ہے کہ آپ کے کمپیوٹر میں اچانک ایک پوپ اپ ونڈو کھلتی ہے جس میں آپ کو انتباہ دیا جا رہا ہوتاہے کہ آپ کے کمپیوٹر میں وائرس ہے جو تیزی آپ کے کمپیوٹر کا ڈیٹا خراب کر سکتا ہے اس سے بچنے کے لئے اینٹی کمپیوٹر پروگرام انسٹال کیجئے جس کی فیس 10 ڈالر ہوگی اب آپ اپنے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے اپنے ڈیٹا کو بچانے کے لئے جلدی سے یہ پروگرام خریدیں گے اور کارڈ انفارمیشن دیں گے جس کے بعد آپ کے کارڈ سے ساری رقم غائب ہو جائے گی اور آپ سوائے کفِ افسوس کے کچھ نہیں کر سکیں گے۔ سوشل میڈیا پہ کسی اسپتال کے وینٹیلیٹر پہ پڑی کسی بچے کی تصویر دی جاتی ہے اور ساتھ ہی ڈونیشن کی اپیل کی جاتی ہے اب صاحبِ اولاد حضرات ضرور چاہیں گے کہ کسی کے جگر کا ٹکڑا صحت مند زندگی کی طرف لوٹ آئے۔ جب کہ حقیقت میں تصویر شئیر کرنے والے کا اس تصویر یا بچے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ ہوتا تو صرف اس تصویر پہ وصول ہونے والی رقم سے ہے۔

لوگوں کو انٹرنیٹ احتیاط سے استعمال کا مشورہ دینے کے ساتھ اسکیمرز کو احساس دلانا چاہوں گی کہ براہِ کرم پیسوں کے پیچھے اپنا ایمان خراب مت کریں ، جزا اور سزا کا معاملہ آخرت سے پہلے دنیا میں ہی طے ہوجاتا ہے۔چاہے آپ متاثرہ فرد کی یا قانون کی پکڑ میں نا آئیں لیکن اللہ کی پکڑ سے کوئی نا روک سکے گا اور اس دن آپ کو اپنی حرکتوں پہ افسوس ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube