خواتین معاشرے کا روشن پہلو

November 15, 2017

تحریر: محمد عدیل طیب

کسی بھی معاشرے میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ یہ خواتین ہی ہے جو کل کو مائیں اور بیٹیاں بنتی ہیں۔ یہ خواتین ہی ہیں جن کے دم سے گھر کا نظام درست انداز میں چلتا ہے لیکن اگر یہ نا ہوں تو گھر کا سکون بھی برباد ہوجاتا ہے۔ موجودہ دور کے حالات کے پیش نظر گھریلو اور ملکی نظام کو چلانے کے لیے خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جانا چاہیئے، اور اس حوالے سے عورتوں کو تعلیم اور تربیت دینی چاہیئے۔ پاکستان میں بیشتر ادارے فیس کی مد میں خواتین کو تعلیم دیتے اور دیگر کام سیکھاتے ہیں جن میں زیادہ تر متوسط اور امیر طبقے کی خواتین شامل ہوتی ہیں لیکن غریب گھروں کی خواتین پیسے نہ ہونے کے باعث ان اداروں میں نہیں جا پاتیں۔ جبکہ گھروں کے مخصوص حالات بھی ان کو گھر کی چار دیواری میں قید کردیتے ہیں۔ پاکستان میں کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جو خواتین کو بلا معاوضہ تعلیم دیتے اور ان کی تربیت کرتے ہیں، جبکہ ضرورت مند خواتین کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

اس سلسلے کے پیش نظر گزشتہ دنوں میرا کراچی میں واقع ’’ٹیف‘‘ نامی ادارہ میں جانا ہوا۔ ٹیف کا مکمل نام ’’دی عباسی فاؤنڈیشن‘‘ ہے اور اس تنظیم کا قیام 2010 میں لایا گیا۔ یہ ادارہ خصوصا خواتین کے لئے کام کرتا ہے جس کا مشن تعلیم، صحت اور سماجی شعور کے شعبوں میں کام کرنا ہے۔ خواتین کو بہتر روزگار فراہم کرنے کے لیے یہ غیر سرکاری تنظیم ’’تجارتی تربیتی ادارے‘‘ کے تحت تین اہم شعبوں پر کام کر رہی ہے۔

نوکری کا طریقہ: ’’تجارتی تربیتی ادارہ‘‘ اس وقت شہر کے پسماندہ علاقوں اور کم آمدنی والی گھریلو خواتین جن کی عمریں 18 سے 45 سال کے درمیان ہوتی ہیں پر کام کر رہا ہے۔ مکمل چھان بین کے بعد خواتین کو ٹریننگ میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ صرف ضرورت مند خواتین ہی اس کا حصہ بن سکیں۔

ٹریننگ: خواتین کو 5 اہم اجزاء پر مشتمل گھریلو پروگرام پر ٹریننگ دی جاتی ہے جس میں کھانا پکانا، گھریلو کام، قانونی طور پر طاقتور، مالیاتی طور پر طاقتور جبکہ پیشہ ورانہ مہارت، اخلاقیات اور اقدار کے نظام شامل ہیں۔ اس سلسلے میں خواتین کو تجربہ کار عملے کے ذریعے ٹریننگ دی جاتی ہے جس میں انکو انسان کے بنیادی اور معاہدے کے حقوق بتائے جاتے ہیں جوکہ ملک کے آئین اور اسلامی دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کو بنک اکاؤنٹ کی اہمیت، گھریلو بجٹ اور پیسے کی بچت کے متعلق آگاہی بھی دی جاتی ہے۔

ملازمت دلوانا: ٹیف کا ’’تجارتی تربیتی ادارہ‘‘ اپنے گریجویٹس کو پروفیشنل جگہوں پر نوکری دلواتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملازم کے حقوق اور ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں۔ یہ ادارہ اپنے ملازموں کےلئے کمپنی سے مزدوروں کے قانون پر عمل درآمد بھی کرواتا ہے جس کے تحت کم از کم 25 ہزار تنخواہ مقرر کی جاتی ہے۔

 

دی عباسی فاؤنڈیشن غریب طبقے کی خواتین پر کام کرنے والا ایک منفرد ادارہ ہے جوکہ اپنا کام ملک دوسرے شہروں میں بھی پھیلا رہا ہے۔ اسکے علاوہ اس ادارے کی خواتین اسپتالوں میں نرس کی ملازمت بھی کرتی ہیں۔ بلاشبہ ملک کے ایک خاص طبقے کی خواتین کے لئے یہ ادارہ کسی نعمت سے کم نہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جو کام حکومت وقت کے کرنے کا ہے وہ کام ملک میں موجود غیرسرکاری ادارے کر رہے ہیں، جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتیں خود کو اس کام سے بری ذمہ سمجھ چکی ہیں۔ سماء

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
 

ضرور دیکھئے