پاکستان کو اب بیدار رہنا ہے

November 15, 2017

امریکہ نے ابھی ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے مطابق امریکہ نے لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کو الگ کر دیا ہے ۔ ماضی میں امریکہ پاکستانی افواج کو دہشت گردوں کا سہولت کار سمجھتا تھا اور لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کوبھارت کی جانب سے عطا کردہ ایک ہی عینک سے دیکھنے کا عادی تھا۔ نیشنل ڈیفنس اتھاریشن ایکٹ2018ء کے مطابق امریکی کانگریس نے ڈیفنس سیکریٹری سے یہ اختیار بھی ہٹا لیا ہے جس کے مطابق وہ بیان کردہ امور میں پاکستان کا کردار جانچنے اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے مختار تھے۔

دیکھا جائے تو یہ گراؤنڈ کسی حد تک پاکستان کے حق میں ہے اور کافی حد تک پاکستان کے خلاف بھی ہے ۔ حق میں ایسے ہے کہ ایک طرف تو امریکہ پاکستان کا دہشت گردوں کو قلع قمع کرنے میں کردار تسلیم کرنا شروع ہوگیا ہے تو دوسری جانب وہ اب بھی ڈومور کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ کیا امریکہ لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کو الگ کرنے کے بعد بھی ڈو مور کا مطالبہ کرے گا؟ میری ذاتی رائے ہے کہ دنیا کے سامنے اپنا دم رکھنے کیلئے اور نیٹو افواج کو راضی کرنے کیلئے امریکہ ایسا لازمی کرے گا۔

اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کا افغانستان سے انخلاء کا کوئی موڈ نہیں ہے ۔ امریکہ نے ماضی میں ایک بہت بھاری غلطی کی تھی جس کا خمیازہ امریکی معیشت اور یہ خطہ ابھی تک بھگت رہا ہے ۔ وہ غلطی یہ تھی کہ بظاہر افغان طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد، امریکہ نے عراق کا رُخ کر لیا تھا۔ یہ ایک سنگین غلطی تھی ۔ ادھورے آپریشن کو مکمل سمجھ کر عرا ق کا رُخ کرنے کے نتیجے میں امریکی معیشت پر اضافی بوجھ پڑا ، خطے کے دیگر ممالک غیر مستحکم ہوئے اور امریکہ نے جن کی حکومت کو ختم کیا تھا ، وہ دوبار ہ افغانستان کے بڑے حصے پر قابض ہوگئے۔ افغانستان کا سیاسی فیصلہ اُس کی عوام نے کرنا ہے تاہم اس ساری تصویر میں صرف اور صرف اسلحہ ساز کمپنیاں ہی فائدے میں رہی اور انہوں نے اربوں ڈالرز کے اثاثے ٹیکس ہیونز میں قائم کئے۔ اس بل میں حقانی نیٹ ورک پر فوکس یہ بتا رہا ہے کہ امریکہ کا اس خطے سے جانے کا کوئی موڈ ہی نہیں ہے اور وہ نہ صرف خود بلکہ نیٹو افواج کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک کو بھی یہاں انگیج کرے گا۔ وہ ایسا کیوں کرے گا، اس کو جواب گہرائی میں جا کر دینے کیلئے ایک نیا کالم درکار ہوگا تاہم اس کا ایک لفظ میں جواب ہے ، سی پیک ۔

اسی بل کے مطابق پاکستان نے جو 700ملین ڈالرز کی ’ری ابرسمنٹ ‘ لینی ہے وہ مشروط ہو چکی ہے اور اس میں مزید شقوں کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔اس میں سے 350ملین ڈالر اُس وقت تک ادا نہیں کئے جائیں گے جب تک کہ کانگریشنل ڈیفنس کمیٹیکو ڈیفنس سیکرٹری سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتاہے ۔اس سرٹیفکیٹ کے مطابق ، ڈیفنس سیکرٹری اس بات کو یقینی بنا ئے گا کہ پاکستان کو ’ر ی امبرسمنٹ‘اُسی صورت میں دی جائے جب تک کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف اقداما ت جاری رکھے ، وہ افغانستان کے ساتھ شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کیلئے قرار واقعی اقدامات کرے، وہ اُن کی محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کرے اوروہ اُن کی فنڈنگ کے ذرائع کا قلع قمع کرے۔

اس بل کی گہرائی میں جائے بغیر یہ اِس وقت یہ دیکھیں کہ کن شرائط پر پاکستان کو اُس کی وہ جائز رقم ملے گی جو اُس نے اپنی جانب سے امریکہ کیلئے خرچ کی ۔ ابھی حال ہی میں پاکستان کے دو فوجی فرنٹ لائن پر شہید ہوئے ۔ یہ حملہ افغان دہشت گردوں کی جانب سے کیا، افغان سر زمین سے کیا گیا تھا۔کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ افغانستان میں درحقیقت ابھی تک سکیورٹی کی ذمہ داری کس کے پاس ہے؟اگر پاکستان کو ڈو مور کرنا ہے تو افغانستان کو کیا کرنا ہے؟ افواج پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کیسے ایکشن لیا، اس کا گواہ تو یہ ملک اور اس کا موجودہ امن ہے۔ ماضی اور حال کا جائزہ لینے سے ہی واضح ہو جاتا ہے پاکستان اب امن و استحکام کی جانب گامزن ہے۔آئی ایس پی آر کا یہ مطالبہ کہ افغانستا ن سے دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں، بالکل درست اور مبنی بر حقیقت ہے۔

اس ملے جلے بل کے اثرات تو وقت آنے پر ہی واضح ہونگے تاہم یہ بالکل واضح ہے کہ امریکہ کا ابھی افغانستان سے جانے کا کوئی موڈ نہیں ہے اور شاید وہ افغانستان میں قیام کسی بھی جواز کے تحت مزید بڑھا دے۔ کیا امریکی معیشت اس بات کی اجازت دیتی ہے؟ کیا خطے کے دیگر ممالک بشمول چین اور روس کو امریکہ کا یہ قیام قبول ہوگا اور اس سب تناظر میں سی پیک کیلئے کتنے خطرات بڑھ گئے ہیں، یہ آنے والا وقت بتائے گا لیکن پاکستان کیلئے یہ وقت مکمل چوکس رہنے اور بیداری کا ہے۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.