یہ بلا ٹلنے کی نہیں

November 15, 2017

تحریر: عابد علی

پُرانے وقتوں میں کسی گاوں میں کوئی وبا پھوٹ پڑتی تھی تو لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جاتا تھا کہ اللہ تعالی ناراض ہوگئے ہیں تو اُن پر عذاب نازل ہو رہا ہے۔ لوگ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے دعائیں مانگتے، منتیں مانگتے تھے کہ اللہ اُن پر سے عذاب کو ٹال دے۔ کچھ سال پہلے چائنہ کے دارلحکومت بیجنگ میں دھند نے جب لوگوں کی آنکھوں میں اور گلے میں چھبن پیدا کی تو اُنہیں احساس ہوا کہ یہ دھند نہیں کچھ اور ہے جب سائنسدانوں نے اس پر ریسرچ کی تو معلوم ہوا کہ یہ دھند کے ذرات اور اُنکی کوئلے کی فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوائیں کے ملاپ سے ایک نئی چیز وجود میں آئی ہے جسے سموگ کا نام دے دیا گیا۔ بعد میں اس سموگ نے یعنی زہریلے دھویں نے ہمارے پڑوسی مُلک کے دارلحکومت نئی دلی میں بھی اپنی نموداری کی اور ہم لوگوں نے کہا کہ ان لوگوں پر اللہ کا عذاب ہے انہوں نے قوانین قدرت توڑے ہیں۔

گزشتہ سال تخت لاہور میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ماہ اکتوبر کے دوران لوگوں کے گلے میں چُھبن ہوئی تو سانس اور گلے کی بیماریاں ہوئی تو معلوم ہوا کہ اب یہ عذاب ہم پر بھی آن پڑا ہے۔ آیا کیوں؟ کسی نے بولا کہ بھارت میں چاول کے بھوسے کو جلایا جا رہا ہے چونکہ کبھی بھار ہمارے موسم کا پیٹرن بھارت کی جانب سے چلتا ہے تو وہاں سے آنے والی ہوا سموگ کی آفت ہمارے لئے لے آئی۔ دوسری جانب گرم موسم اور خشک سالی نے اس میں اضافہ کر دیا۔ لیکن حیران کُن بات یہ ہے کہ کیا ہم لوگ فطرت کا خیال رکھ رہے ہیں کیا ہمارے ادارے ماحول کی بہتر بنانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں کیا جب ہمارے دونوں جانب یہ آفت نازل ہو رہی تھی تو ہم نے اقدامات کیا لئے؟

محکمہ موسمیات کے ترجمان ڈاکٹر محمد حنیف سے ایک انٹرویو کے دوران جب میں نے یہ جاننا چاہا کہ کیا واقعی اس میں بھارت کا کردار ہے تو وہ بولے کہ اگر بھارت کی جانب سے یہ آفت آتی تو پورے پنجاب میں ایک جیسی ہوتی۔ صرف لاہور پر ہی گہری نہ ہوتی۔ اصل میں قصور ہمارا اپنا ہے۔ بھارت کا اس میں صرف کردار 5-10 فیصد ہے۔ باقی ہماری صنعتوں اور گاڑیوں کا کردار ہے۔ بات تو دل کو لگتی ہے۔ دوسری جانب یہ خیال بھی آتا ہے کہ ہر جانب اس سے بچاو کے بارے میں سوچا جا رہا ہے کہ ماسک پہن لیں، گھر سے باہر نہ نکلیں۔ تو آپ سموگ کے اثرات سے بچ جائینگے۔ کیا مستقبل میں ایسا ممکن ہو گا؟

ترجمان محکمہ موسمیات نے یہ بتایا کہ اس مرتبہ سموگ کی شدت تین گنا زیادہ ہے اگلے سال مزید تیز ہو گی کیونکہ فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں۔ جہاں پر وزارت موسمیاتی تبدیلی یہ راگ آلاپتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اُنکے اختیارات میں کمی ہو گئی ہے تو دوسری جانب اینوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کا کہیں پر کوئی کردار نظر نہیں آ رہا خواہ مسئلہ زہر آلودہ پانی کا ہو یا پھر زہر آلودہ ہوا کا۔ اس وقت ملک کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان موسمیاتی تغیرات کی بدولت ہو رہا ہے۔ اب اس میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ قدرت کی بھیجی ہوئی بلا کو کوئی ٹال نہیں سکتا ایسے میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ محکمہ موسمیاتی تبدیلی اگر کچھ کر نہیں سکتا تو اسے ختم کر دینا چاہیئے کیونکہ جھیلنے کو قدرت کا عذاب ہی کافی ہے۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.