ٹوٹتے جڑتے سیاسی اتحاد

November 14, 2017

تحریر: محمد نثار خان

جوں جوں پاکستان میں عام انتخابات 2018ء کے انتخابات قریب آ رہے ہیں ، سیاسی جماعتوں نے جوڑ توڑ کے لیے رابطے بھی تیز کر دیے ہیں ، نئے نئے سیاسی اتحاد بنتے ہیں ، پھر ٹوٹ جاتے ہیں اور کچھ نئے سیاسی اتحاد پرانے سیاسی اتحادوں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کا سیاسی اتحاد قائم ہوا بلکہ دونوں جماعتوں کے سربراہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی کہ دونوں جماعتیں ضم ہو کر ایک جماعت بنیں گیں جس کا نام نہ ایم کیو ایم ہوگا اور نہ پاک سرزمین پارٹی ، ایک نئی جماعت بنے گی جس کا نیا منشور ہو گا ۔ لیکن اس فیصلے کے دوسرے دن ہی حقیقت کھل گئی کہ یہ ایک مصنوعی قسم کا سیاسی جوڑ توڑ تھا جو دوسرے دن ہی ختم ہو گیا اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف دوسرے دن ہی خوب بھڑاس نکالنا شروع کر دی۔

کراچی کے اس ناکام اتحاد کے بعد ہی سابق صدر پرویز مشرف نے ایک اور23جماعتی سیاسی اتحاد قائم کیا جس کا نام نام پاکستان عوامی اتحاد رکھا گیا ہے، پرویز مشرف اس اتحاد کے چیئرمین بن گئے ، پاکستان سرزمین پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو بھی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی گئی،لیکن دونوں جماعتوں نے اس اتحاد میں شامل ہونے سے گریز کیا ، پرویز مشرف کا یہ اتحاد بھی دوسرے دن ہی ٹوٹ گیا ، پاکستان عوامی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین نے اس اتحاد سے دوسرے دن ہی اظہار لا تعلقی کیا اور اس سیاسی اتحاد میں کئی دینی جماعتیں ایسی ہیں جن کا وجود حقیقت میں ہے ہی نہیں یا وہ برائے نام ہے ، لہذا کہا جا سکتا ہے کہ پرویز مشرف سیاسی اتحاد ناکام اتحاد ہے ۔

تیسرا ہم ترین سیاسی اتحاد جو بننے جا رہا ہے وہ نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے ، متحدہ مجلس عمل بحال ہو رہی ہے ، ایم ایم اے میں جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام ف سمیت کئی دینی جماعتیں شامل ہوں گے ، اگر ایم ایم اے بحال ہوئی تو پورے ملک میں اس کے اثرات خواہ نہ ہوں لیکن خیبر پختونخوا میں اس کے اثرات ضرور ہوں گے ، اگر دسمبر میں ایم ایم اے بحال ہو گئی تو خیبر پختونخوا حکومت پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید سراج الحق نے اپنے انٹرویو میں اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ اگر ایم ایم اے کی بحالی کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اگر ایم ایم اے بحال ہو گئی تو جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ میں حکومت کا ساتھ چھوڑ د ے گی ، اگر جماعت اسلامی کے پی کے حکومت سے علیحدہ ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر تحریک انصاف پر پڑے گا جو صوبے میں جماعت اسلامی کو ساتھ ملا کر حکومت کر رہی ہے ، تحریک انصاف کو پھر نیا سیاسی اتحاد قائم کرنا ہو گا، اسی طرح ایک ایم ایم اے بحال ہو تی ہے تو جمیت علمائے اسلام ف  کو وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ن کا ساتھ چھوڑنا ہو گا۔

جوں جوں انتخابات 2018ء قریب آتے جائیں گے نئے سیاسی اتحاد سامنے آتے جائیں گے ، مسلم لیگ ن کسی جماعت کو ساتھ ملائے گی تو پیپلز پارٹی کسی جماعت کو ساتھ ملائے گی ، تحریک انصاف کو بھی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ہاتھ ملانا ہو گا ، جوں جوں انتخابات کا وقت قریب آتا جائے گا سیاسی صورتحال بھی سامنے آتی جائے گی لیکن ایک بات طے ہے کہ وہی سیاسی اتحاد کامیاب ہو گا جو عوام کی بھلائی کے لیے قائم کیا گیا ہو ، محض کسی دوسری سیاسی جماعت کو نیچا دیکھااور مصنوعی طور پر قائم کردہ سیاسی اتحاد کو عوام بالکل پزیرائی نہیں دیں گے ، مصنوعی سیاسی اتحاد کا حال عوام نے کراچی کی دو جماعتوں کے اتحاد کے طور پر دیکھ لیا جو قائم ہونے کے دوسرے دن ہی ٹوٹ گیا ، دوسری جانب پرویز مشرف اتحاد کا حال بھی  سب کے سامنے ہے ، اب ایم ایم اے کی جانب لوگوں کی نظریں ہیں دیکھتے ہیں ، ایم ایم اے کے پاکستان کی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے ۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.