کمال کے کمالات اور فاروق ستار کی سیاسی چال

November 14, 2017

پچھلے کئی دنوں سے کراچی کا سیاسی موسم کافی گرم ہے۔ ایک طرف پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب سیاست کررہے ہیں اور سیاسی تھیٹر میں ان کے سیاسی کمالات کا خوب چرچہ ہے تو دوسری طرف فاروق ستار اپنے پرانی ساتھی مصطفی کمال کے ساتھ انتہائی باریک کام کرگئے۔ مصطفی کمال اکثر اپنی سابقہ جماعت ایم کیو ایم پر الزام تراشی کرتے نظر آتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ملک دشمن جماعت ہے، کبھی کہتے ہیں ایم کیو ایم پاکستان اور لندن ایک ہیں تو کبھی فاروق ستار پر الطاف حسین سے رابطے کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ الزام صحیح ہے یا غلط یہ ایک الگ بحث ہے مگر مصطفی کمال نے ایک طرف تو فاروق ستار پر الطاف حسین سے رابطے کا الزام لگایا مگر دوسری طرف وہی فاروق ستار تھے جنہیں گلے لگا کر انہوں نے ایک ساتھ چلنے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد فاروق ستار اور مصطفی کمال کے درمیان میڈیا پر ہونے والی لفظی جنگ سے تو آپ سب واقف ہی ہیں۔

مصطفی کمال کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ پر الزام بھی لگائے گئے جس کی ڈی جی رینجرز نے تردید بھی کی۔ مصطفی کمال نے دعوی کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان ڈی جی رینجرز کے آفس میں بنی، یہ الزام انتہائی مضحکہ خیز ہے کیونکہ ایم کیو ایم جب سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے تب سے اس کا نام ایم کیو ایم پاکستان ہے اور اگر مصطفی کمال کے الزامات میں سچائی ہوتی تو متحدہ کے رہنماؤں پر مقدمات نہیں بنتے۔ سچ تو یہ ہے کہ پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال کے پاس ایسا جادوئی واشنگ پاؤڈر ہے کہ جو بھی ان کی جماعت میں شامل ہوتا ہے اس کے دامن پر لگے سب داغ دھل جاتے ہیں اور وہ پاک ہوجاتا ہے جس کی تازہ مثال ڈپٹی میئر ارشد وہرہ ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں نے مختلف آراء پیش کیں ہیں جن سے آپ سب واقف ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ حالیہ دنوں میں جو کچھ بھی ہوا وہ فاروق ستار کی سیاسی چال تھی۔ انہوں نے 38 سالہ سیاسی تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک تیر سے کئی شکار کرلئے۔ ایک طرف مصطفی کمال جو انہیں الطاف حسین کا ایجنٹ قرار دیتے رہے ان کو ایکسپوز کیا کہ اگر وہ واقعی الطاف حسین سے رابطے میں تھے تو مصطفی کمال نے سیاسی اتحاد کے لئے ہاتھ کیوں بڑھایا۔ دوسرا فاروق ستار نے بتایا کہ وہ دہائیوں سے پارلیمنٹ کا حصہ ہیں اس کے باوجود ایک اچھی اور بلٹ پروف گاڑی لینے کے لئے انہیں کتنے جتن کرنا پڑے تو مصطفی کمال نے کیسے کراچی کے پوش علاقے میں بنگلہ اور شاندار گاڑی خریدی جس کی مالیت کروڑوں روپے ہے اور سب سے اہم سیاسی فائدہ یہ ہوا کہ جو لوگ فاروق ستار کو پارٹی سربراہ کی حیثیت سے ماننے سے انکار کررہے تھے وہ بھی ان کو منا رہے تھے کہ آپ مستعفی نا ہوں۔

حالیہ دنوں میں ہونے والی سیاسی جنگ کا نقصان صرف اور صرف پی ایس پی کو ہوا جب کہ ایم کیو ایم پاکستان کو اس سیاسی جنگ کا فائدہ ہوا اور وہ تمام لوگ جو آپسی اختلافات کے باعث خفا تھے انہوں نے آپس کے اختلافات بھلا کر ایک ہونے کا فیصلہ کیا اور ایم کیو ایم پھر سے متحد ہوگئی۔  سادہ لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مصطفی کمال کمالات نا دکھا سکے مگر فاروق ستار سیاسی چال چلنے میں کامیاب دکھائی دیئے

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
 

ضرور دیکھئے


 بچوں پر ظلم آخر کب تک
بچوں پر ظلم آخر کب تک

November 18, 2017 1:16 pm

 ٹسوے
ٹسوے

November 18, 2017 5:29 am

 پتہ بھی نہیں ٹوٹا
پتہ بھی نہیں ٹوٹا

November 17, 2017 10:42 am

 گرد چھٹ رہی ہے۔۔۔
گرد چھٹ رہی ہے۔۔۔

November 17, 2017 9:48 am

 بونسائی آرٹ
بونسائی آرٹ

November 17, 2017 6:36 am