ماضی کے انوکھے لاڈلے

November 14, 2017

تحریر: عمیمہ خان

رشتہ جُڑنے سے پہلے ٹُوٹ گیا، دل ملنے سے پہلے کوئی رُوٹھ گیا، ماں کی دعاؤں کے سائے میں بھائی کی واپسی، اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے طعنے، فلم کے سارے بدلتے سین مس ہوگئے۔ کراچی میں بلاک بسٹر فلم کی نمائش جاری ہے ۔ وقت ملتے ہی ٹی وی لگایا تو سعد رفیق کا بیان سامنے آگیا۔ کہتے ہیں جماعتیں بنانے اور توڑنے کا مشغلہ ترک کرنا ہوگا۔یہ بیان سن کر کراچی کی سلور اسکرین پر لگی سنسنی خیز فلم مجھے پھیکی لگنے لگی اور سوچ کے گھوڑے کہیں اور دوڑنے لگے۔

سعد رفیق بالکل ٹھیک ہیں، بچپن سے ہم یہ ہی سنتے آئے ہیں کہ پاکستان میں نادیدہ قوتوں کا مشغلہ ہے کہ وہ جماعتیں بناتی اور توڑتی ہیں۔۔ اور پھر ان ہی ٹوٹی پھوٹی جماعتوں سے پھلا پھولا کوئی "لاڈلا" پاکستانی قوم کو تحفے میں ملتا ہے۔ یہ لاڈلا جیسے ہی عوام کی بیساکھیوں سے چلنا سیکھ لیتا ہے نادیدہ قوتوں کی "فیڈر"پینا چھوڑدیتا ہے۔ پھر نادیدہ قوتیں اس لاڈلے کو ہٹانے اور نیا لاڈلا تیار کرنے میں مشغول ہوجاتی ہیں۔ اور پرانے لاڈلے عوام کو مقدس جمہوریت کے نام پر بے وقوف بنانے کا شُغل جاری رکھتے ہیں ۔ سعد رفیق کو اس مطالبے کے ساتھ کچھ علاج ان سابقہ اور حاضر لاڈلوں کا بھی بتانا چاہئے جو"پھکی " کی طرح ہر آمر کی بد ہضمی دور کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ مسلم لیگ کے برانڈ کی تو خیر کیا ہی بات ہے اس "برانڈ نیم " نے ہر آمر کے لئے آکسیجن ماسک فراہم کئے۔

ماضی میں جھانکیں تو ایوب خان کے ایبڈو نے سیاسی جماعتوں کو زہریلی گیس کی طرح ہوا میں تحلیل کردیا۔ لیکن اس قانون کا سب سے زیادہ نقصان مشرقی پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو ہوا، مشرقی پاکستان کی سیاسی قیادت کو سائڈ لائن کرنے کے لئے ہی ایبڈو کا سہارا لیا گیا۔ یہ تو اس وقت کے بزرگ اور ہمارے سینئرز ہی بتاسکتے ہیں کہ مغربی پاکستان کے سیاستدان بنگالی قیادت کے ساتھ متحد کیوں نہ ہوسکے؟ ایبڈو کی تلوار ہٹا کر ایوب خان کو اپنی سیاسی جماعت بنانے کا شغل ہوا تو برانڈ نیم مسلم لیگ کا ہی استعمال کیا اور کنونشن مسلم لیگ بنا کر ذوالفقار علی بھٹو کو اپنا لاڈلا بنایا۔ یہ سلسلہ پرویز مشرف تک چلتا دیکھا ہے جنھیں چوہدری برادران نے سائیکل کی سواری فراہم کی۔

بیج خراب ہو تو فصل پھلتی پھولتی نہیں، "ڈیڈی" کے گملے سے نکلے بھٹو صاحب نے پیپلز پارٹی تو بنا لی ، لیکن "نو ستارے بھائی بھائی" کا نعرہ لگانے والے لاڈلوں سے نہ بچ سکے۔ پی این اے کی احتجاجی تحریک لے ڈوبی۔ اس بار کا اتحاد سیزن نہ جانے کس پر بجلیاں گرائے گا۔ یہ تو اس قوم کو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمارے آج کے معصوم ، مظلوم اور شریف رہبر بھی رہزنوں کے لشکر کا حصہ تھے۔

اُف رہبر کی یہ معصومیت کہ مجھے وہ ساری تاریخ فسانہ لگنے لگی ہے۔ کل کے انوکھے لاڈلے آج جمہوریت کے چمپئین ہیں۔ امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرنے والوں کو طعنہ دیتے ہیں۔ ماضی کے انوکھے لاڈلوں پر آج ان کے ہی دور حکومت میں "احتساب کا ظلم" ڈھایا جارہا ہے ،، رہبری پر سوال اٹھ رہے ہیں لیکن شریف بے مثال صبر و تحمل کا پیکر بنے ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ اسٹوڈنٹ لائف میں جتنی بھی کتابیں کھنگالی وہ سب افسانوی داستانیں ہیں۔ نصاب کی کتابوں میں لکھی تاریخ کو تو ہم افسانہ کہہ سکتے ہیں لیکن وہ معلومات جو اخبارات، رسائل و جرائد اور دانشوروں کی کتابوں سے ملی کیا وہ بھی فسانے لگتے ہیں۔

جمہوریت خطرے میں، ووٹ کا تقدس پامال، ترقی کا راستہ روک دیا گیا، مخالفین کا نامعلوم ایجنڈا، بنیادی حقوق سلب ہوگئے، فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا، اور اب بغض دکھائی دینے لگا۔ کیا واقعی اپنے ہی دور حکومت میں کوئی اتنا معصوم اور مظلوم ہوسکتا ہے۔ ؟ان کا صبر اور تحمل دیکھ کر انھیں مظلوم ماننے کا دل کرتا ہے لیکن تاریخ بار بار سامنے آجاتی ہے، دماغ پر سوالات کی گولیاں برسنے لگتی ہیں۔

آج "ج " والوں سے الجھے نواز شریف کیا کل کے انوکھے لاڈلے نہیں تھے؟ آج جمہوریت کی دہائیاں دیتے شریف اینڈ کمپنی نے کیا اپنے سرمائے کی واپسی اور کاروبار بڑھانے کے لئے ہی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں جگہ بنائی۔ انیس سو اکیاسی میں پنجاب کے گورنر جنرل غلام خان جیلانی تھے ، اور اسی دور میں نواز شریف نے وزیر خزانہ پنجاب کی حیثیت سے اپنا سیاسی کیرئر شروع کیا۔کیا واقعی نواز شریف کو انیس سو پچاسی میں وزیر اعلی پنجاب بننے کا شرف عوام کے مقدس ووٹوں سے حاصل ہوا؟ یا یہ کامیابی ضیاء الحق کی قربت کا نتیجہ تھی؟ آمریت کے سائے میں غیر جماعتی انتخابات سے مزید ترقی کرنے والے مسلم لیگیوں نے کیا اسلامی جمہوری اتحاد کے پودے کو بھی تناور درخت نہیں بنایا تھا۔ انیس سو اٹھاسی میں آئی جے آئی بھی ان کی ہی پروڈکٹ تھی جن کے ذکر سے پر جلتے ہیں اور کیا نواز شریف اس پروڈکٹ کی مارکیٹنگ اور لانچنگ ٹیم کا ہراول دستہ نہیں تھے؟

یعنی کون سے عوام ، کہاں کے مقدس ووٹ ، اس سیاسی بساط پر آج بھی لاڈلے کھیل رہ ہیں اور ماضی میں بھی لاڈلوں نے ہی عوام سے کھیلا۔ ماضی اور حال ایک ہی جیسا ہے۔ کچھ نئے لاڈلے ہیں اور کچھ پرانے مہرے ، کہ سب کے دامن پر داغ پاکستان کے عوام کے نصیب میں لاڈلے ہی ہیں۔ کیونکہ استعمال ہونے کے لئے مہرے ہر وقت دستیاب ہیں تو جال پھینکنے والوں سے کیا گلِہ؟ سعد رفیق صاحب بالکل ٹھیک کہتے ہیں پارٹیاں توڑنے جوڑنے کا مشغلہ ختم ہونا چاہئے اور یہ جب ہی ختم ہوگا جب سیاسی رہبر استعمال ہونے کا مشغلہ ترک کردیں۔

سیانے کہتے ہیں کہ شیشے کے گھر میں رہنے والوں کو پتھر نہیں اٹھانے چاہئیے۔ لیکن آنکھ کے تارے، راج دلارے ، کھیلنے کو چاند مانگنے والے،، اپنے وقت کے بگڑے لاڈلے، حالات بدلیں تو خود کو بدل نہیں پاتے۔ ضدی ہوتے ہیں، خود کو مظلوم باقی سب کو ظالم سمجھتے ہیں، اپنی غلطیوں کو مانتے نہیں سوال اٹھانے والے کی نیت پر شک کرتے ہیں، سوالوں کے جواب دینے کے عادی نہیں ہوتے۔

  Email This Post

 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.