پیش قدمی ہوشمندی کیساتھ

November 14, 2017

تحریر: سجاد خان

قومی کرکٹ ٹیم کی کامیابیوں کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ پاکستان پہلی بار عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آگیا۔ دو ہزار سترہ ٹیم پاکستان کے لیے کامیابیوں کا سال ثابت ہوا۔ چیمپئینز ٹرافی جیتنے کے بعد گرین شرٹس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ایک کے بعد ایک کامیابی نے ٹیم کے کھلاڑیوں کو کندن بنا دیا۔ اب پاکستان ٹیم ایسے ردھم میں آگئی ہے جو سامنے آیا روندھ دیا جائے گا۔ نئے کپتان کی زیر قیادت سرفراز الیون کا  ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نمبر ون کا سنگ میل عبور کرنا خاصا بڑا اعزاز ہے۔ شاباش قومی ٹیم کے شاہینو۔۔۔ سرفراز احمد کی قیادت میں ٹیم اب تک چودہ ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکی ہے۔ بارہ میچز جیتے اور صرف دو میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی پرفارمنس پر عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آنا پاکستان کا حق بنتا ہے۔

پاکستان ٹیم کے کھلاڑی فتوحات پر خوش ہیں۔ بورڈ ٹیم کی پے در پے کامیابیوں پر پھولے نہیں سما رہا ہے۔ پوری قوم خوش ہے لیکن پی سی بی خوشی مناتے ہوئے ذمے داری کا مظاہرہ کرے۔  کہیں ایسا نہ ہو کہ فتوحات کے سحر میں قومی ٹیم کے کھلاڑی اپنی لائن و لینتھ بھول جائیں۔ ایک وقت تھا جب دنیا کے کسی بھی ملک میں ہاکی کا ایونٹ ہوتا تھا تو لوگ کہتے تھے ٹائٹل پاکستان آئے گا اگر ٹائٹل پاکستان نہ آسکا تو چاندی کا تمغہ تو ضرور آئے گا اور کئی برس ایسا ہوتا بھی رہا ہے۔ مگر اب پاکستان ہاکی کی دنیا میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے فیڈریشن اور کھلاڑیوں کا اوور کونفیڈنٹ ہونا۔ پی سی بی اور کھلاڑیوں کے سامنے روشن مثال موجود ہے۔ اب کھلاڑیوں کو صرف اور صرف اپنی فٹنس اور  پرفارمنس پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی۔ آئی سی سی کے کیلنڈر میں اب اتنے ایونٹ ہوچکے ہیں کہ ہر سال کوئی ناکوئی آئی سی سی کا ایونٹ ہے۔ دیگر ممالک کے درمیان دو طرفہ سیریز ہیں ان ایونٹ میں شرکت کرکے کھلاڑیوں کو اتنا پیسہ مل جاتا ہے کہ وہ سالہا سال بمعہ اہل و عیال بیٹھ کر اچھے سے اچھا گزارا کرسکتے ہیں اور کھلاڑیوں کو پی سی بی کا سینٹرل کنٹریکٹ اور دیگر اداروں میں ملازمت بھی ملی ہوئی ہے اس کے باوجود کھلاڑیوں کو پرائیویٹ کرکٹ لیگز میں شرکت اور پیسے کی ہوس نے ناسمجھ بنا دیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی کرکٹرز ٹیلنٹڈ ہیں مگر ہیں تو انسان۔!! بہت زیادہ کرکٹ کھیل کر فٹنس پرابلم سے دوچار ہونا بھی فطری عمل ہے۔ اس کی ایک مثال فاسٹ بالر عثمان شنواری سامنے ہیں۔ عثمان شنواری دو سال بعد قومی ٹیم میں شامل ہوئے اور سری لنکا کے خلاف بالنگ میں اتنا زور لگایا کہ لینے کے دینے پڑگئے۔ کمر کی تکلیف لے بیٹھے۔ سری لنکا کے خلاف تباہ کن بالنگ نے عثمان شنواری کو فرش سے عرش پر بیٹھا دیا لیکن کمر کی تکلیف نے میدان سے بستر پر پہنچا دیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق عثمان شنواری کو تقریباٰ چھ ماہ آرام کی ضروت ہے۔ عثمان شنواری کی کمر کی تکلیف کی تھوڑی بہت ذمہ داری ٹیم کے فزیو اور ڈاکٹر پر بھی عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے عثمان شنواری کی کمر کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے فاسٹ بالر کو بالنگ سے بروقت کیوں نہیں روکا۔ کمر کی تکلیف نہ ہی اچانک اٹھتی ہے اور نہ ہی ایک ہی دن میں ختم ہوجاتی۔ کمر پر چُک آجائے تو بندے اور ڈاکٹر کو فوری پتا لگ جاتا ہے کیوں کہ چُک آنے سے بندہ فوراُ ٹھیک نہیں ہوجاتا۔ تھوڑی دیر میں درد کم ہوتا ہے لیکن پھر مستقل بنیاد پر نہیں جاتا۔ ڈاکٹرز اور منجمنٹ کا عثمان کی انجری سے دیر سے باخبر ہونا اس بات کا ثبوت ہے بورڈ، کھلاڑی اور ٹیم منجمنٹ  ٹیم کی کامیابیوں کے سحر میں ہیں۔ جوش میں ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ اپنا نقصان کر بیٹھے ہیں۔ لیکن اب سنبھل جائی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ چار دن کی چاندنی میں ڈوبنے والے اندھیرے میں آنکھیں کھلنے پر مکمل ہوش میں آئیں۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.