فاروق ستار بمقابلہ مصطفی کمال

November 14, 2017

گئے وقتوں کی بات ہے جب پولورایئڈ کیمرہ فوٹوبنانے کے لیے بہت زیادہ استعمال ہوتا تھا کیونکہ اس وقت عام کیمرہ سے فوٹو بنانے کامطلب تین سے چار دن کا انتظار تھا کیمرہ سے فلم نکال کر لیبارٹری میں دی جاتی تھی پہلے اسکا نیگٹیو دھل کر سامنے آتا تھا پھر اسکا پرنٹ لیاجاتا تھا اوراسی وقت معلوم ہوتا تھا کہ بتیس میں سے کتنی فوٹوصاف آئی ہیں اور کتنی خراب ہوئی ہیں اور اس سارے عمل میں تین دن تو لگ ہی جاتے تھے پولورایئڈ کیمرے جو کہ آج کل صرف تفریح گاہوں جیسے مینارپاکستان یا شکرپڑیاں جیسی جگہوں پر بھی خال خال ہی نظر آتے ہیں کیونکہ موبائیل فون میں شاندار کیمرے موجود ہیں مگر یہ کیمرے یورپ میں شادیوں کی تقریب میں خاص کر دلہا اور دلہن کی تصاویر بنانے کے لیے بہت زیادہ استعمال ہوتے تھے اسکی وجہ وہاں پرجلدی طلاق لینے کی شرح تھی جو کہ اب بھی ہےپولورارئڈ کیمرے سے تصاویر کا پرنٹ لیکر اسی وقت دیکھ لیا جاتا کیونکہ دوسرے کیمرے کی تصاویر لیبارٹری میں آنے سے طلاق کا خطرہ موجود رہتا تھا۔

یہ قصہ بدھ کو فاروق ستار اورمصطفی کمال کے درمیان ہونے والے اتحاد اور جمعرات کو ہونے والے ڈراپ سین پر یاد آگیا اور جمعرات کونہ صرف فاروق ستارصاحب نے اتحاد ختم کردیا بلکہ سیاست کوخیرباد کہنے کا بھی کہا اور یہی نہیں بلکہ پھر وہ سیاست میں واپس بھی آگئے اور جب تک یہ بلاگ لگے گا اس وقت تک کیا ہوتا ہے اس کے لیے پیشگی معذرت۔بدھ کو ہونے والی پریس ٹاک میں فاروق ستار صاحب کافی دباومیں نظرآئے جبکہ مصطفی کمال صاحب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھااور اس دن زیادہ بولے بھی وہ خود ہی۔ مگر جمعرات کو جو فاروق ستارصاحب بولے تو سو سنارکی اورایک لوہار کی کے علاوہ ہالی ووڈ کے ادکار انتھونی ہوپکن یاد آگئےجن کو فلم سائیلنس آف لیمب میں بہترین اداکار کاآسکر ایوراڈ ملا تھااور یہ واحد ایوارڈ ہے جو انتھونی ہوپکن کو سترہ منٹ کی ادکاری پر سپورٹنگ اداکار کا نہیں بلکہ مرکزی کردارکی کیٹگری میں ملا ہےسو فاروق ستار صاحب پر وہ مثال فٹ آتی ہے کہ وہ آیا اس نے دیکھا اور فتح کرلیا رہ گئے بیچارے مصطفے کمال وہ اداکار جاوید شیخ ہیں جن کی ہدایتکاری میں بننے والی تمام فلموں کے پہلے ہاف اچھے ہیں دوسرے ہاف میں ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔

خیر یہ سب تو ہلکی پھلکی بات تھی مگرایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین کا اتحاد کچھ ہضم نہیں ہو رہا تھا جس کا سارا فائدہ مصطفی کمال کی جماعت کو تھا اور سراسر نقصان فاروق ستار کی جماعت کو تھاجس کا ردعمل انکے پرانے ساتھیوں کی جانب سے اسی دن آنا شروع ہو گیا تھا۔مصطفی کمال جب سے پاکستان آئے ہیں ان کے ساتھ شامل ہونے والے بیشتر ساتھیوں کی شمولیت کے طریقہ کار پر بہت سے سوالات ہیں کہ انھی بندوں پر دوسری جماعت میں مقدمات بنتے ہیں اور یہاں آکر سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ممکن ہے مصطفی کمال کچھباتیں ٹھیک بھی کر رہے ہوں مگر یہ کہنا کہ مہاجر کا لفظ ختم کردیا جائے یا ذکر ہی نہ کیا جائے اس پر قائل ہونا مشکل ہے۔جب سندھ کا سیاستدان سندھی کارڈ استعمال کرسکتا ہےکے پی کے کا نام اور ایک پارٹی کی سیاست پختون کا نام پر سیاست کرسکتی ہے بلوچستان کے بلوچی قومی اسمبلی میں آکر بلوچی میں تقریر کر سکتے ہیں کسی زمانے میں نوا ز شریف جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگا سکتے ہیں تو مہاجر کو کیوں اس حق سے محروم کیا جائے۔

عدم تشدد کی سیاست ہونی چاہیےقتل وغارت نہیں ہونی چاہیےلسانی بنیادوں پر لڑائی نہیں ہونی چاہیے مگر کوئی بھی کمیونٹی ٹارگٹ بھی نہیں ہونی چاہیے کسی ایک کی وجہ سے کسی پر ملک سے غداری کا الزام بھی نہیں لگنا چاہیے اور کسی کو مہاجر سندھی پنجابی کی بنیاد پر سیاست کرنے سے روکنا بھی نہیں چاہیے یہ سب پاکستان کے پیارے رنگ ہیں اور اگر کسی محب الوطن کو روکا جائے گا تو پھر کوئی دوسرا بندہ انھیں بنیادوں پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرے گا جو ممکن ہےکہ ملک کے لیے واقعی غدار کی حیثیت رکھتا ہو۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.