ہوم   >  بلاگز

سنجیدہ حکمران

2 years ago

ايوانوں میں بیٹھے  منتخب ممبران پہلے اپنے علاقوں کے لوگوں اور پھر اپنی پارٹی کی راہنمائی کرتے ہيں، ان ممبران کا اصل کردار اپنے لوگوں کےمسائل اجاگر کرنا اور پھر اسے حل کرنا ہوتا ہے مگر ہم ايوانوں میں بیٹھے لوگوں کی باتیں سنيں تو تھوڑی حيرت سی ہوتی ہے اور حيرت اس وقت مزيد بڑھ جاتي ہے جب سندھ اسمبلي ميں بيٹھے ممبران کئ گفت گو سنيں۔ ابھي کچھ روز قبل ہي سندھ کا ایوان اس وقت کلاس روم بن گیا جب ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے اراکین کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور نصرت سحر کو بیٹا تک کہہ دیا جواب میں نصرت سحر نے بھی امی جان کہہ کرمخاطب کر ڈالا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی وقفہ سوالات کے دوران پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کی ڈپٹی شہلا رضا اور وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ساتھ زبردست نوک جھونک بھي جاری رہی۔

پاکستان میں پارلیمان کے ایوانوں میں اراکین کے درمیان جھڑپوں اور ایک دوسرے پر جملے کسنے کی روایت کوئی نئی نہیں ہے، پارلیمانی آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے تنقید کو جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ایوانوں میں بیٹھے ممبران پر ایک دن میں کروڑوں رپے خرچ ہوتے ہیں مگر ان کی باتیں سن کر نہایت افسوس ہوتا ہے 28 مارچ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسپیکر آغا سراج درانی کے چٹکلوں پر ایوان میں قہقہے گونجتے رہے ۔اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر بیوٹی پارلر کی بازگشت سنی گئی ۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی نے ارکان کو آگاہ کیا کہ رہائشی ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق بریفنگ رکھی گئی ہے ۔ہاسٹل میں شاپنگ سینٹر سمیت تمام سہولیات موجود ہوں گی۔جبکہ نند کمار کی فرمائش پر ہاسٹل میں بیوٹی پارلر بھی ہوگا جہاں وہ اپنے سفید بال کالے کرسکیں گے ۔آج کل بیوٹی پارلرز میں جدید سہولیات ہوتی ہیں ۔آغا سراج درانی کے چٹکلوں پر ایوان میں قہقہے گونجتے رہے ۔آغا سراج درانی نے سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ ایکٹنگ بہت اچھی کرلیتے ہیں جس پر نثار کھوڑو نے کہا کہ یہ ایکٹنگ میں نے آپ سے ہی سیکھی ہے۔يہ سندھ اسمبلي ہي ہے جہاں کبھی نصرت سحر عباسي کی کسی بات پر امداد پتافی کی جانب سے نہایت ہی شرم ناک جملہ سنے کو ملتے ہیں اور کبھی اگر کوئی سنجیدہ مشورہ بھی مذاق میں اڑا دیا جاتا ہے۔

بات یہی ختم نہیں ہوتي سندھ کے ايوان میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کی سنجیدگی سب کے سامنے ہے ہي تاہم سندھ اسمبلي کي سيکيورٹي پر مامور اہلکاروں کي سنجيدگي بھي قابل ديد ہے جب 2 سال قبل ایک نجی ٹي وی چینل کا اینکر اسلحہ لیکر ایوان کے اندر چلا آیا تاہم اسلحہ لانے اور دکھانے پر اينکر پرچہ بھہي کٹا اور گرفتاري بھي ہوئي جبکہ تھوڑی دن بعد اسے چھوڑ دیا گیا اس حادثے کے بعد اسپیکر صاحب کو خیال آیا اور سیکيورٹی بڑھادی گئی۔ ايونوں ميں بيٹھے نمائندوں کو سوچنا ہوگا کہ معصوم عوام جو ان سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ان کا کام انکي امیدوں کو پورا کرنا ہے، عوام کے نمائندے ناجانے کب سمجھيں گے کہ عوام نے انہيں اپني نمائندگي کيلئے ايوان ميں بھيجا ہے ناکہ ايوان ميں بیٹھ کر عوام کے ہي پيسوں سے عياشي کرنے،ايک دوسرے کي تذليل کرنے يا ذاتي مفاد کيلئے نہيں۔ سماء

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں