ایم کیو ایم،پی ایس پی الائنس: ہنوزدلی دوراست

November 11, 2017

 

 

****تحریر : اقبال خورشید****

اکتوبر کی صبح جب احتساب عدالت نے میاں نواز شریف کی تمام ریفرنسر یکجا کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان پر فرد جرم عائدکی، تو بہ ظاہر یوں لگتا تھا کہ آج کے دن یہی واقعہ ٹی وی چینلز اور ٹاک شوز میں زیر بحث رہے گا،اورتجزیوں تبصروں کا محور سابق وزیر اعظم کا جج صاحبان پر بغض سے بھرے ہونے کا تلخ الزام ہوگا۔ البتہ کراچی کی سیاسیت پر نظر رکھنے والے افراد، بالخصوص وہ جو طاقت کے ایوانوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں، جانتے تھے کہ ایک بڑا واقعہ ہونے کو ہے۔ سندھ کی سیاست میں ڈرامائی موڑ آنے والاہے۔ کراچی گذشتہ ایک عرصے سے خبروں سے باہر تھا۔ ہاں،کچھ روز قبل ہونے والے ایم کیو ایم پاکستان کے جلسے نے تھوڑی ہلچل مچائی، مگر ہنوز جمودتھا، مگر9 اکتوبر کو صورت حال یکسربدل گئی۔ کراچی سے خبروں کا ایسا ریلا آیا کہ سب بہا کر لیا گیا، اورایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا الائنس اکلوتا موضوع بن گیا۔ ایم کیو ایم پاکستان اور پی پی ایس ؛ دونوں جماعتیں چند روز قبل تک ایک دوسرے کی مخالف تھیں۔ اس الائنس کے نتیجے میں فاتح کون ٹھہرا، یہ کہنا قبل از ووقت ہے کہ ابھی منظر پر اسموگ چھائی ہے، حد نگاہ گھٹ گئی ہے۔ البتہ چند نکات ایسے ہیں، جو زیر بحث بھی ہیں، اور جن پر مستقبل میں شدومد سے بات ہونا امکانی ہے۔

٭الائنس کا مقصد کا ہے؟

گو پریس کانفرنس میں مصطفی کمال اور فاروق ستار کے موقف میں واضح فرق نظر آیا،آخر الذکر نے اپنے ووٹ بینک کی بات کی، اول الذکر نے مہاجر کے نام پر سیاست سے بے زاری ظاہر کی۔ البتہ یہ واضح ہے کہ اس کا مقصد کراچی کے ووٹرز میں پیدا ہونے والی دراڑ کو بھرنا تھا، جو اگلے انتخابات میں مزید واضح ہوسکتی ہے۔ ایم کیو ایم نے 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود 18 سیٹیں حاصل کیں۔ گو تحریک انصاف نے کراچی پر مزیدتوجہ دینے کی ضرورت نہیں سمجھی، اپنا فوکس پنجاب رکھا، مگر آج بھی عمران خان کراچی میں خاصے مقبول ہیں۔ اگر شفاف الیکشن ہوں، تو چند سیٹیں تحریک انصاف کے نام ہوسکتی ہیں۔ پھر پیپلزپارٹی بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے متنفر کارکنوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے آصف علی زرداری سرگرم ہیں۔تیسرا بڑا خطر وہ آزاد امیدوار ہوسکتے ہیں، جنھیںاگلے انتخابات میں لندن قیادت کی حمایت حاصل ہوگی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بانی قائد کی مقبولیت کم ہوئی ہے، مگر ختم نہیں ہوئی۔ پرانے ووٹرز آج بھی اِس تعلق کی بحالی کے خواہش مند ہیں۔ تویہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اتحادایم کیو ایم لندن، تحریک انصاف اور پی پی پی سے کراچی میں مقابلہ کرنے کے لیے تشکیل پایا ہے۔

٭الائنس کا مستقبل کیا ہے؟

2002 میں بننے والے ”متحدہ مجلس عمل “کو امریکی جارحیت کے خلاف عوامی رائے عامہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش نے اِس میں شامل جماعتوں کو ایک پلیٹ فورم پر اکٹھا کردیا۔ ان کے موقف میں ہم آہنگی تھی۔یہ ہم آہنگی ہمیں ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی میں فی الحال دکھائی نہیں دیتی۔ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں چھ ماہ سے مشاورت ہورہی تھی۔ کیا ان کا اشارہ”اصل مشاورت“ کی طرف ہے؟ کیا اس پورے عمل سے مقتدر حلقوں کو منہا کیا جاسکتا ہے؟یہ تاثر زائل کیا جاسکتا ہے کہ فیصلہ ساز کوئی اورہے؟ گویہ اتحاد فی الحال کمزور معلوم ہوتا ہے،لیکن اِس کے اسٹیک ہولڈرز کو دیکھتے ہوئے اِس کا قائم رہنا امکانی معلوم پڑتا ہے۔اگرایک نام، ایک منشور اورایک نشان کے معاملات طے پاگئے، پروپیگنڈے کے ہتھیار کو کامیابی سے کام میں لایا گیا،تنظیمی سیٹ اپ متحرک ہوگیا، تو جلد یہی اتحاد عوام کو فطری لگنے لگے گا۔ کیا مزید کچھ بڑے نام ایم کیو ایم چھوڑ سکتے ہیں؟اِس کا جواب ہاں میں ہے۔ لیکن جوں جوں یہ الائنس مضبوط ہوگا، الگ ہونے والے غیرمتعلقہ ہوتے جائیں گے۔

ی

٭حروف آخر

ایم کیو ایم ، پی ایس پی الائنس کو مستقبل میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا ہے۔ پرویز مشرف اس کی قیادت کی خواہش پہلے بھی ظاہر کر چکے ہیں، مگر دونوں ہی جماعتوں کا ردعمل سرد رہا۔ اب بھی قیادت کا معاملہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ مشترکہ نام اور منشور تو شاید مسئلہ نہ بنیں، مگر انتخابی نشان کا چناﺅ بے حد اہم ہوگا۔کراچی کے ووٹرزکا رومانس ”پتنگ“ سے ہے،وہ اسی نشان کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ اور یہ ”نشان“ اس الائنس کی جیت کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔ سماء

Email This Post
 

:ٹیگز


 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.