دنیا کیا کہے گی

November 11, 2017

کسی بھی چھوٹے یا بڑے کام کے آغازسے قبل ایک سوچ ذہن میں آتی ہی ہے کہ اس کام کے کرنے سے رد عمل کیا آئے گا، لوگ کیا کہیں گے، چاہے شروع کیا جانے والا کام یا ذہن میں آنے والی کوئی بھی چھوٹی بڑی سوچ منفی ہو یا مثبت، پر انسان کو یہ چیز تنگ کرتی ہے کہ اس کے فیصلے کے بعد اسے کس طرح کے تاثرات کا سامنا کرنا پڑے گا، یعنی کہ یہ دنیا کیا کہے گی، کس طرح کی باتیں بنیں گی؟ ۔

چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے زندگی کے بہت سے موڑ پر دنیا کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے حالانکہ دنیا کے لوگ اس وقت مدد کو نہیں آتے جب آپ بیچ منجھدار میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں تاہم نصیحت کرنے یا مشورہ دینے میں کون پیچھے ہٹتا ہے، اس وقت توسب ہی حد سے زیادہ تجربے کار، قابل بن جاتے ہیں۔

لڑکی کے لیے پڑھنے پڑھانے کا فیصلہ ہویا چھوٹی بڑی نوکری کرنے کا، اس کی من پسند لڑکے سے شادی کا معاملہ ہو یا جہیزکم لے جانے کی فکر، اس کی عادتوں کی فکر ہو یا خود سے فیصلے کا معاملہ ہو۔

لڑکے کی صحبت کی بات کی جائے یا اس کی چھوٹی موٹی جگہ نوکری کرنے کی، یا پھر اس کے کرئیر اور اُس سے متعلق ارادوں کی، اس کی تربیت کی بات کی جائے یا بری عادتوں کی۔

اسی طرح بچوں کی شرارتوں سے لے کر عادتوں کی بات کی جائے یا ان کے ضدی ہونے کی یا ان کا اچھا نہ پڑھنے کی بات یا ان کی بے جا ضدوں کی۔

اوراپنے عزیزواقارب کی بات نہ ہوتو کبھی کبھی سب اتنے فارغ بھی ہوتے ہیں کہ دوسروں کے بارے میں خود سے زیادہ سوچتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا یا کیا ہونے جارہا ہے اور انتظار بھی کرتے ہیں کیونکہ وہ تسکین اُن کے لیے اس وقت کی سب سے اشد ضرورت بن جاتی ہے۔

ایک اہم واقعے کا تذکرہ کرنا یہاں ضروری ہے تاکہ دنیا کی اصلیت کا پتہ چل سکے۔

واقعہ یہ ہے کہ ایک بار ایک باپ اپنے بیٹے کو اونٹ پربٹھا کرلے جارہا تھا کہ آس پاس چلتے ہوئے لوگ دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کتنی نا فرمان اور احساس سے عاری اولاد ہے کہ خود سواری پربیٹھا ہے اور باپ سے محنت کروارہا ہے، جس کے بعد بیٹے کو احساس ہوتا ہے اور وہ اتر جاتا ہے اوراپنے باپ کو اونٹ پر بٹھا دیتا ہے اور خود پیدل ساتھ ساتھ چلتا ہے، تھوڑا ہی آگے جاکر کچھ لوگ یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ کیسا باپ ہے یہ کہ خود سواری پر بیٹھا ہے اور بیٹے کو تھکا رہا ہے، جس طرح بیٹے کو احساس ہوا تھا بالکل اسی طرح باپ کو بھی احساس ہوا اور اپنے ساتھ بیٹے کو بھی بٹھا لیتا ہے، پھر تھوڑا ہی آگے جاکر دنیا کے کچھ لوگ کہتے ہیں کتنے بے رحم ہیں دونوں جو اونٹ پر چڑھ گئے اورجانور پر رحم نہیں کررہے۔

اورجناب اس کے بعد نہ باپ بیٹھتا ہے اونٹ پر اور نہ ہی بیٹا، بغیرسواری کے اونٹ کولے کر جارہے ہوتے ہیں تو آگے چل کر ایک بار پھردنیا کے ہی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کتنے بے وقوف ہیں دونوں میں سے کوئی ایک تو اونٹ پر بیٹھ جاتا۔۔۔۔!۔

دنیا اور اس کی باتیں غورسے پڑھیے:

پہلے نا فرمان اور احساس سے عاری بیٹا (دنیا کی نظر میں)

پھر وہ باپ جو بچے پر رحم نہیں کھا رہا (دنیا کی نظر میں)

پھر دونوں کوہی ایک قطارمیں کھڑا کردیا گیا (دنیا کی جانب سے)

اورپھر اسی دنیا نے انہیں آخر میں بے وقوف قرار دے دیا۔

تو یہ دنیا ہے جو کسی حال میں خوش نہیں ہے، بات یہ ہے کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں یا کسی بھی کام کرنے کی ٹھان لیں اور آپ کو بہت اچھے سے معلوم اور بھروسہ ہو کہ اس کام کے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں تو آپ کو پھرکسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں۔آپ خود پر بھروسہ رکھیے کہ جو بھی فیصلہ آپ نے کیا ہے وہ بہتر ہی ہوگا کیونکہ آپ اچھا چاہتے اور مثبت چاہتے ہیں، رہی بات دنیا کی تو سب ہی لوگ ایک جیسے ہی نہیں ہوتے، کچھ واقعی آپ کی بہتری کے لیے آپ کو نصیحت کرتے اورمشورہ دیتے ہیں جب کہ کچھ خود کوعلامہ سمجھ کروہ باتیں بھی کہتے ہیں جن پرانہوں نے خود بھی اپنی زندگی میں کبھی عمل کیا ہی نہ ہوگا۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ تنقید کرنا سب سے آسان کام ہے، دوسرے سے حسد جلن پرانی باتیں ہیں، منہ پراچھا بننا اورپیٹ پیچھے برا کہنا بھی بہت پرانا سلسلہ ہے پربات یہ ہے کہ آپ جب پُراعتماد ہوں گے، اپنے فیصلوں ، مثبت سوچ اوراقدامات سے متعلق تو پھرکیا دنیا اورکیا اس کی نصیحتیں۔۔!۔

انسان اَن کہی سے ڈرکرترقی کی بہت سی دوڑیں ہارجاتا ہے، وہ اُن باتوں کے بارے میں بھی سوچتا ہے جن کا شاید مستقبل میں اس کوسامنا بھی نہ کرنا پڑے، تو اَن کہی سے ڈرنا چھوڑ دیجیے، جھوٹی تسلی سے دور بھاگیے، خود پراوراپنی کوششوں ، محنت پر بھروسہ کرتے ہوئے مثبت فیصلے کرتے جایئے زندگی میں ترقی آپ کے قدم چومے گی اورسب سے بڑھ کرہمیشہ پُرامید رہیے کہ مستقبل کے حوالے سے جو ہوگا وہ آپ کے لیے بہترنہیں بہترین ہوگا۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.