مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں کا سیاسی رونا

November 11, 2017

تحریر: نوید نسیم

انیس سال بعد اللہ اللہ کرکے 9ویں مردم شماری ہوئی۔ جس کے نتائج کو چندجماعتیں ماننے سے انکاری ہیں اور اگلے عام انتخابات نئے اعداد وشمار کی بجائے 20 سال پہلے ہونیوالی مردم شماری کے مطابق کروانے پر بضد ہیں۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی مردم شماری کے نتائج کو مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف عام انتخابات 1998 کی مردم شماری کے مطابق کروانے پر بضد ہے۔ حکمران جماعت 2017 کی مردم شماری کے عبوری نتائج پر کی جانیوالی حلقہ بندیوں کے مطابق عام انتخابات کروانا چاہتی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو تازہ مردم شماری کے مطابق ہونیوالی حلقہ بندیوں میں سے پنجاب کی 9 نشستیں کم ہو رہی ہیں جس کا نقصان بنیادی طور پر نواز لیگ کو ہوگا۔ کیونکہ پنجاب نواز لیگ کا گڑھ ہے اور نشستوں میں کمی کا مطلب نواز لیگ کی متوقع نشستوں میں کمی ہے۔

بنیادی طور پر حلقہ بندیوں پر مردم شماری کی نتائج 3 طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں۔

 قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد ملکی آبادی کی بنیاد پر۔

قومی اسمبلی میں کسی ایک صوبے کی نشستوں کی تعداد۔ (ملکی مجموعی آبادی میں اس صوبے کی آبادی کے تناسب سے)۔

 حلقہ بندیاں حلقے کی ٹوٹل آبادی کے لیحاظ سے۔ (تاکہ ایک حلقے میں ووٹرز کی تعداد اور دوسرے حلقے میں ووٹرز کی تعداد میں عدم مساوات ناہو)۔

حیران کُن طور پر حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد نا بڑھانے پر آمادہ ہیں۔ دوسرے نقطے پر تمام جماعتیں جزوی طور پر رضامند ہیں۔ مگر سندھ کی صوبائی اسمبلی نے مردم شماری کے سندھ کے اعداد و شمار کو رد کیا ہے۔ اصل مسئلہ تیسرے نقطے کا ہے۔ جس کے مطابق نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں کا تعین ہے۔ جس کی وجہ سے ایک حلقے کی ٹوٹل آبادی میں اضافے کی وجہ سے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں اضافہ، کسی دوسرے حلقے کی آبادی میں ہونیوالے اضافے کی وجہ سے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں اضافے کا فرق، قدرے نمایاں ہوسکتا ہے۔ جوکہ سیاسی جماعتوں اور خصوصاً متحدہ قومی موومنٹ کی پشیمانی ہے۔ کیونکہ اگر کراچی یا سندھ کی آبادی میں متوقع اضافہ (نئی مردم شماری کے مطابق) اگر ہوا ہی نہیں، تو ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹوں میں اضافہ کیسے ممکن ہے؟۔

اصولی طور پر دیکھا جائے تو نئی مردم شماری کے نتائج کو وقتی طور پر رَد کرتےہوئے عام انتخابات کا انعقاد 1998 کی مردم شماری کے نتائج کے مطابق ممکن ہے اور اس کی وجہ یہ کہ ملکی آبادی میں جتنا بھی اضافہ ہوا ہو۔ ووٹرز رجسٹریشن پر اس کا اثر نہیں پڑتا کیونکہ ووٹرز کی رجسٹریشن کا عمل وقت کے ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے۔

عام انتخابات کے 1998 کی مردم شماری کے مطابق انعقاد پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ آئین کے مطابق لازمی ہے کہ عام انتخابات مردم شماری کے مطابق کروائے جائیں۔ لیکن اس نقطے سے متعلق عرض یہ ہے کہ آئین پابند ضرور کرتا ہے کہ عام انتخابات نئی مردم شماری کے مطابق کروائے جائیں۔ لیکن اس کے لئے نئی مردم شماری کے نتائج کا سرکاری طور پر شائع ہونا لازمی ہے۔ جوکہ اگلے سال اپریل سے پہلے ممکن نہیں۔ لہذا آئینی طور پر اگلے عام انتخابات کا انعقاد 1998 کی مردم شماری کے مطابق ممکن ہیں۔

ایسی صورتحال میں عام انتخابات کا بروقت انعقاد حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی پہلی ترجیح ہونی چاہیئے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار پیپلز پارٹی کا جمہوری دور مکمل ہونے کے بعد دوسری بار نواز لیگ کا جمہوری دور مکمل ہونے جارہا ہے۔ جوکہ اپوزیشن کے مردم شماری سے متعلق اعتراضات سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ویسے بھی جب تمام سیاسی جماعتیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں نابڑھانے پر متفق ہیں۔ تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کس صوبے کی آبادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے اور کتنا نہیں۔ عام انتخابات میں کسی بھی حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد معنی رکھتی ہے ناکہ حلقے کی کل آبادی۔ جبکہ کسی بھی حلقے میں نئے ووٹرز کی رجسٹریشن کے عمل کا آبادی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ووٹرز رجسٹریشن کا یہ عمل جاری رہتا ہے اور جو بھی فرد نادرا کے ریکارڈ کے مطابق 18 سال کا ہوتا ہے۔ اس کاووٹ خود ہی مطلقہ حلقے میں رجسٹر ہوجاتاہے۔

لہذا سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ جمہوری عمل کو مکمل ہونے دیں اور عام انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بناتے ہوئے مردم شماری سے متعلق شکایات کو جمہوریت کی خاطر وقتی طور پر بالائے طاق رکھ کر عام انتخابات کی تیاریاں کریں۔ مردم شماری کے نتائج پر بحث کرنے اور مطلوبہ صوبوں یا علاقوں میں دوبارہ سے مردم شماری کے سروے عام انتخابات کے بعد بھی ہوسکتے ہیں۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.