رفتار کا سلطان،ڈاکارریلی میں بنےگاپاکستان کی پہچان

November 10, 2017

وہ آیا اور چھا گیا ۔ ایسا عموما ہم پاکستان کرکٹ میں ہی سنتے تھے جہاں پاکستان کو اللہ نے ایسا ٹیلنٹ دیا کہ ہر جانے والے کے بعد آنے والا اپنے روشن مستقبل کی نوید سنادیتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ کبھی سازشوں اور کبھی آف دی فیلڈ سرگرمیوں کی وجہ سے وہ جانے والے کا خلاء تو دور اپنی جگہ بھی یقینی نہیں بنا پاتا۔

ایسا نہیں ہے کہ قدرت نے اس زمین کو صرف کرکٹ کے ٹیلنٹ سے مالا مال کیا ہے شعبہ کوئی سا بھی ہو باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں بس کمی ہے تو ان کو مواقع ملنے کی۔ باقی کھیلوں کی طرح پاکستان میں موٹر ریسنگ کا ٹیلنٹ بھی بے پناہ ہے۔ جہاں دھول اڑاتی ، ہوا سے باتیں کرتی ، خون گرماتی اوربل کھاتی گاڑیوں کو ریسرز اپنے اشاروں پر نہ صرف دوڑاتے ہیں بلکہ پاکستان کی خوبصورتی بھی بین الاقوامی سطح پر سب کو دکھاتے ہیں۔

موٹر ریس میں نادر مگسی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں جو پاکستان میں موٹر اسپورٹس کی آف روڈ ریلیوں کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکہ میں فارمولا ون سے پہلے کی اسٹیج گوکارٹ کے بھی طویل عرصے چیمپئن رہے ہیں جو ان کیلئے تو فخر کی بات ہے ہی پاکستان کے لیے بھی اعزاز کی بات ہے۔

دو ہزار پندرہ میں پاکستان کی موٹر اسپورٹس میں ایک ایسا کھلاڑی آیا جس کا تعلق صوفی گھرانے سے تھے اور وہ گھڑسواری میں یکتا تھا نیزہ بازی میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں تھا لیکن پھر ایک حادثے کی وجہ سے اس کھلاڑی کو گھوڑوں سے دور ہونا پڑگیا البتہ صاحبزادہ سلطان محمد علی خود کو ہارس پاور سے دور نہ رکھ سکے اور کسی کی دعوت پر موٹر جیپ ریس دیکھنے گئے تو ارادہ کرلیا کیوں نہ اس میں قسمت آزمائی جائے اور حیران کن طور پر اپنی دوسری ہی ریس میں پاکستان کے چیمپئن بن گئے۔

دو ہزارسولہ میں پاکستان کے سب سے لمبے ، خوفناک اور خونی ٹریک پر اترا تو مقابل نادر مگسی اور رونی پٹیل جیسے پاکستانی موٹر اسپورٹس کے لیجنڈ تھے مگر صاحبزادہ سلطان محمد علی یہ ریس جیت کر پاکستان میں رفتار کا سلطان بن گیا۔ کچھ نے صاحبزادہ سلطان کو سراہا تو زیادہ تر نے اس جیت کو اتفاق قرار دیا۔

اس کے بعد گوادر ریلی میں پہنچے تو انتہائی دشوار ٹریک پر بھی سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چیمپئن کا تاج اپنے سر پر سجالیا جس کے بعد تو موٹر اسپورٹس کی دنیا میں طوفان مچ گیا پھر متنازعہ حب ریلی میں تیز ترین لیپس کرکے سب کو باورکروادیا کہ رفتار کا سلطان اتفاق سے نہیں رفتار سے جیتتا ہے اور اس کے بعد تھل اور پھر ایبٹ آبادکے مشکل ٹریک پر بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

رواں سال گوادر ریلی میں رفتار کے اس سلطان نے پھر ایکسلیٹر پر ایسا پیر رکھا کہ گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی اور یہاں بھی نادرمگسی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نہ صرف ٹائٹل جیتا بلکہ اپنے اعزاز کا بھی دفاع کیا۔

پے درپے کامیابیاں صاحبزادہ سلطان کے روشن مستقبل کو تو عیاں کرچکی ہیں لیکن وہ چیز جو عام افراد کی نظروں سے اوجھل ہے وہ ہے صاحبزادہ سلطان کی موٹر اسپورٹس سے وہ محبت جو لازوال تاریخ رقم کررہی ہے۔

صاحبزادہ سلطان جن کی پہلی فتح میڈیا میں بھی متنازع قرار دی جارہی تھی انہوں نے اسی میڈیا کو نہ صرف اس کھیل سے جوڑا بلکہ اس کھیل تک میڈیا کے افراد کی رسائی یقینی بنانے کیلئے ہر فورم پر اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا اور ریسرز کے درمیان تعلقات استوار کرنے میں کردار ادا کرنا شروع کردیا جس سے نہ صرف موٹر اسپورٹس کو تقویت ملی بلکہ اس کھیل سے جڑنے کیلئے کئی شوقیہ ریسرز نے بھی پروفیشنل بننے کی ٹھان لی۔

اب صاحبزادہ سلطان کی کوشش ہے کہ جلد پاکستان کے یہ آف روڈ ریلی کےچیمپئنز ایک ٹیم کی صورت میں گلف سے پاکستان کیلئے انٹرنیشنل ریسز کا ٹیم کی صورت میں آغاز کریں اور پھر ہر ریسر کی ڈریم ریس ڈاکار ریلی میں پاکستانی پرچموں والی گاڑیاں دوڑائیں۔

صرف صاحبزادہ سلطان کی ہمت سے یہ مشن امپوسبل پوسبل ہونے کے امکانات نہایت کم ہے اس کام کے لیے اسپانسرز سمیت حکومتی مشنری کو بھی فعال ہونا پڑے گا کیونکہ یہ کھیل صرف خطرناک ہی نہیں بلکہ مہنگا ترین کھیل بھی ہے جس کا پہیہ چلانےکیلئے اسپانرز کو ریسرز کا کو ڈرائیور بننے کی اشد ضرورت ہے اور پیسہ میسر آگیا تو رفتار کا یہ سلطان ڈاکار ریلی میں بنے گا پاکستان کی پہچان۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.