شہر کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ

November 10, 2017

ایک صاحب کو دیکھا جو اپنی گائے کی بہت زیادہ خدمت کر رہے تھے ان سے پوچھا گیا کہ آپ اس گائے کی اتنی زیادہ خدمت کیوں کررہے ہیں تو ان صاحب نے فرمایا کیوں کہ یہ میری کمائی کا ذریعہ ہے اوراس کی وجہ سے مجھے رزق مل رہا اور مجھے فائدہ ہو رہا ہو تو میرا بھی فرض ہے اس کا میں زیادہ سے زیادہ خیال ر کھوں۔ لوگ انڈے دینے والی مرغی کا بھی توبہت خیال کر تے ہےکیو نکہ وہ روز انڈے دیتی ہے لیکن افسوس ہمارے شہر کراچی میں سونے کے انڈے دینے والی مرغی یعنی صدر کی ایمپریس یس مارکیٹ کا کوئی پرسان حال نہیں۔

یہ مارکیٹ انگریز وں کی دور کی ہے یعنی اس کی ابتداء برطانوی دور میں ہوئی ۔ایک تحقیقی ر پو رٹ کے مطابق صدر کی تاریخ ایمپریس مارکیٹ کے گر د گھو متی ہے اس تحقیق کے مطا بق ایمپر یس ما رکیٹ کے ا ندرو نی حصے میںکل250جبکہ بیرو نی حصے میں کم و بیش120چھو ٹی بڑ ی دکا نیں اور کا رو با ری جگہیں ہیں جہا ں روزانہ تقر یبا بیس ہز ار لو گ خر ید و فرو خت کر نے آ تے ہیں جبکہ ان میں سے 80فیصد مر د ہو تے ہیں۔

 یہ ایک ایسی مارکیٹ ہے جس میں ہر قسم کے پھل، سبزیاں، گوشت، ٹیکسٹائل مواد، مچھلی اور دیگر کھانے فروخت کئے جاتے ہیں ۔ اس مارکیٹ میں بہت سے پالتو جانوروں کی دکانیں بھی موجود ہیں جہاں  مختلف قسم کے پرندوں اور دیگر جانوروں کو بیچا جاتا ہے۔یہ مارکیٹ 1884 اور 1889 کے درمیان تعمیر کی گئی تھی اور اس کا نام ملکہ وکٹوریا کے نام سے رکھا گیا تھا۔اس عمارت کو جیمز اسٹراچن کی طرف سے ڈیزائن کیا گیا تھا جبکہ یہ بنیاد اے جی اےففیلڈ، ایک انگریزی کمپنی کی بنیادوں پر مکمل ہوئی ۔

 یہ بہت کم تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہے جو کراچی میں موجود ہے اور اس عمارت کی پیشانی پر پرانی گھڑی اس عمارت کی ایک مرکزی خصوصیت ہے۔انگریزوں کے دور میں یہ خوبصورت عمارتوں میں شمار ہونے والی عمارت آج ہماری حکومت کی غفلت کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے ۔ قبضہ مافیاں اور بھتہ خوروں نے عمارت کی خوبصورتی کو برباد کر دیا ہے جبکہ رہی سہی کسر سیاسی جھنڈوں ،بینروں اور سیاستدانوں کی تصویروں نے پوری کردی ہے جس کے باعث یہ عمارت اپنی اصلی شکل کھو چکی ہے۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کے صرف مشرف کے دور میں اس عمارت میں رنگ ہوا تھا اب کئی سالوں سے اس عمارت پر کوئی کا م نہیں ہوا۔ لوگ آتے اور دیکھتے ہیں پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ایک بزرگ جو وہاں پر بچپن سے کام کررہے ہیں۔ انہوں بتایا کہ  پہلےاس عمارت ارد گرد چار باغ بھی تھے جو اب نہیں ہیں۔ گھڑی جو اس عمارت کی پہچان ہے، اب وہ خراب ہے اورچلتی نہیں ہے۔ پہلے ہر گھنٹے پر اس گھڑی کاگھنٹا بجتا تھا۔ ہمیں اپنی دکانوں کو صاف کرنے اور مارکیٹ کو صاف کرنے کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت جدو جہد کرنی پڑتی تھی کیونکہ کےایم سی عملے کی اس مسئلے پرکوئی توجہ نہیں " انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس بابت  ناانصافی کرتی ہے۔ یہاں کاروبا رکرنے والوں کے مطابق وہ روزانہ تقر یباسواکرو ڑ بھتہ ادا کر تے ہیں جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

 حکومت سے درخواست ہے یہ مارکیٹ کراچی کا ایک قومی ورثہ ہے اور اسے اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے "کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن  کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس کی اصل شکل بر قرار رکھی جائے کیونکہ اس مارکیٹ سے حکومت روزکروڑوں روپے کما رہی ہے تو تھوڑا اس عمارت پر بھی لگادے تاکہ کراچی کی تاریخ کو بچایاجاسکے اوربھتہ خوروں اور قبضہ مافیا گروپوں کے خلاف بھی کاروائی کریں تاکہ شہرِ قائدکی قدیم عمارتوں کی خوبصورتی برقرار رہے اور آنے والی نسلیں اس شہر کی تاریخ سے بھی آگاہ رہے۔ سماء

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.