Tuesday, March 2, 2021  | 17 Rajab, 1442
ہوم   > بلاگز

زمین کی کوک

SAMAA | - Posted: Nov 8, 2017 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 8, 2017 | Last Updated: 3 years ago

تحریر: عابد علی

بچپن سے سُنتے آئے ہیں کہ زمین ہماری ماں ہے۔ یہ ماں ہمیں کھانے کے لئے اناج فراہم کرتی ہے، پینے کے لئے میٹھا پانی دیتی ہے،سونے کو جگہ دیتی ہے حتی کہ مختلف موسموں سردی گرمی بارش برفباری سب سے بچاؤ کے لئے جو گھر بنائے جاتے ہیں اس کے لئے جو اشیاء درکار ہوتی ہیں وہ بھی زمین کی مرہون منت ہیں لیکن پتہ نہیں کیا ہوا کہ لالچی انسان نے زمین سے جو اناج ملتا تھااس کی جگہ بڑے بڑےگھربنانا شروع کر دئیے۔ کالونیاں بنا ڈالی، اناج والی ایگریکلچرل لینڈ پر پختہ گھروں کی ڈیرہ بنا دیا گیا۔ جس سڑک سے گزریں کسی نہ کسی کالونی کا اشتہار منتظر ہوتا ہے۔ دوسری جانب ایگریکلچرل زمین پر جا بجا ہاؤسنگ اتھارٹیز کےقیام سےایک زرعی ملک اپنی پہچان کھونے کو پہنچ گیا۔

جہاں اس ترقی یافتہ عوام نے پختہ گھر بنائے تو دوسری جانب جگہ جگہ کنکریٹ کی بڑی بڑی عمارتیں چھا گئی۔ سڑکیں بن گئی، ہریالی ختم ہو گئی، درختوں کا قتل عام کیا گیا۔ درخت بھی اللہ تعالی کی ایک مخلوق ہے جو زمین کو سنبھالے ہوئے ہے۔ چترال کی تین وادیوں کو سروے آف پاکستان نے انسانی سرگرمیوں کے لئے خطرناک قرار دے دیا کیونکہ وہاں کے پہاڑ گنجے ہو گئے اور زمین میں دھنسنا شروع ہو گئے۔ گلگلت بلتستان میں وادی ہنزہ کے قریب دو گاؤں مکمل طور پر زمین برد ہو گئے کہ گاؤں والوں نے وہاں کی مقامی پودوں کو کاٹ کر آلو کاشت کرنا شروع کر دیا اور زمین کی گرفت ختم ہو گئی۔ دوسری جانب دُنیا کو بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے جس کے باعث ایک طرف چین میں اسموگ نے جنم لیا تو دوسری جانب فلوریڈا پر پہ در پے طوفان نازل ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان کا موسمی انداز بھی بدل گیا۔

پاکستان کا موسمی ماحول بدلنے سے جہاں پاکستان میں بارشیں کم ہوگئی۔ فضا کی آلودگی سے ہزاروں اموات ہوئی لیکن ہمیں ہوش نہیں آیا نہ ہی خبر ہوئی کیونکہ ہمارے لئے وجہ معدے جگر کا سرطان اور دیگر بیماریاں تھی دوسری جانب نزلہ ،کھانسی، فلو، پھیپھڑوں کے امراض فضائی آلودگی کا بنیادی ٹارگٹ بن چُکے ہیں لیکن سب سے بڑاجو نقصان ہوا وہ ہماری ماں زمین کو ہوا۔ زمین کی کوک سوکھتی جا رہی ہے۔ ڈیموں دریاؤں میں پانی سوکھ گیا،زیر زمین پانی کے چشمے زمین میں ہی دھنس گئے۔

 دوسری جانب زمین کی کوک میں بھی کچھ مخلوقات رہتی ہیں جن میں ایک نماٹوڈز ہیں اور دوسرے بیکٹریاز ہیں۔ بیکٹیریاز ہمارے اناج کے لئے فائدے مند ہیں۔یہ بیکٹریاز ہمارےاناج کے پودوں کی افزائش نسل کرتے ہیں جبکہ نماٹوڈز اناج کی جڑوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ درخت اور پودے سُوکھ جاتے ہیں۔ جس سے انسان اناج حاصل نہیں کر سکتے۔ جب بارش ہوتی تھی تو نما ٹوڈز کی کالونیاں ختم ہو جاتی تھی۔ انکے انڈے تباہ ہو جاتے تھے۔ اب تو یقین ہو چلا کہ قدرت ہم سے ناراض ہو گئی ہے۔ بارشیں نہ ہونے سے نما ٹوڈز نے بھی انسانوں کے ساتھ زراعت پر حملہ کر دیا اور زرعی پیداوار بھی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔ بارشوں کا دور دور تک نشان نہیں بارش ہو بھی جائے تو کئی دنوں کی بارش ایک گھنٹے میں برس جاتی ہے اور پانی بھی غائب ہو جاتا ہے۔ نہ دریا بھرتے ہیں نہ میٹھا پانی مل رہا ہے اور زمین کی کوک بھی خشک ہے اب تو اناج کے بھی لالے پڑنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ کیونکہ انسان کی لالچ بڑھ گئی اور لالچ کی پٹی نے زمین کی کوک اُجاڑ دی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube