زیروٹالرینس

November 6, 2017

اکتوبر 1949 کو عوامی جمہوریہ چین قائم ہوگیا جو کہ ماوزے تنگ کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔چینی جن  کو نشی قوم  کہا جاتا تھا اسے ماوزے تنگ نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا کہ آج چین دنیا کی نہ صرف ایک بڑی فوجی طاقت ہے بلکہ بہت بڑی اقتصادی قوت ہے۔جبکہ پاکستان 1947 کو معرضِ وجود میں آیا لیکن آج بھی چین سے بہت پیچھے ہے۔ چین کی کامیابی کی وجوہات میں خاص الخاص ایک تو ۔۔۔۔ماو ذے تنگ جیسےحکمران۔۔۔۔ہے جن کا صرف ایک بیٹا تھا جس کو کوریا کے ساتھ جنگ میں بھیج دیا اور جب اسکی لاش آئی تو یہ کہتے ہوئے رونے سے انکار کردیا  ' جنگ میں میرا ہی بیٹا کام نہ آیا۔بہت سارے والدین اپنے بیٹوں کی لاشیں وصول کر رہے ہیں پہلے ان کا غم ہے پھر میرا میں پہلے ان کے آنسوں پونچھ لوں، اور اس کے علاوہ کامیابی کی وجوہات میں اس قوم کی ایمانداری سے انتھک محنت  اوراس سب کے ساتھ ساتھ ان کی  وہ پالیسیاں یا حکمتِ عملی جس سے انہوں نے جمہوریہ چین کو کرپشن فری بنایا۔جس سےنہ صرف چین نے اپنے ملک کو کرپشن فری بنایا بلکہ دنیا کے لیئے بھی  ایک مثال قائم کی۔ جبکہ ہم 70 سال میں اینٹی کرپشن کا ادارہ تک نہیں بنا سکے۔

چین کے موجودہ سربراہ شی جن پنگ نے 5 سال پہلے اس مہم کا آغاز کیا جب انہوں نے چین کے صدر کی حیثیت سے اقتدار سنبھا لا تھا اور ان کی سربراہی میں چین نے پانچ سال کے عرصے کے دوران 13 لاکھ 40 ہزار سرکاری حکام اور ملازمین کو کرپشن ثابت ہونے پر سزا دی۔ صرف پچھلے سال 3 لاکھ سے زائد افراد کو کمیشن، کک بیکس اور رشوت خوری پر سزائیں دئی گئیں اور کرپشن پر سزا پانے والوں میں 250 ملزمان میں وزراء، جر نیل اور بیوروکریٹ شامل تھے۔ شی جن پنگ کے دورِ صدارت میں کرپشن کے خلاف سزاوں اور کاروائی میں دو گنا اضافہ ہوا ہے اور ان سزاوں میں بڑے بڑے افسران بھی شامل ہیں کیونکہ چین میں کسی کو بھی کرپشن کی معافی نہیں ہے۔ سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیرمین جنرل کو کرپشن کے جرم میں عہدہ سے فارغ کیا گیا تھا، تمام اثاثہ ضبط کیے تھے اور عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ چین کے وزیرِ ریلوے 'لیو زہیوجن' کو دنیا کا کامیاب ترین وزیرِ ریلوے سمجھا جاتا تھا انہوں نے چین کو منفرد ریلوے کا نظام دیا جس کو پوری دنیا نے سراہا لیکن ان پر کمیشن اور کک بیکس کا الزام لگا اور الزام ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی جس کو ان کی ضعیفی کی وجہ سے عمر قید میں بدل دیا گیا۔ ایک اجلاس سے خطاب کے دوران شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک اصول اپنایا ہے جس میں کسی کو بھی کرپشن کے معاملے میں کسی کو بھی کوئی گنجائش نہیں ہے وہ اس معاملے میں زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر کام کر رہے ہیں تیزی کے ساتھ کرپشن کے ٹائیگرز اٹھائے جارہے ہیں چھوٹی چھوٹی مکھیاں پکڑی جارہی ہیں اور لومڑیوں کا شکار بھی ہورہا ہے اس سب سے وہ ایسی صورتِ حال پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی کرپشن کی جرات ہی نہ کرسکے۔

چین میں ہر سرکای ادارے میں انسدادِ بد عنوانی کی کمیٹی موجود ہوتی ہے کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں اینٹی کرپشن کمیٹی موجود نہ ہو اور 1لاکھ یوان یعنی تقریبا 15 ہزار ڈالرکی کرپشن پر عمر قید یا سزائے موت کی سزا ہے اسکے علاوہ اپریل 2015 سے چین میں اسکائی نیٹ کے نام سے ایک پالیسی کا آغاز کیا گیا جس کے تحت پہلے ہی مہینہ میں منی لانڈرنگ سے متعلق 680چینی باشندوں کو بیرونِ ملک سے گرفتار کرکےچین میں لاکر سزائیں دی گئی ہیں۔ چین میں کرپشن سے باز رکھنے کیلئے تمام سرکاری افسران کو اپنی بیویوں یا شوہروں کے ساتھ جیل کی سیر بھی کروائی جاتی ہے۔اور وہاں پر موجود کرپشن میں ملوث ساتھیوں سے ملوایا جاتا ہے تاکہ وہ عبرت حاصل کریں۔ انتہائی قریبی دوست  ہونے کے ناطے سے پاکستان کو بھی  چائینہ کی پالیسیوں سے استفادہ حاصل کرنا چاہیئے اور کرپشن کے معاملے میں زیرو ٹالرینس کی پالیسی کو اپنانا چاہیے کیونکہ پاکستان یا اس جیسے کئی ایک دوسرے ممالک جو باوجود انتہائی کوشش کے کرپشن کا کچھ نہیں بگاڑ سکے ان کیلئے چائینہ جیسا ملک مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔