Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

قانون فطرت

SAMAA | - Posted: Nov 3, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Nov 3, 2017 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: فرحان سعید خان

دوسری جنگِ عظیم کے دوران روس کی خفیہ ایجنسی ’’کے ۔جی۔ بی ‘‘ کو یہ فرض سونپا گیا کہ کوئی ایسا طریقہ تیارکیا جائے جس کے استعمال سے بارڈر پرموجود سپاہیوں کو آسانی سے جاگنے پرمجبورکیا جاسکے۔اس مقصد کیلئے 1940 کے آخر میں ایک تجربہ کیا گیا اس کیلئے 5 جنگی قیدیوں کو ایک ائر پروف کمرے میں بند کردیاگیااور ان کو جگانے کے لیے کمرے میں ایک مخصوص گیس چھوڑ دی گئی اور ان افراد کا مشاہدہ کرنے کیلئے اس کمرہ میں کیمرے، مائیکرو فونز اور پانچ ا نچ موٹی شیشے کی کھڑکی سے بھی مدد لی گئی۔ان 5 لوگوں کی ضروریات کیلئے اس کمرے میں کتابیں، پانی، لیٹرین اور خشک خوراک کی کافی مقدار بھی رکھ دی گئی جو کہ تقریبا ایک مہینے کیلئے کافی تھی چونکہ اس تجربہ کا مقصد انھیں جگانا تھا اس لئیے وہاں بیڈموجود نہیں تھا۔

اس سب کاآغاز تو بہترین تھا جس میں وہ تمام افراد اس گیس کی وجہ سے جاگتے رہے اور بالکل نارمل بھی رہےاور آلات کی وجہ سے انکی جو گفتگو سنی گئی وہ یہی تھی کہ اگر وہ 15 دن تک جاگتے رہےتو انہیں آزاد کر دیا جائے گا۔لیکن پھر آہستہ آہستہ انہوں نے زندگی کی تلخیوں کے بارے میں گفتگو شروع کردی جس سے ان کی زندگی سے مایوسی ظاہر ہوتی تھی پھر 5 دن کے بعد انہوں نے شکایات اور احتجا ج کا سلسلہ شروع کردیااور شاید گیس کے اثرات کی وجہ سے انہوں نے آپس میں مائیکرو فون کے زریعے سرگو شیوں میں باتیں شروع کردیں۔

جب 9 دن گزرے تو ان میں سے ایک نے زور زور سے چلانا شروع کردیا۔جگر پر ہاتھ رکھ کر وہ تین گھنٹے تک چلاتے ہوئے کمرے میں ادھر ادھر دوڑنے لگا اور پھر وہ چلانے کی کوشش کرتا مگر اس کے منہ سے آواز نہ نکلتی۔اس منظر سے محققین کا خیال یہ تھا کہ اس نے شاید اپنے گلے کو نقصان پہنچا لیا ہے۔اس سب میں حیران کن بات یہ تھی کہ اس منظر پر باقی سب کا کوئی ردِ عمل نہیں تھا۔اور پھر کچھ دیر کے بعد دوسرے قیدی نے بھی اسی طرح چلانا شروع کردیا۔اس پر باقی تینوں نے انسانی فضلہ کو شیشے پر چپکانا شروع کردیا اور کتابیں بھی شیشے کے آگے رکھ دیں یہ سب کرنے کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ انہیں باہر سے کوئی دیکھ سکے یا آوازیں باہرجا ئیں اور پھر مزید 3 دن کے بعد مائیکرو فون سے آنے والی آوازیں بھی بند ہو گئیں۔14 ویں دن کی صبح تک سب قیدی بے حس ہوچکے تھے۔

محقیقین نے کمرہ سے باہرانٹرکام سے کہا کہ ہم کمرہ کھولنے والے ہیں آپ فرش پر لیٹ جاؤ۔جواب میں انہیں ہلکی سی آواز آئی کہ ہم قریب المرگ ہیں اور آزادی چاہتے ہیں۔جس پر 15 ویں دن کی رات کو کمرہ کھولنے پر دیکھا گیا کہ ان قیدیوں کی حالت ناقا بلِ بیان ہوچکی تھی۔ ان میں سے ایک مر بھی چکا تھا ان کے جسم پر ان کے اپنے ہی دانتوں کے نشان تھے۔مسلز جسم سے جدا ہو رہے تھے جلد پھٹ چکی تھی جنہیں پھر ہسپتال پہنچایا گیااور اپریشن کیلئے انہیں بے ہوش کرنے کی تمام کوشیشیں ناکام ہو گئیں ۔ حالتِ بیداری میں ہی ان کا آپریشن کیا گیا۔اس کے باوجود صرف 2 آدمی زندہ بچے اور وہ بھی بقیہ زندگی نارمل گزارنے کے قابل نہ رہے ۔

بےشک موجو دہ دورسائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے، سائنس دان مریخ پر قدم رکھ چکے ہیں اورمریخ پر زندگی کے آثارڈھونڈے جا رہے ہیں ۔ ہر لمحہ انسان ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اوردنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ دنوں کا سفر گھنٹوں میں ہوجاتا ہے۔اس سب کے باوجود سا ئنس جتنی بھی تر قی کرلے، انسان نیچ یاقدرت کے خلا ف نہیں جاسکتا۔جب کبھی انسان نے قدرت کے قوانین توڑنے اور خلافِ قدرت کوئی کام کرنے کی کوشش کی ہے تو اسی طرح نقصان اٹھا یا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube