شرمین عبید نے کیا غلط کیا؟

SAMAA | - Posted: Nov 2, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Nov 2, 2017 | Last Updated: 4 years ago

ایک ڈاکٹر کی فرینڈ ریکویسٹ سے شروع ہونے والے ہنگامے نے پورے سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں آلیا. جدھر دیکھو بس یہی چرچا ہے. آزاد و روشن خیال ہونا جرم بن گیا ہو جیسے. لبرل ہونا کوئی گالی ہو جیسے. ایک عورت نے خیال کو آزاد کیا کرلیا دماغ کو روشن کیا کرلیا ، کُند دماغوں نے فاحشہ سمجھ لیا ہو جیسے. کہ اب کسی بھی مرد کی اُس تک پہنچ آسان ہوگئی. اب وہ عزت کی بات نہ کرے. اس کے منہ سے ہراسمنٹ جیسے الفاظ ادا ہوتے اچھے نہیں لگتے. اسے اب وحشی درندوں سے کسی بھی قسم کا تعلق قائم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہونی چاہیئے. وہ آزاد ہوچکی لہذا وحشی درندوں کو حق ہے اسے نوچ کھانے کا.

بات فرینڈ ریکویسٹ کی نہیں ہے. بات ہراسانی کی نئی نئی تعریفیں گھڑنے کی بھی نہیں ہے. بات ایک ٹویٹ پر حد درجہ تنقید کئے جانے کی ہے. بات حقوقِ نسواں کے علمبرداروں پر قہقہے لگانے کی ہے. بات لبرل ازم کو نشانہ بنانے کی ہے.
کہا گیا اگر ڈاکٹر سے کوئی شکایت تھی تو اسپتال انتظامیہ سے رابطہ کرکے معاملے کو وہیں رفع دفع کردیا جاتا. سوشل میڈیا پر اسے اچھالنے کی کیاضرورت تھی. یہ سراسر ڈاکٹر کے ساتھ ناانصافی ہے. یہ اُسکی تذلیل ہے وغیرہ وغیرہ. مرد عورت کی جب چاہے جہاں چاہے جیسے چاہے تذلیل کرتا پھرے. لیکن ایک عورت ایسا کرنے کا حق نہیں رکھتی. جبکہ آج کے دور میں سوشل میڈیا ہی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ایک کمزور سے کمزور انسان اپنے حق کے لیے یا اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف باآسانی آواز اٹھا سکتا ہے. شرمین عبید تو ایک بااثر شخصیت ہیں انھیں اِس معاملے پر سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی ضرورت بھی نہ تھی. وہ ڈاکٹر کی اسپتال انتظامیہ سے شکایت کرنے کے ساتھ ساتھ اور بھی اقدامات اٹھا سکتی تھیں. سوشل میڈیا پر اِسے ڈسکس کئے جانے کا مقصد لوگوں کا اِس اہم ایشو کی جانب توجہ دلانا تھا جس کی کھل کر وضاحت وہ اپنے حالیہ ٹویٹ میں کرچکی ہیں.

جیسا کہ یہ بات تقریباً سب جانتے ہیں اِس وقت پوری دنیا میں سیکسوئل ہراسمنٹ کے حوالے سے باتیں ہورہی ہیں. جبکہ ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کے واقعات کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں. سائبر کرائم بل آجانے کے بعد بھی اِن واقعات کو روکا نہ جاسکا. اِس کی بڑی وجہ خواتین کا اِس پر خاموشی اختیار کیے رکھنا ہے. کیونکہ کچھ پیش آنے والے واقعات کی نوعیت اِس طرح کی ہوتی ہے کہ جنھیں جنسی ہراساں کے زمرے میں تو نہیں لایا جاسکتا لیکن انھیں اخلاقی طور پر بھی درست نہیں سمجھا جاسکتا. جبکہ ایسے واقعات سامنے والے کےلیے تکلیف کا باعث ضرور ہوتے ہیں.

پاکستان میں جنسی ہراساں کرنے کے ایسے ہزاروں واقعات ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر کیے جاتے ہیں. لیکن اِن کی کسی قسم کی کوئی رپورٹ نہیں ہوتی. جبکہ میں یہ بات یقین سے کہتا ہوں کہ شرمین عبید کی ٹوئیٹ کے بعد سوشل میڈیا پر اِس طرح کے واقعات میں انتہائی حد تک کمی واقع ہوئی ہوگی. وہ شرارتی کاکے جن کا کام فیس بک پر صبح شام بغیر اجازت خواتین کے انبکس میں گھس کر گڈبائے، نمستے ،سلام کرنا تھا. وہ اب اِس فریضے کو ادا کرتے ہوئے دس بار سوچتے ہوں گے.

مانا کہ فیس بک پر فرینڈ ریکویسٹ بھیجنا جنسی ہراساں کے زمرے میں نہیں آتا. لیکن کسی کی ٹائم لائن پر جاکر بالخصوص خواتین اور انکی تصاویر کو لائک کرنا اُس پر کمنٹس دینا غیر اخلاقی عمل ضرور ہے. اور ایک پروفیشنل ڈاکٹر کا اپنے پیشنٹ کے ساتھ اِس طرح کا معاملہ رکھنا کسی طور درست عمل قرار نہیں دیا جاسکتا. آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید کی بہن ہو یا ایک غریب چپڑاسی کی بیٹی.غلط پر آواز اٹھانا اور اسے دوسروں کےلیے نصیحت بنانا اُس کا حق ہے. دوستی کرنے اور دوست بنانے کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں. جسے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے. شاید اِسی موقع کےلیے فراز نے یہ شعر کہا تھا.

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube