شرمین عبید چنائے اور سونگ آف لاہور

SAMAA | - Posted: Nov 2, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Nov 2, 2017 | Last Updated: 4 years ago

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جتنی شہرت متنازعہ کرداروں کے حصے میں آتی ہے،ہر دل عزیز افراد اس سے محروم کیوں رہتے ہیں۔بعض اوقات میرے سامنے ایسی ان گنت کہانیاں ہوتی ہیں جنہیں کہنے کے لئے الفاظ نہیں ہوتے۔

سیونگ فیس بھی انہیں گمنام کہانیوں میں سے ایک داستان تھی۔ در حقیقت یہ کہانی ان گمنام کرداروں کے درد کو زبان دینے کی کوشش تھی جنہیں معاشرے کے ستم گونگا بنا دیتے تھےمگرکچھ باتیں پس پردہ توہوتی ہیں مگران کا ذکرواظہار نہیں کیا جاتا۔ آسکر ایوارڈ کے بعد شرمین عبید چنائے نے ایک اور ڈاکومنٹری بنائی اور نام دیا سونگ آف لاہور۔ اس کی نمائش گذشتہ ہفتے امریکہ میں آلات موسیقی میوزیم میں ہوئی۔ ڈاکومنٹری میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان بہت ظالم ملک ہے جہاں موسیقی کوحرام اور اس کی کمائی کو مکروہ قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں طالبان خیبر سے کراچی تک آلات موسیقی کو توڑ رہے ہیں، جہاں موسیقار وں کو جینے کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔اس ڈاکومنٹری کا موضوع لاہور کے ایک میوزیکل بینڈ’’سچل‘‘ کی کامیابی کی داستان کو بنایا گیا ہے جو لاہور سے اٹھتا ہے اور پوری دنیا میں دھوم مچا دیتا ہے مگر اس کامیابی کے لئے اسے بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔طالبان اور اسلام پسندوں کی جانب سے اس بینڈ کے لوگوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں مگر وہ اپنے موسیقی کے جنون کو منتقی انجام تک پہنچاتے ہیں اور مشکلات اور دھمکیوں کی پروا کئے بغیر وہ اپنی منزل کے حصول میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

ڈاکومنٹری دیکھنے میں تو کافی دلچسپ اور کامیابی کی کہانی بہت زیادہ متاثر کن ہے۔امریکہ میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس کہانی کا اسکرپٹ بہت بہائے گا مگر میں تو فی الحال لاہور میں مقیم ہوں، میرے سامنے کئی کامیابی کی داستانیں ہیں، ہاں میرے سامنے خاتون ڈھولچی علیشبا ہے ، جو پہلی خاتون ڈھولچی ہے جس کے ڈھول کی تھاپ پر خود بخود ہی انسان جھومنے لگتا ہے۔ میرے سامنے لاہور کے درجنوں افراد ہیں کہ جن کی موسیقی کی دہنوں اور آوازوں نے نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کی۔مجھے خیبر پختونخوا کی خواتین گلوکارائیں ہیں کہ جن کی محسور کن آوازیں میرے کانوں میں آج بھی رس گھولتی ہیں، پشتو کی سمجھ نہ آنے کے باوجود گل پانٹرہ کے گئی نغمے مجھے ازبر ہیں، سندھ کا صوفیانہ کلام ہو یا جنوبی پنجاب کے علاقائی گیت، بلوچ ڈانس ہو یا گلگت کا رقص میرا دیس ثقافت اور موسیقی کی بدولت پوری دنیا میں جانا جاتا ہے مگر میں حیران ہوں کہ شرمین عبید چنائے کے ذہن میں کیا خیال آیا کہ وہ اس حساس موضوع کو چھیڑ کر میرے دیس کی بدنامی کر رہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر محترمہ سویرا شامی ان دنوں ایروزینا یونیورسٹی میں ہیں ، جس وقت اس ڈاکومنٹری کو میوزیم دکھایا جارہا تھا تو وہ بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ان کاکہناتھاکہ سچل بینڈکوسب سےزیادہ مشکلات اپنے اہل تشیع ہونے کی وجہ سے اٹھانا پڑیں اور پاکستان اہل تشیع افراد کے لئے انتہائی خطرناک ملک ہے۔اس دوران وہاں موجود افراد نے اہل تشیع افراد کے حوالے سے تجسس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اہل تشیع کون ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکومنٹری کی پروڈکشن ٹیم کے ایک فرد نے بتایا کہ اہل تشیع پاکستان میں اقلیت ہیں، سویرا شامی کے مطابق اس فرد کا یہ جواب سن کر میں سکتے میں آگئی اور کہاکہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، اہل تشیع مسلمان اورپاکستانی ہیں اور یہ پاکستان کی پہچان اور اکثریت ہیں۔سویرا شامی کی گفتگو اور ڈاکومنٹری کا مرکزی خیال میرے لئے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا، کیو ں آخر ایسا کیوں ہے کہ جس دھرتی نے ہمیں پہچان دی ، جس نے ہمیں زندگی کا احساس دیا اور جینے کی خواہش پیدا کی اپنے چند مقاصد کے حصول کے لئے اس دھرتی کی مان اور عزت کو ہم نیلام کردیں؟ شرمین عبید چنائے میرے لئے قابل فخر اور قابل صد احترام ہیں۔انہوں نےجوکامیابیاں سمیٹیں،ان کی بدولت میرے دیس کا نام روشن ہوا مگر کیا وہ اب اس دیس کو بدنام کریں گی؟مجھے کسی سے اختلاف نہیں، میرا کسی فرد سے ذاتی مفاد نہیں، مگر جب میرے دیس کی عزت و آبرو پر کوئی حرف آجائے تو میں ادب واحترام کے تمام تقاضے بھول جاتا ہوں، میں ایک آزاد خیال فرد ہوں مگر جب میرے دیس کا نام آتا ہے تو میں انتہائی تنگ نظر ہو جاتا ہوں ،پاک سرزمین کی سرحدوں کے علاوہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

یہ میرا حال نہیں بلکہ ہرپاکستانی کا نظریہ ، خیال اور سوچ بس یہی ہے۔شرمین صاحبہ آپ کی کامیابیوں پر میرا سر فخر سے بلند ہوتا ہے مگر خدارا کوشش کریں گےمیراسرکبھی ندامت سےنہ جھکے۔آپ کی ڈاکومنٹریزکومیں شوق سے دیکھتا ہوں مگر خیال رکھیں کہ آپ کی ڈاکومنٹریز مجھے تنگ نظر نہ بنادیں۔ موضوعات کی تلاش کرنی ہے ناں تو آئیں کبھی کسی شاہراہ کھڑے ہوکر دیکھیں کہ ایک لڑکی کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرا کبھی سندھ اور پنجاب کے بے زمین ہاریوں کے مسائل کو کھوجنے کی کوشش کریں۔ ارے چھوڑئیے ناں کبھی اس ماں کے درد کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے کی کوشش کریں کہ جو دودھ کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اپنے آنسوؤں سے اپنے لخت جگر کی بھوک مٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ پاکستان کو دکھانا ہے ناں تو ذرا دکھائیے گا کہ اس دیس کے لوگ موسیقی سے کتنا لگاؤ رکھتے ہیں، صوفیوں کی دھرتی کا حال سنائیے ناں، قوالی کے رس گھولتے بول بھی اپنا موضوع بنا لیں، آسکر نہ سہی قوم کی محبت ضرور ملے گی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube