Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے

SAMAA | - Posted: Oct 29, 2017 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 29, 2017 | Last Updated: 3 years ago

پاکستان نے 5 ون ڈے میچوں کی سیریز میں سری لنکا کو 5-0 سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالف ٹیم تمام میچوں میں شکست دی۔ بیٹنگ ہو یا بولنگ دونوں شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی شاندار رہی۔

پہلی مرتبہ پاکستان کے گیند بازوں نے 5 ون ڈے میچوں کی سیریز میں ایک بھی نو بال نہیں کی۔سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی حاصل کی اور مسلسل فتوحات کا سلسلہ جاری ہے جس کا کریڈٹ سرفراز احمد کی عمدہ کپتانی کے ساتھ ساتھ ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی جاتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ سرفراز احمد کو ون ڈے اور ٹی 20 کی قیادت سنبھالنی چاہئے اور پوری توجہ آنے والے ورلڈ کپ پر مرکوز رکھنی چاہئے جبکہ ٹیسٹ ٹیم کے لئے کسی سینئر کھلاڑی شعیب ملک یا محمد حفیظ کو کپتان مقرر کرنا چاہئے اور ٹیسٹ ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ کم از کم 5 سے 6 سینئر کھلاڑیوں کو کھلانا بھی بے حد ضروری ہے۔ مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں پیدا ہونے والا خلاء پر کرنا آسان نہیں لیکن اگر ٹیسٹ ٹیم میں ٹیسٹ کرکٹر عمران فرحت، یاسر حمید اور فیصل اقبال جیسے سینئر کھلاڑیوں کو موقعہ دیا جائے تو ٹیسٹ ٹیم مضبوط ہوسکتی ہے۔

کچھ سال قبل ٹیم میں سیاست عروج پر تھی، سینئر کھلاڑیوں نے ٹیم میں اپنا اپنا گروپ بنا رکھا تھا جس کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوتی تھی لیکن سرفراز نے قیادت سنبھالی تو نوجوان کھلاڑیوں کو موقعہ دیا جس سے ایک طرف گروپ بندی ختم ہوئی تو دوسری طرف ٹیم کی کارکردگی بہتر ہوئی۔

فاسٹ بالر حسن علی جنہوں نے حال ہی میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا وہ ون ڈے کے بہترین بالر بن گئے ہیں اور آئی سی سی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر براجمان ہیں۔ شاداب خان، رومان رئیس کی شمولیت سے بھی ٹیم مظبوط ہوئی ہے جبکہ سری لنکا کے خلاف اپنے کیریئر کے پہلے ہی میچ میں انضمام الحق کے بھتیجے انعام الحق نے شاندسر سنچری اسکور کی اور وہ ڈیبو میچ میں سنچری کرنے والے پاکستان کے دوسرے اور دنیا کے بارہویں کھلاڑی بن گئے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان فاسٹ بالر عثمان شنواری نے اپنے کیریئر کے دوسرے میچ میں ابتدائی 5 وکٹیں حاصل کر کے نا صرف سری لنکا کی بیٹنگ لائن کو تباہ کیا بلکہ خود کو بہترین بالر ثابت کیا۔

پہلے پرچی پر کھلاڑیوں کو موقعہ ملتا تھا مگر اب صورتحال یہ ہے کہ جو پرفارم کرے گا وہی ٹیم میں جگہ بناسکے گا کیونکہ پاکستان کے پاس بہترین کھلاڑیوں کی لائن لگی ہوئی ہے اور ان نوجوان کھلاڑیوں کو پی ایس ایل کے ذریعے اپنی کارکردگی دکھانے کا موقعہ ملا۔

پاکستان ورلڈ کلاس کھلاڑی پیدا کرنے میں کیوں ناکام ہے اس کی بنیادی وجہ کلب کرکٹ، سکولز کرکٹ اور کالجز کا بورڈ اور یونیورسٹی سطح پر کلی طور پر تباہ ہونا ہے۔ کرکٹ کے میدان میں ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے ماضی میں بھی اس اعتراف کے بعد اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ ملک بھر میں کرکٹ ٹورنامنٹ کرائے جائیں تاکہ نئے ٹیلنٹ کو تلاش کیا جاسکے۔ پاکستان میں نچلی سطح پر ٹورنامنٹ کے انعقاد سے نیا خون ٹیم میں شامل ہوگا اس مقصد کے لئے بین الصوبائی ہی نہیں انٹرسٹی ٹورنامنٹ کا بھی انعقاد کیا جائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اگر کلب کرکٹ، یونیورسٹیز اور بورڈ سکولز میں کرکٹ کے فروغ پر توجہ دے تو اس کے مزید بہتر نتائج نکل سکتے ہیں۔

سال 2017 میں پاکستان نے 18 ون ڈے میچز میں سے 12 میں کامیابی حاصل کی اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی بھی اپنے نام کی۔ ٹیم کی کارگردگی سے ثابت ہوا کہ پرچی کے بجائے میرٹ پر کھلاڑیوں کا انتخاب ہو تو پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube