Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

خواتین کوہراساں کیوں کیا جاتاہے؟

SAMAA | - Posted: Oct 27, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 27, 2017 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: ثمیرا ظفر

ہالی وڈ پروڈیوسر ہاروے وینسٹن کی جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے انکشاف کے بعد، ہالی وڈ فلم ایکٹریس علیسا میلانو نے سوشل میڈیا پہ رواں مہینے یعنی کہ اکتوبر 2017 میں ایک کیمپین شروع کی جس کو ’’می ٹو‘‘ کے ساتھ پھیلا یا گیا جس کا مقصد ہے کہ جس خاتون کو بھی اس قسم کی کوفت کا سامنا کرنا پڑا وہ اپنے آپ کو اس ہیش ٹیگ سے نمایاں کر دے۔ یہ کیمپین بہت تیزی سے بھارت، پاکستان اور امریکا میں مقبول ہوئی اور اس کے بعد سے فیس بک، ٹیوٹر، انسٹا گرام اور دیگر  سوشل پلیٹ فارمز پہ بہت سی خواتین نے اپنے آپ کو ٹیگ کیا، جن میں بڑی بڑی نامور خواتین بھی شامل ہیں جیسا کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی ایکس گرل فرینڈ مونیکا لیونسکی نے بھی اپنے آپ کو اس ہیش ٹیگ سے ٹیگ کیا۔

میرے مشاہدے کے مطابق  دنیا میں تقریباً ہر عورت کو کسی نا کسی طریقے سے جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے چاہے وہ ایک نا معلوم فون کال ہی کیوں نا ہو جس کو اٹینڈ کرتے ہی نازیبا جملے سننے کو ملیں یا کسی نا معلوم فون نمبر کی طرف سے کیا جانے والا ٹیکسٹ میسج جس کو پڑھتے ہی صنفِ نازک اپنے وجود سے ہی نظر نا ملا سکے اور آج کے دور میں سوشل میڈیا جیسے جن کی بدولت جس کو قابو میں رکھنا تقریباً نا ممکن ہو گیا ہے، اس صورت ِ حال میں آج کی خواتین کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ چاہے وہ دفاتر میں کام کرنے والی لڑکیاں ہوں یا کالج  اور اسکول جانے والی کم عمر اسٹوڈنٹ، کہیں نا کہیں  بد اخلاق مرد حضرات ان کی تاک میں لگے بیٹھے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں بھی اس بد اخلاقی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کسی بھی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ بد اخلاقی کرنے والامرد نفسیاتی ہو، بلکہ بعض کیسز میں انتقاماً بھی ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے مثلاً شادی سے انکار، کوئی پرانی خاندانی دشمنی یا اپنی اعلیٰ پوسٹ اور دوسروں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں پرورش پاتے ہیں جس میں تمام تر اختیارات مرد حضرات کو حاصل ہوتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورتوں کا اکیلے مسائل کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ ایک مرد کے نا ہونے سے وہ دس مردوں کی نگاہ میں آجاتی ہے جب کے اس کے ایک محرم مرد کی موجودگی اسے ہر قسم کی بری نظروں سے محفوظ رکھ سکتی ہے وہ محرم مرد اس کا باپ بیٹا یا شوہر، کوئی بھی ہو۔ اللہ پاک نے بھی مرد کو عورت کا سر پرست مقرر کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عورت نا صرف جسمانی طور پہ مرد کے مقابلے میں کمزور ہے بلکہ جذباتی طور پہ بھی زیادہ حساس واقع ہوئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کو اس لئے نہیں بتا سکتیں کہ الٹا ان کو ہی معیوب نظروں سے دیکھا جائے گا۔ بہت سے اداروں میں کام کرنے والی ایسی  مجبور خواتین بھی ہیں جو صرف نوکری ختم ہو جانے کے ڈر سے چپ چاپ ایسی صورتحال کا سامنا کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے کیسز ایسے ہیں جن میں کئی سالوں تک لڑکیاں کسی قریبی رشتے دار کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوتی ہیں لیکن اپنی اور اپنے خاندان کی عزت خراب ہونے کے ڈر سے چپ چاپ یہ ظلم سہتی ہیں جن میں سے بہت سی خواتین خود کشی تک کرنے پہ مجبور ہو جاتی ہیں۔ اکثر کالج یا اسکول جانے والی بچیاں، ان کو دو دن بھی مستقل کوئی فولو کرے تو تیسرے دن سے وہ ڈر کی وجہ سے جانا چھوڑ دیتی ہیں۔ جب کہ بہت سے خاندان ایسے ہیں یا بہت سی مائیں ایسی ہیں جن سے ان کی بیٹیاں اپنا خوف شئیر بھی کرتی ہیں تو وہ خود ان کو باہر نکلنے سے منع کر دیتے ہیں۔ کسی بھی صنفِ نازک کے لئے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا خوف کسی بھی بڑے مالی نقصان سے کہیں زیادہ ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی بچیوں کو ہر ڈر یا خوف سے نپٹنا سکھائیں، ان میں اتنا حوصلہ پیدا کریں کہ کم از کم وہ اپنے گھر والوں کو کسی بھی بدسلوکی سے آگاہ کر سکیں اور بد اخلاقی کرنے والے افراد کو ایسی سزا دی جائے جو دوسرے افراد کے لئے عبرت کا باعث ہو۔صرف قانون پہ ہی صحیح عملدرآمد ہو تو کسی بد کردار کی ہمت نہیں کہ کسی خاتون  کے بارے میں برا سوچے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube