Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

انسانیت اور فرض شناسی

SAMAA | - Posted: Oct 23, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Oct 23, 2017 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: فرحان سعید خان

ملکِ پاکستان کے ہر ضلع اور تحصیل  میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر اور تحصیل ہیڈکوارٹر کے نام سے بڑی بڑی عمارتیں نظر آتی ہیں بلکہ اب تو عموما دیہات میں بھی محکمہ ہیلتھ کے ہسپتال ورنہ کم از کم سنٹرز تو لازمی موجود ہیں جنہیں عرفِ عام میں سرکاری ہسپتال کہا جاتا ہے اور ان عمارتوں میں بلاشبہ ڈاکٹرز اور معاون طبقہ بھی تعینات ہے اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کی حکومتِ پاکستام صحت کے نام پر ادویات، تنخواہوں اور دیگر اخراجات  کی مد میں ایک خطیر رقم خرچ کرتی ہے۔لیکن اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا کہ سب سے زیادہ فرض شناسی کا فقدان یہیں پر نظر آتا ہےاور ایسے ایسے واقعات آئے دن سامنے آتے ہیں کہ صرف فرض شناسی کافقدان ہی نہیں بلکہ انسانیت کی بھی تذلیل محسوس ہوتی ہے۔

رائیونڈ کی رہائشی خاتون سمیرارائیونڈ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچی تو اسے تیسری منزل کے گائینی وارڈ میں بھیج دیا گیا۔جہاں کوئی ڈاکٹر اسے نہ مل سکا اور لیڈی ہیلتھ وزیٹرنے اسے جواب دے دیا جس پر اسے ہسپتال سے مایوس باہر آنا پڑا  اور باہر آکر سڑک پر اس نے بچی کو جنم دے دیا۔

عمر کوٹ کے علاقے تھر بازار میں تین خاکروب ایک نالے کی صفائی کیلئے اس کے اندر اترے تو اندر موجود زہریلی گیس سے ان کی حالت خراب ہوگئی ۔نہایت ایمرجنسی میں انہیں بامشکل نالے سے نکال کر سول ہسپتال عمر کورٹ لے جایا گیا لیکن وہاں موجود ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر  محمد جام نے یہ کہاکہ اس کا روزہ ہے پہلے خاکروبوں کے جسم سے گندگی ہٹائی جائے پھر علاج کیا جائے گا تاہم وقت پر طبی امداد نہ ملنے پران میں سے ایک خاکروب عرفان مسیح وفات پاگیا۔

جبکہ باقی دو خاکروبوں کو تشویش ناک حالت میں حیدر آباد  منتقل کر دیا گیا۔وفات پانے والے خاکروب کے لواحقین نے ڈاکٹرز کےاس رویے پر شدید احتجاج کیا۔

اس قسم کے واقعات روز اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ فرض شناسی سے محروم ، بے حسی اور ہٹ دھرمی سے بھرپور۔فرض شناسی کے بغیر کسی بھی مہذب معاشرے کی تکمیل ناممکن ہے۔کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی مثال اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو فرض شناشی صفِ اول میں دکھائی دے گی۔ اگر ہر شخص اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی نہ برتے تو معاشرہ مثالی بن جائےاور بلاشبہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ وجود میں آئے گا لیکن اس کے برعکس اگر ہر شخص فرائض سے نہ صرف فرار ڈھونڈے بلکہ جب مسیحا ہی قاتل بن جائے،قانون کے رکھوالے سرِ عام قانون کی دھجیاں اڑانے لگیں تو اس معاشرہ کی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن یہ واقعات فرض شناسی سے تو درکنار انسانیت کی بھی تذلیل ہیں۔ جب کہ ہمارا تو مذہب بھی سب سے پہلے انسانیت اور پھر افرائض کا حکم دیتا ہے۔

انسانیت ایک ایسا موضوع ہے جو ہر دور میں زیرِ بحث رہا ہے لیکن اس کا وجود صرف گفتگواور بحث و مباحثہ کی حد تک رہ گیا ہےجبکہ اس کا عملی نمونہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں پر لوگ اپنے فرائض کی انجام دہی سے بھی عاری ہیں۔ آئے دن ایسے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ انسانیت شرما جائے۔لیکن پھر بھی بے حسی، ہٹ دھرمی جوں کی توں موجود ہے۔ جب فرض شناس لوگ اپنے فرائض سے غفلت برتنے لگیں۔احساس اور انسانیت سے محروم ہوجاٰئیں۔ قانون بنانے والے ہی قانون توڑنے لگیں تو پھراسی طرح کے انسانیت سوز واقعات عام ہوجاتے ہیں ۔ا تھارٹیز جب سوئی رہیں ظلم عام ہوتا رہے تو ان قوموں کا ان معاشروں کا زوال لازم ہے۔ پاکستان کی تنزلی کی وجہ بھی  فرض شناسی اور انسانیت  سے محرومی ہے اور یہ دو واقعات  فرض شناسی اور انسا نیت کے فقدان کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں اور یہ لمحہ فکریہ ہے۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube