بچوں کے فیشن پرکم توجہ کیوں

October 12, 2017

بچے بےچاروں کی عید کے بغیر سنے کون اور کیوں سنے کہ بس ان کو تو عید کے عید ہی من پسند کپڑے پہننے کو ملتے ہیں۔ باقی پورا سال تو بس زیادہ تربچوں کے لبوں پر ایک ہی شکوہ ہوتا ہے کہ ’’ہم کیا کریں کچھ لے کے ، ہماری امی اور پھوپھو تو زبردستی یہ کپڑے لے آگئی ہیں ۔ ‘‘ یا یہ کہ چاہے کچھ بھی ہوجائےہمیں توسوٹ پیس سےہی ملبوسات تیارکرکےدئیےجائیں گے۔

یا یہ بھی سننے کوملتا ہے کہ ’’امی اتنے اولڈ فیشنڈ کپڑے میں نہیں پہن کر جا رہی کیوں کہ سب نے نئے فیشن کے مطابق کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے اور تو اور اکثر اوقات ایسابھی  ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں کے کپڑے ہی نہیں بنوائے جاتے اور کہا جاتا ہے کہ بہن بھائی کے کپڑے پہن لو،اب آپ کو یہ پورے آجائیں گے اور بڑے بھائی بہنوں کو نئے کپڑے لے دئیے جاتے ہیں۔

ویسے دیکھا جائے تو یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے ، چلو مان لیا کہ ماضی میں تو یہ ہوتا تھا کہ بچوں کے کپڑے گھر پر سئیے جاتے تھے یا اپنے لائے ہوئے کپڑوں کے بچے ہوئے کپڑوں سے ہی درزنوں کو دے دئیے جاتے تھے کہ وہ مقررہ وقت پر سلائی کر دئیے جائیں اس لئےشکوہ تو بس شکوہ ہی رہ جاتاتھا۔

لیکن بچے واقعی حق بجانب ہیں کہ ان کےساتھ فیشن کےمعاملےمیں زیادتی ہوتی ہے،اول توریڈی میڈکپڑوں کی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں کہ والدین کا بجٹ ہی آؤٹ ہوجاتاہے۔دوسری طرف بچوں کےلئےایک ہی جیسےملبوسات کی رینج زیادہ ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے چوائس کا عنصر کم ہوجاتاہے۔اسی طرح بچوں کےلئےڈیزائنززمجھےتوآج تک کوئی نظرنہیں آیاکہ جوخاص طور پربچوں کے لئے برانڈڈ ملبوسات یاچیزیں تیار کرے۔

دوسرامسئلہ یہ بھی ہوتاہےکہ ہم بچوں کوکسی بھی قسم کی فیصلہ سازی کی قوت سےبھی محروم کرتے جا رہے ہیں کیونکہ ہم ان کو ان کی پسند کے لباس بھی نہیں پہننےدیناچاہتےتوجو بچہ اپنی پسند کا لباس نہیں پہن سکتا کہ ہم اس پر اپنے فیصلے اور مرضی تھونپ دیتے ہیں وہ کوئی بڑا فیصلہ کیاکرسکےگا؟

وہ ہر چیز میں یہی پوچھے گا کہ ٹھہرو میں ابھی چاچی یا امی سے پوچھ کے آتا ہوں کیونکہ اسے بچین کی عادت پڑی ہوگی،لیکن پھروہاں معاملہ کپڑوں یا جوتوں کا نہیں زندگی اور رشتوں کاہوگاتاہم وہ اس میں کوئی اہم قدم نہیں اٹھا سکےگا۔دوسری طرف گھروں میں بچوں کے لئے سلائی کرنے والے کپڑوں کے بارے میں اگر بات کی جائے تو ملا جلا رحجان ملتا ہے۔کچھ لوگ یہ کہتےہیں کہ گھرپرکپڑےسینے سے ایک تو بچےکےلئےمحبت واضح ہوتی ہے،بچے کو بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ میں نے ماں یا پھوپھی کے ہاتھ کے  بنے ہوئے منفرد قسم کے لباس پہنے ہیں اور دوسری طرف ماؤں کی تخلیقی صلاحیتیں بھی ابھرکرسامنے آتی ہیں۔لیکن بچوں کو احساس کمتری سے بچانے کے لئے ماؤں کو یاگھرپرجو بھی بچے کے ملبوسات سی رہا ہے اسے بھی نئے فیشن اور ٹرینڈز کا علم ہونا چاہیے کیونکہ آج کل مارکیٹ میں مقابلے کا رحجان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ آپ ان برانڈز کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔اس سلسلے میں کسی این جی او سے مدد بھی لی جا سکتی ہے اور کئی خواتین کو باعزت روزگار بھی فراہم ہو سکتا ہے تاہم کوشش یہ ہونی چاہیے کہ این جی اوز والے محنت کش خواتین کو ان کی محنت کا درست معاوضہ ضرور دیں۔

یہاں پر ایک اور قسم کےطبقے کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ جو اپنے بچوں کو جو چاہے وہ لے کر دے رہا ہے یعنی جس چیز کی وہ ضد کرتے ہیں وہ انھیں لے کر دے دیتے ہیں اور اس کے بعد ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں کیوں کہ اس طبقے کے بچوں کے نخرے ہی بہت ہوتے ہیں چاہے کپڑے درزی سے سلوانے ہوں یا بوتیک سے لینے ہوں۔بچوں کا فیشن بالکل اسی طرح مفلوک الحالی کا شکار ہے جس طرح ان کا ادب مفلسی کاشکارہے۔

آج فیشن ڈیزانرز سے یہی کہنا ہے کہ اپنے ٹرینڈز میں بچوں کے لئے بھی فیشن متعارف کروائیں اب خواہ وہ جیولری ہو ، کپڑے یا جوتے ہوں یا کوئی اور چیز جبکہ دوسری طرف مخیر حضرات سے یہ بھی گذارش کرنی ہے کہ وہ ان بچوں کا بھی خیال رکھیں جن کے تن پر سادہ لباس بھی نہیں ۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.