یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

October 12, 2017

تحریر :توقیر چغتائی

الرجی کی بہت ساری اقسام ہیں جن سے بچنے کے لیے ہمیں طرح طرح کی جتن کرنا پڑتے ہیں۔ کچھ دواؤں اور احتیاط کے بعد الرجی سے چھٹکارا بھی مل جاتا ہے، لیکن ایسی الرجی سے نہ تو آپ دواؤں کے سہارے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی احتیاطی تدابیر سے قابو پا سکتے ہیں جو آپ کی صحت اور ماحول پر زبردستی مسلط کی جائے۔پولن الرجی اور سکن الرجی سے دواؤں کے ذریعے چھٹکارا حاصل کرنے والے ہم جیسے بعض مریض جب کسی محفل میں سگریٹ کے دھوئیں سے پریشان ہونے کے باوجود سگریٹ نوش حضرات سے سگریٹ چھین سکتے ہیں اور نہ ہی راہ فرار اختیار کر پاتے ہیں تو ان کی حالت قبل رحم ہونے کے ساتھ قابل دید بھی ہوتی ہے۔کچھ مغربی ممالک میں اہم مقامات پر آپ سگریٹ نوشی نہیں کر سکتے جس کے لیے دیوار پرسگریٹ اور کراس کا نشان بنا کرشہریوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ یہاں سگریٹ پینا منع ہے۔ لیکن بہت سارے ممالک میں دیواروں، دروازوں اور راستوں پر لکھا ہوا جملہ’’ No smoking‘‘درج ہونے کے باوجود منچلے نوجوان دھوئیں کے مرغولے بناتے ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں مگن نظر آتے ہیں۔ کچھ ممالک میں تواب اہم سماجی ، تفریحی اور طبی مقامات کے بعد فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے سگریٹ نوشی کرنے والوں پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے تاکہ قریب سے گزرنے والے دھوئیں کے نقصان سے بچ سکیں۔ میر تقی میرنے جب یہ مطلع کہا ہوگا

دیکھ تو دل کے جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

اس وقت دھواں دل اور جان تک ہی محدود تھا ، دوسرے مقامات سے کم ہی اٹھتا تھا اور آگ بھی بہت ہی کم لگتی تھی لیکن ہمارا دور میر کے دور سے بالکل مختلف ہے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ درست ہو گا کہ ہم نے اسے بالکل مختلف بنا دیا ہے جس کی مثال کراچی کے علاقے بلدیہ کی ایک فیکٹری میں لگنے والی اس خوف ناک آگ سے دی جا سکتی ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں گھروں میں صف ماتم بچھا دی تھی ۔ اس کے بعد ملوں اور فیکٹریوں میں آگ لگنے اور دھواں اٹھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا اس نے کراچی کے بعد یہاں کے دوسرے شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس سال کے دوران کراچی کے علاقے شفیق موڑ کے قریب گتے کی فیکٹری میں آگ لگی تھی جس سے قبل لانڈھی کی ٹیکسٹائل مل کو آگ نے گھیر لیا تھا، اسٹیل مل میں بھی آگ بھڑک اٹھی تھی اور پچھلے سال گلبائی کے مقام پر کپڑوں کے گودام سے بھی آگ کے شعلے بلند ہوئے تھے۔ صرف یہی ایک دو واقعات نہیں بلکہ کراچی کے بعض دوسرے علاقوں میں بھی آگ لگنے کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اسلام آباد کے اتوار بازار میں جو آتشزدگی ہوئی اس نے بھی خاصی تباہی مچائی تھی اور اسی شہر کے عوامی مرکز کی بلڈنگ میں بھڑکنے والی آگ نے بھی دو نوجوانوں سے ان کی زندگی چھین لی تھی۔آگ لگنے کا ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں لاہور کے ایک تھانے میں بھی پیش آچکا ہے جہاں کا ریکارڈ روم جل کرتباہ ہو گیا۔ آگ لگنے اور لگانے کے واقعات کا جائزہ لیا جائے توبات بہت دور تک جائے گی، مگرآج کل کراچی کے شہریوں نے پلوں، گزرگاہوں،عمارتوں، سڑکوں اور بازاروں کے آس پاس آگ لگانے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس سے اٹھنے والے دھوئیں سے شاید ہی کوئی محفوظ ہو ۔یہاں کے باسی اپنی دکانوں، گھروں اور گلیوں کا کوڑا کرکٹ کسی مخصوص جگہ پر ٹھکانے لگانے کے بجائے اسے سر راہ جمع کر کے آگ لگا دیتے ہیں جس سے اٹھنے والا دھواں شہریوں کی آنکھوں ، حلق اور سانس کے ساتھ جو کھیل کھیلتا ہے اس کے اندازہ کسی دوسرے شہر کے باسی لگا ہی نہیں سکتے۔ الرجی کی تمام اقسام پریشان کن ہوتی ہیں، مگر کراچی کے شہریوں کو آج کل مٹی ، دھول اور دھوئیں کی الرجی نے جس عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے وہ اگر اسی طرح جاری رہا تووہ اپنے گھروں تک ہی محدود ہو جائیں گے ،لیکن گھر کے آس پاس منڈلانے والے دھوئیں کے بادلوں سے بچ کر کہاں جائیں گے ؟

  Email This Post

 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.