تو کھینچ میری فوٹو

October 11, 2017

تحریر: اکرم چوہان

میری تصویر اتار، ہرطرف سیلفی کا بخار، مسلسل، لگاتار، لاتعداد افراد اس مرض کا شکار، بہت سوں کو اس سے پیار، سیلفی انسانی زندگی کی بنی ایسی ایلفی کہ جس سے جڑنے کے بعد کسی کو بھی کوئی غم نہیں رہتا، بس اپنے آپ کو دیکھا اور خوشی سے نہال، میں اُڈی اُڈی جاواں ہوا دے نال، تصویریں زیادہ اچھی آجانے پر بےحال، اپنے آپ سے پیار ہر کسی کو ہوتا ہے، سیلفی نے اس چاہت کو جنون میں تبدیل کردیا ہے۔ اب آفس ہو، آؤٹنگ ہو، تقریبات ہوں، غم کا موقع ہو، سیلفی ضروری ہے، اس لئےکہ خود کو دیکھا تو اک خیال آیا، میرے جیسا نہ دنیا میں کوئی دوسرا آیا۔

دفاتر میں پہلے سیاسی موضوعات پر گرما گرم گفتگو ہوتی تھی، ہر کوئی اپنے محبوب قائدین کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتا تھا، دوستی اور تعلق خطرے میں پڑ جایا کرتے تھے لیکن اب تو معاملہ ہی دوسرا ہے، جہاں ذرا سانس آیا، سیلفی سے دل بہلایا، کوئی سنٹر اسٹیج تو کسی کو دیا پیچھے پھینک، اپنے آپ پر قربان اور فدا، ہر کسی کا انداز جدا۔

تقریبات کا حال بھی اس سے کچھ کم مختلف نہیں، ہر کوئی اپنے خیال میں زہرہ جبیں، تو پھر حسن کی بجلیاں گرانے کے بعد موبائل سے مدد لی جاتی ہے، موبائل لاکھ شرماتا ہے، سمجھاتا ہے، بل کھاتا ہے، اٹھلاتا ہے لیکن اسکو چار ناچار، دل تھام کر ان ماہ جبینوں کے فوٹو کھینچنے پڑتے ہیں جنہیں کوالٹی چیک کے مراحل سے گزار کر چند منٹ بعد فیس بک اور دیگرسوشل ویب سائٹس پر پوسٹ کرکے کمزور دل حضرات کا امتحان لیا جاتا ہے۔ آؤٹنگ پر گئے ہوں یا کھانے پر، یا پھر کسی پکنک پر، وہاں پر بھی یہ بیماری اپنی حدوں کو چھو رہی ہے، اس سے ایک فائدہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ حاسدین کے کیمپوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے، ان کی صفوں میں تباہی مچانے کےلئے ضروری ہے کہ ان کو یہ بتایا جائے کہ دیکھو یہاں تو پارٹی آن ہے، ہمت ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر۔

یہ بھی دیکھنےمیں آیا کہ نیوز اینکرز (خواتین اور مرد حضرات دونوں ) میک اپ سے فراغت کے بعد سیلفیز کا پورا سیشن کرتے ہیں۔ اخبارات کا مطالعہ، اس دن کی بڑی خبریں کیا ہیں، اس سے انکا کیا لینا دینا، سیلفی ہے تو زندگی ہے، اب ایسا بھی کیا انسان اتنا پیارا لگے اور فوٹو بھی نہ ہو، ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو۔ جب سیلفی پوسٹ ہوجاتی ہے تو پھر مداحوں اور فینز کا کام شروع ہو جاتا ہے، لائیکس اور شیئرنگ کا وہ بازار گرم ہوتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔ ۔

یہ منظر بھی چشم فلک نے دیکھا کہ تدفین کے موقع پر بھی سیلفیز سے جان نہ چھوٹی، یادیں محفوظ کرنے کے نام پر مرحوم کے ساتھ پورا سیشن کردیا گیا، سفر آخرت پر روانہ ہونے سے قبل اس طرح کے پروٹوکول پر مرنے والے کا تو خوشی سے برا حال ہوگا، اگر مہمانوں کی کتاب وہاں رکھ دی جائے تو روانگی سے پہلے اپنے تاثرات کے اظہار کےلئے وہ اٹھ ہی بیٹھیں۔ انشاءجی اٹھو اب پوسٹ کرو، چکن کو گرما گرم روسٹ کرو، کھابوں سے دشمن کو دوست کرو۔

غرض یہ کہ معاشرے کی اکثریت اب سیلفیز پرانحصار کر رہی ہے، جدید موبائل سے انکے ذوق وشوق کی تسکین بھی ہو رہی ہے اور جنون کی تکمیل بھی ہورہی ہے۔ مُنہ دھونے سے پہلے یا منہ دھونے کے بعد، سونے سے پہلے یا سونے کے بعد سیلفی لازم ہے۔ اس کو خود ستائشی کہیں یا خود پرستی، پاگل پن کہیں یا کوئی دماغی عارضہ، ہمارے ہاں اور پوری دنیا میں سیلفی کا موسم جوبن پر ہے۔ انسان کو زندگی میں رونق میلے کےلئے کچھ بہانے تو چاہیئں۔ دل پشوری کرنے کے لئے سیلفی کا شوق نہ تو زیادہ مہنگا ہے، نہ ہی اسکے لئے کوئی بہت لوازمات درکار ہیں ، بس ایک عدد مُنہ چاہیئے جو سب کے پاس ہے۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.