ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کی تدابیر

October 11, 2017

کراچی سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں گرمی کی شدید لہر برقرار ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں اگلے 4 سے 5 دنوں تک شدید گرمی کا امکان ہے۔

جو لوگ گھر سے باہر زیادہ وقت گزارتے ہیں یا کھلے آسمان کے نیچے محنت مزدوری کرتے ہیں ان کو ہیٹ اسٹروک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک کی وجوہات:

1) گرم اور خشک موسم

2) شدید گرمی میں پانی پیئے بغیر مخنت مشقت یا ورزش کرنا

3) جسم میں پانی کی کمی

4) ذیابیطس کا بڑھ جانا

5) دھوپ میں براہ راست زیادہ دیر رہنا

ہیٹ اسٹروک کی علامات:

1) سرخ اور گرم جلد

2) جسم کا درجہ حرارت 104 ڈگری فارن ہائیٹ ہوجانا

3) غشی طاری ہونا

4) دل کی دھڑکن بہت زیادہ بڑھ جانا

5) جسم سے پسینے کا اخراج روک جانا

6) پٹھوں کا درد

7) سر میں شدید درد

8) متلی ہونا

کسی کو ہیٹ اسٹروک ہو جائے تو پریشان ہونے کے بجائے مریض کی مدد کریں، ہیٹ اسٹروک ہونے کی صورت میں مریض کو لٹا دیں اور اس کے پیر کسی اونچی چیز پر رکھ دیں۔ مریض کے جسم پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں اور ٹھنڈا پانی چھڑکیں، مریض کو پنکھے کے قریب کردیں اور فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچانے کی کوشش کریں۔

ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کی اہم تدابیر:

گرم موسم میں پانی کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے روزانہ کم از کم تین لیٹر پانی تو لازمی پینا چاہیے، خاص طور پر پانی کے ذریعے اپنے جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھنا چاہیے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کھیرے کا جوس، ناریل کا پانی، لیموں کا جوس کا استعمال کرنا چاہیے، گرم اشیاء، چائے، کافی کا استمال کم کیجئے ۔

ڈھیلے اور ہلکے رنگوں کے ملبوسات کاٹن جیسے ہوا دار کپڑے پہنیں، تاکہ پسینہ سوکھ جائے، اگر آپ مچھروں کے کاٹنے کے وقت باہر ہوں، تو پوری پینٹیں اور بند جوتے پہنیں۔

اگر آپ شام کے وقت پارک میں جائیں، تو جرابیں ٹخنوں سے اوپر چڑھائیں، اور شرٹ پینٹ کے اندر اڑس لیں۔

گرم اشیاء، چائے، کافی کا استمال کم کیجئے، کولڈرنکس کے بجائے پانی، لسی اور دیسی مشروبات کا استعمال کریں۔

بلاوجہ گھروں سے نہ نکلیں، زیادہ دیر تک دھوپ میں نہ رہیں، باہر نکلیں تو سر ڈھانپ کر رکھیں، اگر نکلنا بھی ہے تو گیلے کپڑے سے سر اور جسم ڈھانپ کر نکلیں اور اپنے ساتھ پانی کی ایک بوتل ضرور رکھیں اور ہر 20 سے 30 منٹ کے بعد پانی پیتے رہیں۔

طبی ماہرین نے شدید گرمی میں اینٹی ڈپریشن ادویات استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ اس سے فالج کا خطرہ ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کیفین اور تیل سے بھرپور چیزیں، اور تلے ہوئے یا پیک شدہ کھانے کم کر دینی چاہیئں۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، خاص طور پر کچا سلاد اور ایسے پھل کھانے چاہیئں جن میں پانی زیادہ ہو جیسے کھیرا، تربوز، آم، کینو، خربوزہ، گاجر، وغیرہ۔

اگر ہم احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تو گرمی سے بچا جا سکتا ہے۔

عام طور پر جب بھی گرمی میں اضافہ ہوتا ہے تو ساتھ ہی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اگر کےالیکٹرک شہریوں کو ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رکھنے کے لئے بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائے تو شہریوں کی مشکلات کم ہوسکتی ہیں۔

سندھ حکومت اور شہری و ضلعی حکومتوں کو بھی شہر کے مختلف علاقوں میں فوری ہیٹ اسٹروک سینٹرز/کیمپ قائم کردینے چاہئیں تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جاسکے کیونکہ اسی ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے کراچی میں جون 2015 کو گرمی کی لہر سے 12سو سے زائد قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا تھا۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھتے۔ کوئی سانحہ یا واقعہ ہو جاتا ہے تو اس وقت بلندوبانگ دعوے تو کئے جاتے ہیں مگر جونہی وقت گزرتا ہے ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں اور پھر نئے سانحہ کا انتظار کرتے ہیں۔

حکومتی ذمہ داروں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.