میری رہنمائی کیجئے

October 11, 2017

جب سے یہ حکومت ’معرض وجود‘ میں آئی ہے ، ہمیں مالیات کے حوالے سے مختلف خبریں سننے کو ملی ہیں ۔ پہلے خشخشی داڑھی والے بزرگ کہتے تھے کہ معیشت کا تو ستیا ناس ہوچکا ہے اور سابق وزراء خزانہ نے پاکستان میں کچھ نہیں چھوڑا ہے، مجھے اس ناؤ کے تختے جوڑنے کیلئے کچھ وقت درکا رہے۔ا س کے بعد معیشت کی بہتری کی نویدآنا شروع ہوئی تو دھرنا پارٹی اپنا ذاتی ڈی جے لیکر اسلام آباد جا بیٹھی اور بزرگ نے پھر فرمایا کہ معیشت بس ابھی ٹھیک ہوئی ہی تھی کہ پھر سے خراب ہو گئی۔ اس کے بعد جب سی پیک شروع ہوا تو ایسے اعداد و شمار پیش کئے جاتے کہ مجھے شک ہونے لگتا کہ ہم پاکستان جیسے پسماندہ ملک نہیں بلکہ مغرب کے کسی ترقی یافتہ ملک کے باسی ہیں۔

اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں سچ کی سوئی کی تلاش خاصی مشکل تھی۔اعداد و شمار کا دوسرا رُخ انتہائی خوفناک ہے ، میں وہ زیل میں پیش کرنے لگا ہوں۔ دیکھئے کہ کیسے ہمیں گمراہ کیا جاتا ہے اور کیسے ہمیں بیوقوف بنا کر ہمیں لوٹا جاتا ہے اور بڑے صاحب اُس کے بعد بانگیں لگاتے ہیں، ’’کیوں نکالا، میں پوچھتا ہوں مجھے کیوں نکالا‘‘۔

انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کی گزشتہ سال کی اقتصادی جائزہ رپورٹ یہ کہتی ہے کہ پاکستان کے قرضوں میں ہوشرباء اضافہ ہوا ہے ۔ 2016ء میں پاکستان کے بیرونی واجب الادا قرضے73ارب ڈالر کی نفسیاتی حد کو بھی عبور کر چکے ہیں ، یعنی اس پاکستان میں جہاں اوسط تنخواہ فی ماہ ‘فی گھرانہ 5700سے 7ہزار روپے تک ہے ‘وہاں ہر نفس 1لاکھ روپے کا مقروض ہے ۔ہماری تجربہ کار حکومت نے اس سال ’مقامی بنکوں ‘سے 30ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے ۔مجموعی طور پر پاکستان کی حکومت نے گزشتہ 3سالوں میں 55ارب روپے سے زائد کے مقامی اور بیرونی قرضے حاصل کئے۔ پرانے قرضے اتارنے کیلئے نئے قرضے لئے جاتے ہیں جس کی منطق کسی کو سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔

قرضوں کی حد متعین کرنے والے قانون کو کہتے ہیں جس کے مطابق حکومت اپنے جی ڈی پی کا 60فیصد سے زائد قرض نہیں لے سکتی ہے ۔ اس کا مطلب ہوا کہ انتہائی بڑے حالات میں قرض کی حد جی ڈی پی کا 60فیصد متعین ہے جبکہ اس وقت ہمار ے قرضے اس ریڈ لائن کو کراس کر کے 65فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس وقت کے حالات میں ہمیں دوبارہ سے آئی ایم ایف سے ہی قرض لینا ہے اور سیاسی حالا ت کی وجہ سے آئی ایم ایف ’’اگر‘‘ ہمیں قرض دیتی ہے اور یقین کیجئے کہ ہماری ہڈیوں کا گودا تک نچوڑے گی۔ یہاں ’ہماری‘ سے مراد وہ عوام ہے جس کی اوقات کیڑے مکوڑوں سے بڑھ کر نہیں ہے ، یعنی میں اور آپ۔۔اشرافیہ کا ایک بیگ تو تیار رہتا ہے ‘مشکل وقت میں باہر جانے کیلئے۔

حکومت نے جو 2.75ارب روپے کے سکوک بانڈز اور ڈالر ز جاری کئے تھے‘اس کی ادائیگیاں ہونا باقی ہیں اور واضح رہے کہ اس کے پیچھے ریاست ضامن ہے ‘ حکومت نہیں۔ یہ ادائیگیاں بھاری منافع کے ساتھ کی جانی ہیں اور ہر صورت میں ہونی ہیں۔ گزشتہ سال حکومت کو 3500ارب روپے کا مجموعی ریونیو حاصل ہوا تھا ‘جس میں سے 1360ارب روپے سود کی ادائیگی کیلئے ہے۔ویسے سود کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے ‘اُس کو تو یہ حکمران سائڈ پر رکھ چکے بلکہ نواز شریف صاحب تو وفاقی شرعی عدالت کے سود کے خلاف فیصلے پر سپریم کورٹ سے سٹے تک لے آئے تھے، آپ یہ دیکھیں کہ دنیا بھرمیں سود کی شرح کو کم کیا جا رہا ہے کیونکہ سود ہی تو اصل برائی کی جڑ ہے جو پورے کاروبار کا ستیا ناس کرتی ہے ۔ مغرب اس بات کو پہچان گیا لیکن ہم مسلمانوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ سدھرنا نہیں ہے۔ کیا سود کے حوالے سے احکامات قرآن میں روز اول سے درج نہیں ہیں؟ مجموعی ریونیو کا39فیصد ہم سود میں ادا کر رہے ہیں اور ساتھ میں مگرمچھ کی طرح سے ٹسوے بہاتے ہیں کہ معیشت کا بیڑہ غرق ہویا ہوا ہے۔ کیا اعلیٰ اور تجربہ کار دماغ ہم نے پائے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے گردشی قرضے 600ارب تک پہنچ چکے ہیں، نقصان میں چلنے والے قومی اداروں کو آکسیجن دینے کیلئے 980ارب روپے قومی خزانے سے ادا ہوئے جبکہ یہ قومی ادارے اپنے مالیاتی نقصان کے باعث گزشتہ سال سے 45فیصد زیادہ قرضوں کے ساتھ 823ارب روپے کے مقروض ہیں۔کالم کی تنگی داماں کی وجہ سے مزید گہرائی میں جانا ممکن نہیں ہے۔

ابھی تو اسی حکومت نے ’قرض اتارو‘ ملک سنوارو‘ سکیم کے فراڈ کا جواب دینا ہے جبکہ موجودہ اعدادو شمار یہ ظا ہر کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے اور سب سے مہنگے قرضے حاصل کئے ہیں اور ان قرضوں کیلئے اپنے ڈیمز‘ موٹروے‘ ائیرپورٹس اور دیگر اہم قومی اثاثے’’ گروی ‘‘رکھوا چکے ہیں۔ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ گروی کے قوانین کیا ہوتے ہیں۔ ملک کو بیچ کھانے کی تعریف کیا ہوتی ہے؟ کیا کوئی میری رہنمائی کرے گا کیونکہ خشخشی داڑھی والے بزرگ شاید مکافات عمل کا شکار ہیں۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.