Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

پیارے استاد محترم

SAMAA | - Posted: Oct 9, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 9, 2017 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: سمیرا ظفر

اگر کسی بھی انسان سے  اس کے پہلے آئیڈیل کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ یقیناً اپنے استاد کو ہی اپنا آئیڈیل تصور کرتا ہے۔ کسی بچے سے پوچھیں کہ بیٹا بڑے ہو کے کیا بنو گے؟ زیادہ تر بچوں کا  جواب ہو تا ہے کہ ٹیچر بنوں گا۔ جب تک طالبعلمی کا دور چلتا ہے زیادہ تر گفتگو میں استاد محترم کا ذکر ضرور شامل رہتا ہے۔ والدین اپنی اولاد کو درسگاہ میں اس لئے داخل کراتے ہیں کہ وہ استاد پہ بھروسہ کرتے ہیں کہ ان کے بچے کی بھرپور تربیت کی جائے گی اور اس کو زندگی گزارنے کے بہترین اصول سیکھائے جائیں گے۔ یہ استاد ہی ہوتا ہے جس کے کاندھوں پہ ان سب کی تربیت کی ذمہ داری ہوتی ہے جو اس کو سونپے جاتے ہیں۔ ایک اچھا استاد بے غرض ہو کے اپنے پیشے کے ساتھ وفا داری کرتا ہے اور حق ادا کرتا ہے۔ اس ہی لئے استاد کو روحانی ماں اور باپ کا درجہ دیا گیا ہے۔ تمام پیشوں میں استاد کا رتبہ سب سے معتبر ہے۔ استاد کا ادب کسی جج سے بھی زیادہ ہے۔

مشہور مصنف مرحوم اشفاق احمد صاحب جب روم یونیورسٹی میں پروفیسر تعینات تھے تو ایک دفعہ انکا گاڑی چلاتے ہوئے چلان ہوگیا، عدالت میں حاضری ہوئی ۔ دوران ِ گفتگو جب جج کو پتہ چلا کہ وہ ٹیچر ہیں تو جج اپنی کرسی سائیڈ پر کر کے احتراماً کھڑا ہوگیا۔

اپنا تعلیمی دور یاد کریں تو اب سمجھ آتا ہے کہ ہمارے بچپن میں ہمارے پیارے اساتذہ پورے انصاف سے اور لگن سے ہمیں پڑھاتے تھے۔ اگر کسی موضوع کی سمجھ نہیں آتی تھی یا کوئی سوال سمجھنے سے رہ جاتا تھا تو استاد محترم اسکول اوقات ختم ہونے کے بعد بھی ایکسٹرا کلاس دے دیتے تھے، کبھی گھر جانے کی یا اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانے کی جلدی نا کرتے اور اس خوبی سے سمجھاتے کہ ذہن نشیں ہو جاتا۔ ٹیچر کے ساتھ ایسا رشتہ بندھ جاتا کہ جو بات اپنے والدین کو نہیں بتا پاتے وہ اپنی ٹیچر سے شئیر کرتے اور بعض شاگرد تو کلاس میں ایسے ہوتے کہ جن کے والدین سے زیادہ ان کے استاد ان کے ٹیلنٹ یا خوبیوں سے واقف ہوتے۔ استاد اور شاگرد کا ایسا لگاو  ہو جاتا کہ استاد کے گھر جانے کے بعد بھی ان کو فون پہ سوالات پوچھنا یا گھر چلے جانا۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد پہ ایسی نظر رکھتا ہے کہ اس کی کوئی بھی پریشانی کو آسانی سے بھانپ لیتا ہے اور شاگرد کو اس اعتماد میں لیتا ہے کہ جو وہ اپنے والدین سے شئیر نا کر سکے وہ استاد سے کو بلا جھجک بتا دے۔

ایک اچھے استاد کا کام صرف یہ نہیں ہوتا کہ کتابوں کے سبق رٹوا دئے جائیں اور سمجھیں کے ذمہ داری پوری ہو گئی بلکہ ایک اچھے استاد کا کام اپنے شاگرد کی بہترین تربیت ہوتا ہے۔ اس کو ایک اچھا انسان بنانا، اس کو اس قابل بنانا کے وہ معاشرے کے لئے سود مند ثابت ہو اور اپنی نسلوں کو سنوار سکھے۔ جب کہ آج کے منظر نامے پہ نظر ثانی کی جائے تو درس گاہوں کاحال دیکھ کے افسوس ہی ہوتا ہے۔ اب ٹیچنگ کے شعبے کو بھی بزنس کے طور پہ لیا جانے لگا ہے۔ استاد کو زیادہ سے زیادہ تنخواہ لینے کی فکر ہے اور درس گاہوں کے مالکان کو اپنا بزنس چمکانے کی۔ تدریسی شعبے سے بہت سے ایسے لوگ بھی وابستہ ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے یہ شعبہ بدنام ہو رہا ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے گورنمنٹ اسکول اور کالجز ایسے ہیں جہاں کبھی کبھی ہی استاد کی شکل دیکھنے کو ملتی ہے یا جو کلاس میں صرف حاضری لگانے آتے ہیں اور ان کا مقصد گورنمنٹ جاب اس لئے کرنا ہوتا ہے تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن سے زندگی گزار سکیں۔ بعض تعلیمی اداروں کا تو یہ حال ہے کہ وہاں شادی حال اور بھینسوں کے باڑے بنے ہوئے ہیں لیکن ہر ماہ پابندی سے استاد  اپنی تنخواہ لے جاتے ہیں اور بعض اساتذہ طالبعلموں کے ساتھ نوکروں والا سلوک کرتے ہیں، تربیت کرنا یا علم سیکھانا تو دور کی بات، خوب جسمانی مشقت والے کام لیتے ہیں اور ذرا سی غلطی پہ اس طرح مارتے ہیں کہ ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ اسی لئے گاؤں یا چھوٹے شہروں میں گریب والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکول یا مفت تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے ڈرتے ہیں اور جس کی وجہ سے خواندگی کی شرح کافی کم ہے۔ لہذاٰ برائے مہربانی تدریسی شعبے سے وابستہ لوگ اپنے پیشے سے انصاف کریں، یہ بات بھی بلکل صحیح ہے کہ آپ کا گزر بسر بھی اس آمدن سے ہی ہوتا ہے لیکن کم از کم اپنا وقار بلند رکھیں آپ کے کاندھوں پہ پوری قوم کا مستقبل ہوتا ہے اور اس قوم کو سنوارنے میں آپ کی مدد کے بغیر کچھ حاصل نہیں۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube