Thursday, October 1, 2020  | 12 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

پاکستان کی کرکٹ کا محور سرفرازاحمد

SAMAA | - Posted: Oct 2, 2017 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 2, 2017 | Last Updated: 3 years ago

سرفرازاحمد پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے نئے قائد ہیں۔ انھوں نے مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیم کی کمان سمبھالی ہے۔ سرفراز نے
بہت کم عرصے میں خود کو بطورکپتان منوایاہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے سرفراز کے لیے کرکٹ ٹیم کی قیادت کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل وہ انڈرنائین ٹین کرکٹ ٹیم کو2006 میں انڈرنائین ٹین ورلڈ کپ میں فتح دلواچکےہیں۔

سرفرازکاتعلق متوسط طبقے سے ہے۔ انھوں نے کراچی کے دیگر لڑکوں کی طرح گلی کی کرکٹ سے شروعات کی۔ خداداد صلاحیتوں اور لگن کی وجہ سے انھوں نے کم عمری میں ہی اچھی کرکٹ میں نام بنایا اور قومی جونیئر ٹیم کی قیادت کی۔ سرفرازکو قومی ٹیم میں سب سے پہلے 2008 میں شامل کیاگیا۔ اس وقت کامران اکمل کاطوطی بولتاتھا مگر سرفرازنےاپنےانتخاب کو درست ثابت کردکھایا۔

قومی کرکٹ ٹیم میں اس وقت کامران اکمل کے علاوہ عدنان اکمل اور ذوالقرنین بھی ان آؤٹ ہوتے رہے مگر سرفراز نے بھرپورمحنت سے خود کومنوایا اور اپنی جگہ میرٹ پربنائی۔

مصباح الحق کی قیادت میں سرفرازکی صلاحیتوں میں نکھارآیا۔یونس خان اور شاہدآفریدی نے بھی سرفرازکی کرکٹ کومزید پروان چڑھانےمیں مدددی۔سرفرازنے ورلڈ کپ 2015 میں ناقدین کے منہ اپنی کارکردگی سے بند کردئیے۔ انھوں نے آسٹریلیوی کنڈیشنز میں ماہر بیٹسمین کی طرح دنیاکی بہترین بالنگ لائن اپ کے سامنے رنز کرکے اپنا انتخاب درست ثابت کردکھایا۔

پچھلے برس شاہد آفریدی کی ٹی ٹوینٹی کرکٹ کی قیادت سے علیحدگی کے بعد سرفراز کو اس طرزکی کرکٹ میں کپتانی سونپی گئی۔ انھوں نے ون ڈے ٹیم کی کمان اظہر علی کی ون ڈے کی قیادت سے سبکدوشی کے بعد رواں برس کے اوائل میں سمبھالی۔

سرفراز احمد نے ہر طرح کی کنڈیشن میں خود کو ڈھالا اور وکٹ کے عقب میں اپنی پھرتی اور مہارت سے پاکستان کا نام ہمیشہ روشن کیا۔
رواں برس جون میں ان کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کوشکست دے کر چیمپیئنزٹرافی میں فتح حاصل کی۔ اس فتح نے سرفراز کی صلاحیت اور بطورکپتان ان کی اہلیت پر مہرلگادی۔ مشکل وقت میں بروقت فیصلے اور ٹیم کے ساتھ لےکرچلنے کی حکمت عملی نے انھیں کم وقت میں مقبول کپتان بنادیا۔ عالمی کھلاڑیوں نے بھی سرفرازکی اعلی قیادت کا اعتراف برملا کیاہے۔

مصباح الحق کے بعد اگرچہ سرفرازاحمد کے علاوہ محمد حفیظ اور اظہر علی کانام بھی قیادت کے لیے زیرگردش تھا لیکن پی سی بی نے دانشمندانہ فیصلے کرتےہوئے سرفرازکوقیادت سونپ دی۔ سرفراز پربھاری ذمہ داری ہےکہ وہ پاکستان کو تینوں طرز کی کرکٹ میں آگے لےکرجائیں۔ کرکٹ کا کھیل اب بہت تیز ہوچکاہے۔ قوانین میں تبدیلی اور فٹنس کا اعلی معیار کرکٹ کے کھیل کو بہت آگے لےجاچکاہے۔

سرفرازکے سامنے ایک بہت بڑاامتحان ہے۔انھیں مصباح الحق جیسے کھلاڑی کا جانشین بنایاگیاہے جنھوں نے پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان کےطورپرخود کومنوایاہے۔ سرفرازکو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے مزاج کے ساتھ تیز کرکٹ کا شعور پاکستانی کرکٹ میں لائیں۔ ان کی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ تمام کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلیں اور سینیئرکےساتھ مشورے کرنےمیں گریز نہ کریں۔

پسند ناپسند سے عاری ہوکر میرٹ پر ٹیم کا انتخاب کرکے وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو تمام فارمیٹس میں ٹاپ تھری میں لاسکتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کارکردگی کو بھی برقراررکھناہوگا۔ وکٹ کیپنگ کے ساتھ سرفرازکی مڈل آرڈر میں بیٹنگ بھی ٹیم کے لیے اہمیت کی حامل ہوگی۔
اس میں کوئی دورائےنہیں کہ سرفراز کےپاس صلاحیت اور اہلیت دونوں موجود ہیں۔ ان میں کچھ کردکھانےکاعزم موجود ہے۔ انھیں اندازہ ہےکہ قوم کوان سے امیدیں ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں سرفرازسے قبل امتیازاحمد،وسیم باری،معین خان اور راشد لطیف وکٹ کیپرکپتان رہ چکے ہیں۔ پاکستان کرکٹ سرکٹ میں اگرچہ ان کے پائےکاکوئی دوسرا وکٹ کیپر نہیں اس لیے انھیں کسی دباؤ میں آگئے بغیر اپنی کارکردگی کومزیدبہتر بناکراس کوبرقرار رکھناہوگا۔ سرفراز کےلیے یہ اہم ہوگاکہ وہ ٹیم کو جارحانہ کرکٹ کی جانب لےجائیں جہاں کھلاڑی مخالف ٹیم کا ڈٹ کرمقابلہ کرسکیں۔ سرفرازنے جتنی جلدی خود کو جدید کرکٹ سے ہم آہنگ کیا اور اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو اعتماد دیا تو کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم سرفرازکی قیادت میں مزید سرفراز ہوجائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube