Friday, January 22, 2021  | 7 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

ماہرہ خان ۔ ۔ ۔ تصویر کے دو رخ

SAMAA | - Posted: Sep 27, 2017 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 27, 2017 | Last Updated: 3 years ago

تحریر: ظہیر احمد

ماہرہ خان کی تصاویر نے دائیں اور بائیں والوں کو آسمانوں پر پہنچایا ہوا ہے۔ دائیں والے سیخ پا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اسکو کفر اور اسلام کی گویا جنگ بنا دیا ہے۔ ان کے نذدیک مذہب خطرے میں پڑ گیا ہے۔ دائیں والوں کی اکثریت جو خود چھپ چھپ کر ہر وہ کام کرتی ہے جو بائیں والے شائد کھلے عام کرتے ہیں مگر دو روپ رکھنے والے کھلےعام والوں کے درپے ہیں کہ بس نہیں چلتا ۔ ۔ ۔ دائیں والوں کے نذدیک بائیں والوں کا وجود ہی دھرتی پر بوجھ ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ یہاں لوگوں کو دوسروں کی آخرت اور اپنی دنیا کی فکر لگی رہتی ہے۔ اب آتے ہیں بائیں والوں کی طرف۔ ان کے لیے ہر وہ کام جس سے دائیں والوں پر تنقید کی جا سکے وہ کرنا ناگزیر ہے۔ یہ ہر اس طبقے کے بنیادی حقوق کی فکر میں ہلکان رہتے ہیں جو طبقہ انکی ذہنیت رکھتا ہو، انکو بنیادی انسانی حقوق کی بجائے بنیادی بائیں والوں کے حقوق کہا جا سکتا ہے۔ یہاں تفصیل میں جانے سے لکھنے والے کا دایاں اور بایاں  تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی لہذا اس سے اجتناب برتتے ہوئے عرض ہے کہ یہ تقسیم خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ کل ایک دائیں کا نمائندہ کسی پروگرام میں ماہرہ کا دفاع کرتے ہوئے آیات کا حوالہ دیتا دکھائی دیا حلانکہ جس سورۃ کا وہ حوالہ دے رہا تھا صرف اسی کی آگے والی آیات کا بھی حوالہ دیتا تو اسکے اپنے بیانیے یا دلائل کی نفی ہو جانی تھی۔ کل دوست نے اپنے ایک کالم میں امریکہ کے رہنے والے کسی مذہبی عالم کے خلاف ان بائیں والوں کی تنقید کا تذکرہ کیا جو یہ درس دیتے نہیں تھکتے کہ دوسروں کی ذاتی زندگی میں نہ جھانکو۔ اب کیونکہ وہ مذہبی عالم تھا اس لیے اسکی ذاتی زندگی کو اچھال کر بائیں والے اپنے ہی بیانیے کی تردید کرتے رہے۔ یہاں وہ یہ دلیل دیں گے کہ کیونکہ ایسے لوگ خود دوسروں کی زندگیوں میں جھانکتے ہیں۔ لہذا یہ ٹھیک ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ ذاتی زندگی میں نہ جھانکنے کا نعرہ ایک ڈھکوسلا ہے اورصرف اپنا زہن رکھنے والوں کو بچانے کا ایک طریقہ ہے۔

اب آتے ہیں ماہرہ خان کی تصاویر کی طرف۔ یہ یقینا انکا ذاتی معاملہ ہے مگر یہاں کچھ اسٹنڈرڈ ایسے ہیں جو کسی اور نے نہیں بلکہ ماہرہ نے مختلف انٹریوز میں خود سیٹ کیے ہیں۔ ان میں سے ایک میں ماہرہ نے کہا تھا کہ وہ اپنے لیے حدود رکھتی ہیں۔ اب یہ بات کہہ کر انہوں نے اپنا کیسا امیج بنانے کی کوشش کی اور بنا بھی ہوگا۔ پھر آپ نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے یہاں آپ جتنے زیادہ کپڑے پہنیں آپ کو اتنی عزت ملے گی۔ اب ایک امیج آپ کا اسکے بعد بھی بنا۔ پھر آپ نے یکم ستمبر کی ٹویٹ میں کہا کہ آپ سگریٹ نوشی نہیں کرتی۔ اسکے بعد بھی امیج بنا اور یہ سب باتیں امیج بنانے اور دوسری ہیروئن کے موازنہ کرنے کے لیے ہی تو ہے۔ پھر آپ نے پرانے انٹرویو میں کہا کہ بھارت سے اور بھارت کی فلم انڈسٹری سے متاثر نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی کو ہونے کی ضرورت ہے مگر اب آپ اسی انڈسٹری کی مثالیں بھی دیتی نظر آتی ہیں۔ پھر آپ نے بھارت سے آفر ہونے کے بعد یہ بھی بتایا کہ گھر والوں نے کہا کہ کچھ برا نہ کرنا تو یہ وہ سب باتیں ہیں جو کسی اور نے نہیں آپ نے کی ہیں اور ان باتوں کے ذریعے آپ نے امیج بلڈنگ کی یا ہوئی۔

آپ کا سب سے کامیاب ڈرامہ ہمسفر اس کا کردار خرد ایک ایسی لڑکی کہ لوگ تمنا کرتے ہیں کہ انکی بہو ویسی ہو۔ تو ہمارے ہاں اکثریت یہ سوچ رکھتی ہے اور وہی خرد کا کردار کرنے والی جب ایسے روپ میں سامنے آئے گی تو اکثر لوگوں کے لیے دھچکہ فطری سا عمل ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube