ہوم   >  بلاگز

سیاست کے بدلتے رنگ

2 years ago

تحریر: کاشف وحید

این اے 120 میں ضمنی انتخاب کے نتائج نے سب کو حیران کردیا ہے مگر میرے لئے حیرت کی بات تب زیادہ تھی جب لاہور میں قذافی اسٹڈیم میں گو نواز گو کے نعرے گونجنے لگے۔ ویسے تو یہ بات زیادہ حیران کن اس لئے بھی تھی کہ طویل عرصے بعد پاکستان میں اس کے اسڈیڈیم میں انٹرنیشنل کرکٹ ہورہی تھی اور لاہور کے عوام نے ورلڈ الیون کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا اور ورلڈ الیون کی ٹیم نے نا صرف دل سے اس دورے کو پسند کیا بلکہ ’’پاکستان ایک پرامن ملک ہے” کا نعرہ بھی بلند کر کے گئے۔

تیسرے میچ کے دن اسٹیڈیم سے جب “گو نواز گو” کی آوازیں آرہی تھی تو مجھے یہ تشویش ہوئی کہ آخر یہ آواز کس انکلوژر سے آرہی ہیں،  ہiN  بہت غور فکر کے بعد پتا چلا کہ یہ آوازیں 500والے انکلوژر سے آرہی تھی جہاں پر لاہور کی یا یوں کہیں کہ پاکستان کے مڈل کلاس عوام بیٹھے تھے۔ جب یہ نعرے زور زور سے لگنے لگے تو میچ کے مشہور کمنٹیٹر نے لوگوں کا دھیان دوسری طرف کیا اور مہمان ٹیم کے حق میں نعرے لگوائے مگر تھوڑی ہی دیر بعد گو نواز گو کی آوازیں پھر سے لگنے لگیں۔

اس میچ کے ٹھیک دو دن بعد لاہور میں ہی ضمنی الیکشن تھا جو کہ بالآخر میاں نواز شریف کی بیوی کلثوم نواز نے جیت ہی لیا۔ایک ہی شہر میں دو مختلف خیالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پورا لاہور اب پاکستان مسلم لیگ ن کا نہیں رہا اس کی وجہ حالیہ رزلٹ میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک بڑھنا بھی ہے۔

ضمنی الیکشن میںشیر کا ووٹ کم ہو کر انچاس فیصد تک آگیا جبکہ دو ہزار تیرہ میں نون لیگ کو ڈالے گئے ووٹوں کا اکسٹھ فیصد حصہ سمیٹا تھا۔مسلم لیگ نون کا خسارہ تحریک انصاف کا منافع بن گیا۔ سال 2013 کے عام انتخابات میں بلے کو چونتیس فیصد ووٹ ملے تھے، جو ضمنی انتخاب میں بڑھ کر سینتیس فیصد ہوگئے۔ اس الیکشن میں سب سے زیادہ خسارے پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی رہیں کیونکہ پیپلزپارٹی کا ووٹ ایک اعشاریہ سات فیصد سے کم ہو کرایک اعشاریہ ایک چار رہ گیا جبکہ جماعت اسلامی کا ووٹ اعشاریہ تریسٹھ فیصد سے کم ہوکر اعشاریہ سنتالیس فیصد تک آگیا ہے۔

اس ساری صورتحال میں مسلم لیگ ن کی شہرت پر فرق پڑنا ایک تشویش کی بات ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ کیاہے؟ کیا اس کی وجہ چوہدری نثار کی ناراضگی یا پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا اچانک منظر سے غائب ہونا ہے؟کیوں کے چوہدری نثار اپنے حالیہ انٹرویوز میں خواجہ آصف پر تنقید کرتے رہے ہیں اور یہی نہیں وہ اکثر اس الیکشن میں پوری کمپین چلانے والی مریم صفدر کو بچی کہہ چکے ہیں اور کچھ سیاست دانوں کے مطابق چوہدری نثار کی ناراضگی وجہ مریم ہی ہیں۔

دوسری جانب چوہدری نثارکے ان بیانات پر شہبازشریف کی خاموشی چوہدری نثاری کی حمایت کرتی نظر آتی ہے۔ ان ساری باتوں کو پی ایم ایل این کو بہت سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کیونکہ اب جنرل الیکشن میں وقت ہی کتنا رہ گیا ہے۔ دوسری جانب چوہدی نثار کی ان اچانک ناراضگیوں کی وجہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے اگر واقعی پارٹی کے کسی سینئر ساتھی سے ان کے سخت اختلافات ہیں یا پھر ان کا مسئلہ صرف مریم سے ہی ہے تو پھر آخر چوہدری نثار ابھی تک پارٹی میں کیوں موجود ہیں؟ وہ جنرل الیکشن بطور آزاد امیدوار یا پھر کسی اور پارٹی سے کیوں نہیں لڑتے؟۔

یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب انہیں زرور دینا ہوگا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں