Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

حواسوں پہ قابض منفی ٹیکنالوجی

SAMAA | - Posted: Sep 22, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 22, 2017 | Last Updated: 4 years ago

انسان کو ہمیشہ مافوق الفطرت مخلوقات، ایڈونچرز یا انوکھی صلاحیتوں کے حامل انسان نما مخلوق کے راز کو کھوجنے میں دلچسپی رہی ہے۔ اس دلچسپی کے مواد پہ کافی فلمیں، ڈرامے ،ناول یا افسانے لکھے جا چکے ہیں۔ جن میں ان مخلوقات کے کردار کو ایک خاص انداز سے پیش کیا جاتا۔ ان میں سے بعض کردار تو اس قدر مشہور ہوئے کہ لوگوں نے اپنی حقیقی زندگی میں ان کا بہت اثر لیا اور حتیٰ المکان کوششوں تک ان کو اپنانے کی جدوجہد کی۔ مثلاً سپر مین، اسپائڈر مین یا جیمز بونڈ کا کردار، جو کہ اپنے منظرِ عام پہ آنے کے بعد سے آج تک ویسی ہی مقبولیت کے حامل ہیں اور بچوں کے ساتھ ساتھ بہت سی نوجوان نسل نے ان کا اثر قبول کیا۔ کرداروں کو کہیں نا کہیں سے متاثر ہو کے تخلیق کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ڈریکولا کے بار ے میں کہا جاتا ہے کہ ڈریکولا کا کردار تخلیق کرنے کا آئیڈیا تاریخ کے مطالعہ سے آیا۔

ویلاڈ سوئم نامی ایک جاگیردار ٹرانس سلوانیہ یورپی خطے سے تعلق رکھتا تھا،وہ نہایت ظالم اور سفاک تھا ۔ اپنے دور میں وہ ۔گاڑنے والے۔۔کے نام سے مشہور تھا۔ اس نے تقریباً چالیس ہزار سے لے کے ایک لاکھ تک کے افراد کو قتل کیا ۔اس کے قتل کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ وہ آدمی کو تیز دھار کھمبے میں پرو دیتا تھا اور ان کا خون بھی پیتا تھا۔ ویلاڈ نے ان لوگوں کو قتل کیا جن کو وہ اپنی سیاسی دشمن یا برائی کا دوست سمجھتا تھا۔ تاہم ٹرانس سلوانیا کے آبادکاروں کی کچھ تحریروں سے ایسے شواہد بھی ملتے ہیں کہ رومانیا کے لوگوں کی نظر میں وہ ہیرو تھا کیونکہ اس نے ترک حملا آواروں کو اپنے خطے سے باہر نکال دیا تھا۔

ویلاڈ سوئم کا باپ، ویلاڈ ڈوئم ڈراکول تھا ۔ ڈراکول اس کو بہادری کی بنا پہ کہا جاتا تھا،اسی نسبت سے ویلاڈ سوئم کا نام ویلاڈ سوئم ڈریکولا پڑا۔ جس کا مطلب تھا ڈریکولا کا بیٹا اور یہ ہی نام اس کے دور کے سکوں پہ بھی شائع کیا گیا۔

ڈریکولا ایک منفی کردار تھا اور یہ اس قدر مشہور ہوا کہ کسی بھی ولن نما انسان کو ڈریکولا کہا جانے لگا، اگر کارٹون مویز کی بات کی جائے تو ڈوریمون، اوگی ، یا بھیم کا کردار بھی بچوں کو بگاڑنے والے ہی ہتھیار ہیں مثلاً ڈریمون کا ہیرو نوبیتا ایک کام چور ، سست اور نالائق لڑکا ہوتا ہے جس کو اسکول جانا بلکل نہیں پسند ، پھر بھی اس کو ہیرو کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے، ان کارٹونز کو دیکھے بغیر بچوں کا دن نہیں گزرتا اور ان سے متاثر ہو کے وہ بھی ان جیسے ہی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

ٹیکنالوجی نے جس تیزی سے ترقی کی ہے اتنی ہی تیزی سے الیکٹرونک میڈیا نے جدت اختیار کی۔ اب اسکرین پہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اس طرح کے منظر دکھائے جاتے ہیں کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے اور اس ٹیکنالوجی سے نا واقف لوگ اس کو سچ سمجھ بیھٹتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ سائینس کی ترقی کا جتنی فائدہ ہوا ہے ، کرمنل مائنڈ کے حامل لوگوں نے اس کا منفی استعمال کر کے اتنا ہی نقصان پہنچایا ہے ، اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی گھر گھر رسائی کے بعد تباہی کے خطرات بھی زیادہ ھوگئے ہیں۔فلمیں اور ڈراموں کے ساتھ ساتھ اب موبائل گیمز کے ذریعے بھی لوگوں کو ورغلایا جانے لگا ہے اور ایک خاص ایجنڈے کے تحت معصوم لوگوں کو، خاص کر نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ جس کی تازہ مثال بلیو وہیل نامی گیم کا وائرل ہو جانا ہے ۔ جس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ گیم کھیلنے والا نفسیاتی دباوٗ کا شکار ہو جاتا ہے اور دی گئی ٹاسک کو پورا کرتے کرتے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیھٹتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں کہ لوگوں میں کوئی گیم اس قدر وائرل ہوا بلکہ اس سے پہلے کینڈی کرش، لوڈو اسٹار بھی لوگوں کے دماغوں پہ بری طرح حاوی ہو چکے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ حاسوں پہ قابض ہو چکے ہیں بس فرق یہ ہے کہ بلیو وہیل نے سیدھا سیدھا نوجوان نسل کی جان لینے کا تہیہ کیا ہے۔اب اس سے اپنی نوجوان نسل کو کیسے بچایا جائے ؟ یہ خاص کر والدین اور تعلیمی اداروں کا کام ہے کہ نئی نسل میں اتنا شعور پیدا کر دیں کہ وہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں، حقیقی زندگی اور فکشن کا فرق سمجھیں، ایسے کسی منفی پروپیگینڈ کا حصہ نا بنیں جن سے ان کا مستقبل بھی خراب ہو جائے اور ان کے ارد گرد کے لوگ بھی متاثر ہوں۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube