Friday, October 30, 2020  | 12 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

کیا ہم کرئہ ارض کو تیسری جنگِ عظیم کی طرف لے جار ہے ہیں؟

SAMAA | - Posted: Sep 20, 2017 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 20, 2017 | Last Updated: 3 years ago

تحریر : کامران اسلم ہوتی

شمالی کوریا اور امریکہ ایک دوسرے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو آنے والے دنوں میں کرئہ ارپر بسنے والوں کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر مختلف ممالک میں کئی سالوں سے خانہ جنگی کی صورتحال ہے۔ طاقت ور ممالک اپنی پراکسی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عنقریب اس دنیا میں تیسری عالمی جنگ ہونے والی ہے ۔اس سے پہلے بھی جو دو عالمی جنگیں ہوئیں انہوں نے اس دنیاکو سوائے تباہی و بربادی کے کچھ نہ دیا۔

سن 1914 سے 1918 تک دنیا میں پہلی جنگِ عظیم جاری رہی، ا س جنگ میں تقربیاً پوری دنیا نے حصہ لیا سوائے چند ممالک کے یوں یہ جنگ تاریخ کی سب سے بڑی جنگوں میں شمار ہو تی ہے۔ اس جنگ میں تقریباً نو ملین مردِ میدان ہلاک ہوئے اوراتنے ہی افراد غربت،بھوک اور بیماری کی نذر ہو گئے اور تقریباً دو کروڑ لوگ جسمانی طور پر ناکارہ ہوگئے تھے ۔ اس جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ جیسی عظیم سلطنت کا بھی شیرازہ بکھر گیا۔ اس جنگ میں پہلی بارکیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ پہلی جنگِ عظیم میں جانی اور مالی لحاظ سے اتنا نقصان ہوا کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس جنگ سے پہلے ہونے والی اموات ان کو اگر ایک طرف رکھا جائے اور پہلی جنگِ عظیم جتنی اموات ہوئیں اُن کا حساب لگایا جائے توان سے زیادہ تھیں۔

جنگِ عظیم اول کی تباہی کو ابھی اکیس سال ہوئے تھے کہ دنیا میں دوسری عالمی جنگ کا طبل بج گیا۔ دوسری عالمی جنگ میں پہلی عالمی جنگ سے کئی گناہ زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ کئی ممالک کی معیشت کا جنازہ نکل گیا جن میں یورپی ممالک سرفہرست تھے۔ دوسری عالمی جنگ میں 61 ممالک نے حصہ لیا اورلگ بھگ پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے سب سے زیادہ ہلاکتیں روس میں ہوئیں جہاں دو کروڑ افراد ہلاک ہوئے اور زخمی ہونے والے اس سے کہیں زیادہ تھے ۔ دوسری عالمی جنگ کا اختتام انتہائی تباہ کن انداز میں ہوا، امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹمی حملے کیے یہ ایٹمی حملے اس سے پہلے دنیا نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اس حملے کے بعد جاپان کے دونوں شہروں میں تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

آج سے ستر یا سو سال پہلے اتنی جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی اس کے باوجود اتنی تباہی ہوئی آج کے جدید دور میں جہاں ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقت ور ہائیڈرو جن بم موجود ہے ۔ اگر ایک ایٹم بم شہر میں ایک کلو میٹر تک تباہی پھیلا سکتا ہے تو ہائیڈرو جن بم پورا شہر تباہ کرسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں نو ممالک کے پاس پندرہ ہزار کے قریب ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اس کے علاوہ مختلف اقسام کے جدید ہتھیار فائٹر جیٹ،ڈرون، ایٹمی آبدوزیں ،ٹینکس اور ہیلی کاپٹر وغیرہ بھی موجود ہیں جو صرف اور صرف اس دنیا کو تباہ کرنے کے کام آئیں گے، اب یہ زمین کے بسنے والے انسانوں پر ہی منحصر ہے کہ ہم اپنی دنیا کو جنگوں سے تباہ کریںگے یا مل جل کر اسے آبادرکھیںگے۔

 

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube