خوش فہمی

By: Muhammad Tahir Nusrat
September 14, 2017

قوم اس وقت دوانتہاؤں میں بٹ گئی ہے۔ ایک کا خیال ہے نواز شریف کرپشن کے الزامات میں داغدار ہیں، نااہل ہیں اور اس میدان کارزار کے اصل ہیرو عمران خان ہیں۔ جبکہ دوسرا ٹولہ بھی کچھ ایسے ہی الزامات اپنے ہی انداز میں لگا رہا ہے اس کی نظر میں نواز شریف ہی مردبحران اور مرد میدان ہیں۔

این اے ایک سو بیس کے معرکے سے پہلے پانامہ فیصلے پر تحفظات سے لیکر عدلیہ مخالف بیانات اور پھر لاہور مارچ تک، میاں صاحب نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ شہر شہر، گاؤں گاؤں اور گلی گلی عوام کا جذبہ جگایا۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا ورد بارہا کیا۔ کچھ لوگ تو یہ بھی سوچنے لگے کہ بڑے میاں صاحب ایک بار پھر بڑے طمطراق سے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونگے مگر شاید وقت کو ایسا مذاق پسند نہیں۔

ہاں مانتے ہیں،ایسی ہی رت تھی، ایسی ہی فضا تھی اور تقریباً ایساہی زمانہ تھا۔جب وقت نے وعدے وعید کئے، محبت کی ابتدا کی مگر کیا کریں کہ وقت کسی سوہنی کا ماہی وال نہیں کہ اپنی محبوبہ کیلئے مصیبتیں جھیلے، فقروفاقہ کاٹے۔ وقت تو وہ تیر ہے جو حالات کا سینہ چیرکرپارنکل جاتا ہے۔کسی کیلئے اس کے زخم یاوری تو کسی کیلئے خواری کا سبب بن جاتے ہیں۔

نواز شریف کو یہ خوش فہمی اب بھی ہے کہ پوری قوم ان کیلئے جان دینے کو تیار ہے۔وہ ایک اشارہ کریں گے اور زخمی شیروں کے ریوڑکسی کوبھی کاٹ ڈالنے کیلئے میدان میں اترجائیں گے۔ان تِلوں میں کتناتیل باقی رہ گیاہے؟اس کا جلدپتہ لگ جائے گا۔ویسے میاں صاحب کا یہ کہنا کہ انہیں وزارت عظمیٰ کی کرسی سے پیار نہیں بالکل ٹھیک اور بجا فرمایا ہے۔بڑے میاں بڑے سمندر کے بھنور میں ایسے پھنس گئے ہیں کہ انہیں اس سے نکلنا محال لگ رہا ہے۔ احتساب عدالت نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر چار ریفرنسز میں عملی کارروائی کا آغاز کردیا ہے جن میں تین ریفرنسز نواز خاندان کے خلاف ہیں۔ کسی کو وبال آئے یا جلال مگر حقیقتِ حال یہی ہے کہ احتساب کا شکنجہ مزید سخت ہوتا جائے گا۔ لیکن پھربھی یہ نعرے لگ رہے ہیں کہ ’’کوئی روک سکتا ہے تو روک لے ہم پھر آرہے ہیں‘‘۔

عمران خان کی یہ خوش فکری (یا شاید کوتاہ اندیشی) کہ پانامہ فیصلے کے بعد ملکی ہوائیں ان کے حق میں چلنے لگی ہیں۔ انہیں پکا یقین ہے ہر گھر سے بھٹو نکلے نہ نکلے، ہر چوراہے پر نواز تیرے جانثار کی آواز لگے نہ لگے مگرکپتان ہر دلعزیز ہے، سب کا ڈارلنگ ہے۔ ان کے خیال میں نواز و شہباز دغا باز ہیں۔ آصف علی زرداری چالباز ہیں مگروہ(عمران خان)ہرزبان کی آواز ہے، ہر سازندے کا ساز ہے۔ بس انتخابات ہونے ہیں اور ان کیلئے وزارت عظمیٰ کی کرسی پکی۔ موصوف یہ بھول رہے ہیں کہ صرف ایک ڈینگی نے پوری کی پوری تبدیلی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اسپتالوں میں اصلاحات کے دعویداروں کی گھگھی بندھ چکی ہے مگر خود فریبی ایسی کہ اس سے نکلنے کیلئے وہ تیار ہی نہیں۔

خوش فہمی کی اس دوڑ میں پیپلزپارٹی کے جیالے بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ آصف علی زرداری پر نیب ریفرنسز سمیت مختلف کرپشن کے کیسز کیا ختم ہوئے خود کو بادشاہ گر سمجھنے لگے۔ ایان علی کیس ہو یا ڈاکٹر عاصم کی مشکل، جیالوں کی جماعت کے شریک سربراہ خوش ہیں کہ بالآخر وقت نے پھر سے مہربانی کردی۔ ستارے گردش سے نکل آئے۔ معاملات اچھے ہونے لگے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ابھی سے انتخابی مہم شروع کردی ہے۔ سندھ ہو،پنجاب یا پھر خیبرپختونخوا زرداری صاحب نے جوشیلے صاحبزدے کو مخالفین پرگرجنےبرسنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔اسے بھی خوش فہمی سمجھیں یا پھر تدبیرکازعم،بلاول بھٹو تو بارہا یہ دعویٰ بھی کرچکے ہیں کہ اگلی حکومت ان ہی کی ہوگی۔

عوام کی توجہ کھینچنے کیلئے سیاسی پہلوان جیسے چاہیں اسٹنٹس دکھائیں۔ جیسے چاہیں اپنی ڈرامے بازیوں سے حاضرین سے داد سمیٹیں۔ کیونکہ جنگ، محبت اور سیاست میں سب کچھ جائز ہے۔ مگر زرا خیال رہے کہ عوام اتنے بے وقوف نہیں۔ عوام کا حافظہ کمزور ہوگا مگر اتنا بھی نہیں کہ کھرے اور کھوٹے میں تمیز نہ کرسکیں۔

سیاست کی ان بے یقین بستیوں میں آجکل بے قراریوں کا دور دورہ ہے۔ ہر لمحہ بدلتی صورتحال سے ملک میں بھونچال کا سماں ہے۔ جو سب پر عیاں ہے۔ کچھ سیاسی پنڈتوں کا دعویٰ ہے کہ پانامہ فیصلے کے بعد ملکی سیاست نئے فیز میں داخل ہورہی ہے۔ یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا کونسی جماعت وفاق کی علامت ٹھہر سکتی ہے۔

البتہ اگلے انتخابات کیلئے رجحانات کا جائزہ لینا ہے یا اس سے متعلق کچھ اندازہ لگانا ہے تو اس کیلئے این اے ایک سو بیس کا دنگل ہی کافی ہے۔ تمام سیاسی بھولو پہلوانوں کے بازو کتنے آزمائے ہوئے ہیں؟ حریف کو پٹخنے کیلئے کتنا دم خم ہے؟ سیاسی اکھاڑے کا یہ تماشہ پورا پاکستان جلد دیکھ لے گا، بس ایک ذرا صبر کہ معرکہ اب دور نہیں۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.