آئی جی سندھ بمقابلہ سندھ حکومت

By: Samaa Web Desk
September 13, 2017

تحریر: عمیر سولنگی

سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات بھی بحال کردیے ہیں مگر اس فیصلے کے بعد پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے مختلف بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ پچھلے 2 سال سے چلنے والا تنازعہ اب تک حل نہیں ہوسکا ہے۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اکثر سرخیوں میں رہتے ہیں۔ آئی جی سندھ کہتے رہے ہیں کہ وہ بے اختیار ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کا مؤقف یہ ہے کہ آئی جی کی تعیناتی وزیراعلی کا آئینی حق ہے۔

کچھ ماہ قبل بھی سندھ حکومت نے آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو خط لکھا تھا، جس میں عہدے کے لیے سردار عبدالمجید دستی، خادم حسین بھٹی اور غلام قادر تھیبو کے ناموں کی تجویز دی تھی۔ اس خط کے بھیجے جانے کے اگلے ہی روز حکومت سندھ نے اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کرتے ہوئے 21 گریڈ کے افسر سردار عبدالمجید کو قائم مقام آئی جی سندھ مقرر کردیا تھا۔

بعدازاں ایک شہری کرامت علی نے حکومت سندھ کی جانب سے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے آئی جی سندھ کی معطلی سے متعلق سندھ حکومت کا نوٹیفکیشن معطل کردیا تھا۔

سال 2002 سے 2017 تک 13 آئی جی سندھ تعینات کیے گئے مگر اے ڈی خواجہ انتہائی مضبوط ترین آئی جی سمجھے جاتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ پولیس کی خراب کارکردگی کا ذمہ دار کون ہے؟

محکمہ میں ہونے والی کرپشن اور بڑھتے ہوئے جرائم کا ذمہ دار کون ہے؟

آئی جی یا وزیراعلی؟

دنیا بھر میں پولیس کو دیکھ کر عوام کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر ہمارے ملک بالخصوص کراچی میں عوام ڈاکوؤں سے زیادہ پولیس سے ڈرتے ہیں۔

شہر کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا نا رکنے والا سلسلہ پھر شروع ہوچکا ہے۔ پچھلے ماہ طارق روڈ پر ایک نجی بینک میں ڈکیتی ہوئی اور مزاحمت پر بینک منیجر جاں بحق ہوا جس کے بعد وزیرداخلہ اور آئی جی نے الگ الگ بیانات جاری کئے اور ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کے دعوے کئے مگر اس واقعے کے کچھ روز بعد پھر ایک نجی بینک میں ڈکیتی ہوئی اور وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

اکثر پولیس افسران اپنی تقریروں میں جونیئر اہلکاروں کو پولیس اور عوام کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے زور دیتے ہیں لیکن میری نظر میں تو پولیس اور عوام کے تعلقات بہت اچھے ہیں جس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ ہماری پولیس راہ چلتے شخص سے بھی بلا جھجک چائے پانی کے لئے پیسے مانگ لیتی ہے۔ جس طرح چھوٹے بچے اپنے والدین سے پہلے جیب خرچ کے لئے 100 روپے مانگتے ہیں اور پھر 20 روپے بھی مل جائیں خوشی خوشی لے لیتے ہیں یہی حال چوکیوں پر کھڑے پولیس والوں کا ہے۔

دو ماہ قبل میرے ایک دوست میاں فضل الہی جو کراچی ایئرپورٹ کے قریب کھوسہ گوٹھ میں رہائش پذیر ہیں انہوں نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ آج صبح انکی بیٹی سے کالج جاتے ہوئے گھر کے قریب سے دو مسلح ملزمان نے پرس چھین لیا ہے جس میں موبائل فون اور شناختی کارڈ اور چند دیگر کاغذات موجود تھے۔ چونکہ اس طرح کے واقعے کے بعد نادرا سے شناختی کارڈ کے دوبارہ حصول کے لئے ایف آئی آر ایف آئی آر کٹوانا لازم ہوتی ہے تو وہ تھانے چلے گئے، ڈیوٹی افسر نے پہلے چائے پانی کا مطالبہ کیا مگر جب انہوں نے غصے کا اظہار کیا تو انہوں نے 2 گھنٹے تک انہیں بٹھائے رکھا اور کافی تنگ کرنے کے بعد ایف آئی آر کاٹ دی۔ چند روز پھر ان کے بیٹے اور اس کے دوستوں سے 2 موٹرسائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے موبائل فون چھینا اور باآسانی فرار ہوگئے۔ جب میں نے ایف آئی آر درج کروانے کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ پہلے بھی 2 گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ایف آئی آر کٹوائی مگر کچھ نہیں ہوا، اب کیا فائدہ ہوگا۔ اس واقعے کا تذکرہ کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ کیوں عوام کا پولیس سے بھروسہ اٹھتا جارہا ہے۔

صرف کھوسہ گوٹھ ہی نہیں بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں آئے روز ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں مگر پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آئی جی پولیس کون ہے یا کس نے تعینات کرنا ہے عوام تو بس امن وسکون اور جان و مال کی حفاظت چاہتے ہیں۔ امید ہے سندھ حکومت اور آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ آپس کی لڑائی کو ختم کر کے ان جرائم پیشہ افراد کے خلاف مل کر لڑیں گے جنہوں نے شہریوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.