سیٹی بجی اور کھیل سجا، مگر لاہور میں ہی کیوں؟ 

By: Naveed Nasim
September 13, 2017

تحریر: نوید نسیم

زمبابوے کرکٹ ٹیم اور پاکستان سپر لیگ فائنل کے کامیاب انعقاد کے بعد لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پھر سے ایک بار سیٹی بجی اور کھیل سجا جب ورلڈ الیون اور پاکستانی ٹیم کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا گیا جو کہ پاکستان نے جیت لیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان صرف لاہور تو نہیں؟ ایسا بھی نہیں کہ پورے ملک میں دہشت گردی کا خطرہ ہے مگر لاہور دہشت گردی سے محفوظ ہے۔ اس لئے پہلے زمبابوے ٹیم کا دورہ پھر پی ایس ایل فائنل لاہور میں منعقد کیا گیا اور اب ورلڈ الیون کے ساتھ تین ٹی ٹونٹی بھی لاہور میں ہی کھیلے جا رہے ہیں۔ کیا باقی شہروں کے عوام کرکٹ کے دیوانے نہیں؟ کیا لاہور اور پنجاب کی انتظامیہ باقی شہروں اور صوبوں سے زیادہ چوکنی ہے؟۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ بھی لاہور کے لبرٹی چوک میں ہوا تھا اور اس وقت بھی پنجاب میں حکومت مسلم لیگ نواز کی تھی جس کے وزیراعلی میاں شہباز شریف ہی تھے جو آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ اگر پنجاب حکومت اتنی ہی چوکنی اور بہادر ہے تو سری لنکن ٹیم پر حملہ ہونے ہی کیوں دیا؟ اُس وقت ہی ایسے سیکیورٹی انتظامات کرلیتی کہ یہ حملہ نا ہوتا، جس کا خمیازہ پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی 2009 میں سری لنکن ٹیم پر ہونیوالے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ صوبائی حکومت سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کو بھی باخوبی اندازہ تھا کہ پورے ملک کو دہشتگردی کا سامنا ہے۔ پھر نواز لیگ کی پنجاب حکومت نے کیوں ایسے اقدامات نہیں کئے کہ سری لنکن ٹیم پر حملہ نا ہوتا؟۔

یہ حقیقت ہے کہ باقی 3 صوبوں کی نسبت پنجاب میں گورننس بہتر ہے مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ کمزور صوبائی حکومتوں کی سزا پاکستان کے دیگر شہروں میں رہنے والے کرکٹ شائقین کو دی جائے۔ زمبابوے کے دورہ پاکستان کے موقع پر اور پھر پی ایس ایل فائنل کے بعد ورلڈ الیون کے ساتھ ٹی ٹونٹی  میچز میں دیگر شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد لاہور میچ دیکھنے آئی۔ لیکن پاکستان کا ایک عام شہری کرایوں، ٹکٹ اور کھانے پینے پر آنیوالے اخراجات پر ہزاروں روپے خرچ نہیں کر سکتا۔ لاہور کے علاوہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی بھی ورلڈ الیون کے ساتھ میچز کا انعقاد کرسکتا ہے۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اور وفاقی حکومت کی طرف سے کبھی شہرِ کراچی کو اس قابل سمجھا ہی نہیں گیا کہ کراچی میں بھی لاہور جیسے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کرکے انٹرنیشنل میچز کا انعقاد کروایا جاسکے۔

اس ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی جس کی صوبہ سندھ میں حکومت ہے۔ اس کی طرف سے ایسا کوئی قدم بھی نہیں لیا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور وفاقی حکومت لاہور کے علاوہ کراچی میں بھی ورلڈ الیون کے ساتھ میچز کروانے کے بارے میں سوچتی۔ شائد پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہیڈ آفس لاہور میں ہونے کی وجہ سے تمام انٹرنیشنل میچز کا انعقاد لاہور میں کیا جاتا ہے۔ جوکہ دیگر صوبوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ایس ایل فائنل کی طرح ورلڈ الیون کے ساتھ بھی میچز کا انعقاد لاہور میں بہترین کیا گیا۔ ورلڈ الیون سے پہلے ٹی ٹونٹی سے پہلے ہی پورے لاہور کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔ پہلے میچ والے دن قذافی اسٹیڈیم جانے والے تمام راستے بند کردئیے گئے اور دیگر سڑکوں پر بھی سیکیورٹی کے بہترین اقدامات کئے گئے۔ لیکن ایسے ہی تمام اقدامات کسی دوسرے صوبے کے شہر میں بھی کئے جاسکتے تھے۔ جس طرح قذافی اسٹیڈیم کے گرد علاقوں میں عوام کو پابند کیا جاتا ہے۔ کراچی یا پھر پشاور کے شہری بھی ان پابندیوں کو لاہوریوں کی طرح خوش دلی سے قبول کریں گے۔

چلیں زیادہ نا سہی، ورلڈ الیون کے ساتھ تین میچز میں سے دو میچ لاہور میں اور ایک کراچی میں ہی منعقد کیا جاسکتا تھا۔ تاکہ دنیا کو پیغام جاتا کہ لاہور نہیں بلکہ پورا پاکستان محفوظ ہے۔ لاہور میں میچز کے انعقاد سے دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستانی حکومت نے شہرِ لاہور میں سیکیورٹی کے ایکسٹرا انتظامات کرکے میچز کا انعقاد کروارہی ہے۔ جوکہ کسی حد تک درست بھی ہے۔ مجھ سمیت تمام کرکٹ دیوانوں کی خواہش ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو اور پاکستان کے ہر شہر میں انٹرنیشنل میچز کا انعقاد ہو۔ کیا ہوا ابھی لاہور میں ہو رہے ہیں۔ ہے تو وہ بھی پاکستان کا شہر ہی۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.