روہنگیا کی مظلومیت اور ہماری منافقت

By: Samaa Web Desk
September 13, 2017

****تحریر : فرخ عباس****

 

برما میں روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر پاکستان بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، ہر مذہبی جماعت کی یہی کوشش ہے کہ وہ ایسا مظاہرہ کرے کہ برما کی حکومت ہاتھ جوڑ کے معافی مانگتے ہوے روہنگیا مسلمانوں کو نا صرف اپنی شہریت دے دے بلکہ ان پر مظالم کرنے والوں کو بھی کان سے پکڑ کے امت مسلمہ کے حوالے کر دے ، عالمی سطح پر دیکھا جائے تو ترکی ہو یا ایران، پاکستان ہو یا سعودی عرب سب ممالک ہی برما کے مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھاتے نظر آرہے ہیں، یقین مانیں ہم جیسے بے حس انسانوں کو ان تمام مظاہروں اور مطالبوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے، ہم جیسے منافق تو خوش ہیں کہ چلو کسی بہانے ان مذہبی جماعتوں اور اسلامی ریاستوں کی نیند تو ٹوٹی، یقین مانیں ستر ہزار پاکستانیوں کے قاتل طالبان کو شہید کہنے والی جماعت اسلامی کے مظاہرے میں ملک دشمن دہشتگرد  کالعدم جماعتوں کے جھنڈے اور نعرے نا ہوتے تو کون یقین کرتا کہ جماعت اسلامی دار اصل خود کو طالبان کی ضد کہتی ہے ، اب یہ دعوی کس حد تک درست ہے، اس کا فیصلہ میں اپنے قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

اسلامی ممالک کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے اسلامی جمہوریہ فیسبک کی بات کرتے ہیں کہ جہاں سائبر مجاہدین اس وقت جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں اس وقت تک برما میں ادوگانی جمہوریہ ترکی اور روحانی جمہوریہ ایران کی فوجیں نا صرف داخل کروا چکے ہیں بلکہ اس سے آدھا برما فاتح کروانے کے ساتھ ساتھ روہنگیا پر تشدد میں ملوث انتہا پسندوں کو گرفتار کروا کے کیفر کردار تک بھی پہنچا چکے ہیں ، یہ اور بات ہے کہ ترکی میں اردوگان کے سیاسی مخالفین اور کردوں کا معاملہ برما میں روہنگیا کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے شاید کچھ زیادہ ہی برا ہو ، ایران میں بھی بہائی کمیونٹی سے کیا جانے والا  سلوک شاید ہی کچھ مختلف ہو، بات کریں امہ کے سرپرست اعلی سعودی عرب کی تو، خیر یہ بھی ایک سوال ہے کہ اس بارے میں بات کی جائے یا نہیں، اور یہ بھی ایک سوال ہے کہ اس بارے میں سوال کرنے کے بعد انسان کتنی دیر تک دائرہ اسلام کے اندر قیام پذیر رہ سکتا ہے اس سے پہلے کہ مذہب کے ٹھیکیداروں کی جانب سے اسے ٹھڈے مار کے اس دائرے سے باہر دھکیل دیا جائے ، لیکن اب بات نکلی ہے تو دور تلک تو جائے گی، جو کچھ امت کے سرپرست کی جانب سے یمن میں کیا جا رہا ہے وہ شاید روہنگیا پر روا رکھے جانے مظالم سے اگر زیادہ نہیں تو کم تو کسی صورت نہیں ہوگا۔

بات کریں چاند میری زمین پھول میرا وطن پاکستان کی تو یہاں کے مسائل پر بات کرتے ہوے سب سے پہلا سوال جو انسان خود سے کرتا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کے مسائل پر بات کرنے کے بعد مجھے دائرہ اسلام سے پہلے خارج کیا جائے گا یا دائرہ حب الوطنی سے ، خیال رہے دونوں دائروں سے ایک ہی وقت میں خارج کیے جانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ برما میں روہنگیا پر مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے میرے ملک پاکستان میں احمدی کمیونٹی، شیعہ برادری اور ہندو و مسیح کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک دیکھ کر تو شاید روہنگیا بھی غمزدہ ہو جایں ، جہاں اقلیتوں کے پینے کا برتن بھی الگ رکھا جاتا ہو وہاں کسی اور ملک میں اقلیت سے نا روا سلوک کی شکایت محض منافقت ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں کے ان مسائل پر نا کوئی مذہبی جماعت امت مسلمہ کا منجن بیچنے مارکیٹ میں اترتی ہے اور نہ کوئی سیاسی جماعت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے لئے آواز اٹھاتی دیکھی جاتی ہے۔ یقین جانیں برما میں روہنگیا کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم پر جہاں درد دل رکھنے والے انسان کی آنکھیں نام ہوتی ہیں وہیں اپنے ہاں اس قسم کے حالات دیکھنے کے بعد انسان کے دل میں وہ ٹیس اٹھتی ہے کہ جس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ، پاکستان بنانے والوں میں جو لوگ شامل تھے جنہوں نے بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں شامل تھے اگر آج وہ زندہ ہوتے تو موجودہ حالات کو دیکھ کر ان کے جذبات بھی کچھ مختلف نا ہوتے۔

پاکستان کی ترقی اور بقا اسی میں ہے کہ اس ملک کا ہر شہری نا صرف یہاں کا شہری تسلیم کیا جائے بلکہ برابر کا شہری تقسیم کیا جائے اور تمام شہریوں کے یکساں حقوق اور ان حقوق کے تحفظ کو ریاست یقینی بناے، اور جو لوگ اس ملک کی بہتری چاہتے ہوئے چند نا پسندیدہ لیکں حقائق پر مبنی مسائل پر بات کرتے ہیں ان پر فتوے اور غداری کے الزامات لگانے سے گریز کیا جائے۔ صرف اسی صورت ہی تحریک پاکستان سے تکمیل پاکستان تک کا سفر مکمل ہو سکتا ہے۔

فرخ عباس صحافی ہیں , سیاسی حالات اور سماجی مسائل پر لکھتے ہیں- بلاگز میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.